گلگت بلتستان کی تیسری قانون ساز ی اسمبلی کی تشکیل  کے لئے پولنگ شروع ہوچکی ہے۔خوبصورت وادیوں میں دس ہزار سیکورٹی اہلکار امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے تعینات ہیں۔ جن میں پولیس، رینجرز، جی بی سکاؤٹس اور ایف سی اہلکار شامل ہیں۔وہ ممالک جہاں جمہوریت اور ادارے کمزور ہوتے ہیں انتخابات میں پرُ تشدد کارروائیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک کی جمہوریت کے حوالے سے درجہ بندی کرنے والی عالمی تنظیمیں پاکستان میں جمہوریت کو نچلے درجے پر رکھتی ہیں جہاں جمہوری اقدار مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی عدم برداشت کا مظاہرہ متشدد کارروائیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی کسی مرحلے پر پر تشدد ہو سکتے ہیں جبکہ دہشت گردی کا خطرہ بھی ہے۔انٹرنیشنل فیڈریشن فار الیکٹورل سسٹم کے اندازوں کے مطابق  الیکشن میں درجہ اول ور درجہ  دوم  کا تشدد دیکھنے میں آسکتا ہے جس میں جھگڑے،ہاتھا پائی، ریلیوں میں تصادم اورخواتین کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرناشامل ہے۔

2009 میں گلگت بلتستان میں نئی قانون ساز اسمبلی کے قیام کے بعد یہ تیسرے انتخابات ہیں جن میں 16 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے پانچ پانچ سالہ دور اقتدار کے بعد بھی لوگوں کے تعلیم، صحت، ذرائع آمد و رفت، ملازمتوں اور مقامی وسائل کی ترقی جیسے مسائل حل نہیں ہوئے ہیں ۔ان مسائل کے حل کے دعوے پہلے بھی کیے گئے تھے اور آج بھی انہی دعوؤں کے ساتھ تینوں بڑی  جماعتوں  کےامیدوار جیت کے لیے پر امید ہیں۔

سروے اور دھاندلی کے الزامات

انتخابی  سروے کی بات کریں تو  ن لیگ کے مقابلہ  میں پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی کے مقابلہ میں پی ٹی آئی کی پوزیشن  مضبوط ہے۔ اس وقت پی پی پی دھاندلی کے نعرہ لگا کر شکوک و شبہات کی فضا پیدا کرکے الیکشن میں جا رہی ہے۔ ن لیگ نے الزام لگایا ہے کہ عبوری حکومت کے متعصب وزراء پری پول رگینگ میں مصروف ہیں۔ مولانا فضل الرحمان  کے مطابق  سرکاری ملازمین کے نام پر زائد بیلٹ پیپرز جاری کیے جا رہے ہیں۔ 700 کی جگہ 1000بیلٹ پیپرز پہنچائے جا رہے ہیں۔  عمران خان کی تصویر کے ساتھ آٹا کی بوریوں کی تقسیم پری پول رگینگ میں آتا ہے۔ جعلی پول کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کیا جارہا ہے۔

بلاول کا نرالا الزام

 دوسری طرف بیس دن مسلسل اور بھرپور انتخابی مہم چلانے کے بعد بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ انہیں  گلگت بلتستان میں مہم چلانے کے لیے مساوی موقع نہیں دیا گیا۔اس الزام کو پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو بہتر ہو گا  جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ہر عمل کو غلط ثابت کرنے پر تلی ہیں اور تمام حکومتی اداروں پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں تو گلگت بلتستان کے الیکشن کی حساسیت سمجھ میں  آجاتی ہے جب تک  ادارے مل کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل نہ طے کر لیں اور  جماعتیں اپنے  کارکنوں کے لیے برداشت کا کوئی ضابطہ اخلاق نہ وضح کرلیں  کیونکہ ان الیکشن کی اہمیت پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔ ان الیکشن میں کوئی کوتاہی انھیں متنازعہ بنا سکتی ہے جو سیکورٹی چیلنجز کو بڑھانے کا سبب بنے گی۔

چیف الیکشن  کمشنر گلگت بلتستان نے فری اینڈ  فیئر الیکشن نیٹ ورک کے علاوہ دیگر مبصرین کو بھی الیکشن مانیٹر کرنے کی دعوت دی ہے۔دو ماہ پہلے قومی اسمبلی کی  اسٹیڈنگ کمیٹی برائے پارلیمانی  امور کو بتایا گیاتھا کہ جی بی حکومت نے انتخابی انتظامات کے لیے 25 کروڑروپے جاری کیے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ برف باری کی صورت میں آرمی کے ہیلی کاپٹر زووٹرز کو لانے اور واپس لے جانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ 6 نومبر کو گلگت میں تمام  سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی ایک میٹنگ میں  الیکشن کے صاف اور شفاف بنانے کا یقین دلایا ہے اجلاس میں پی پی پی،پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن،جمعیت علما اسلام(ف) کے علاوہ  مقامی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔  چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ کسی کو امن و امان ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔میڈیا کی ٹیمیں اور مبصرین تمام عمل کی نگرانی کریں گے۔ ایک مرکزی شکایت سیل کے قیام کے علاوہ تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر کے آفس میں بھی شکایت سیل قائم کیے جائیں گے۔

ووٹرز ،نشستیں اور امیدوار

 گلگت بلتستان کی آبادی  تقریباً 14 لاکھ ہے۔کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 745,361ہے جو اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں۔ان میں 400,000 مرد اور 339,992 خواتین شامل ہیں۔ اس سال65,365 نئے مرد ووٹرز کا اندراج ہوا ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی کی کل 33 نشستیں ہیں جن میں سے 24 حلقوںپر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں۔ایک امید وار کے انتقال کی وجہ سے اس بار 23نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں ۔باقی  چھ نشستیں خواتین اور تین ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔دس اضلاع کے 24 حلقوں میں 1,234 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 415 کو انتہائی حساس، 339 کو حساس اور480  کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔

کس کے کتنے امیدوار؟

 انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کی تعداد سولہ ہے جب کہ کل 327 امید وارمدمقابل ہیں جن میں چارخواتین اور 200 آزاد امید واربھی شامل ہیں۔پی ٹی آئی نے 22 سیٹوں پر اپنے امید وار کھڑے کیے ہیں اوردو سیٹوں پرمجلس وحدت مسلمین کے امید واروں کی حمایت کرے گی۔پی ٹی آئی نے ن لیگ چھوڑ کر آنے والے کچھ امید واروں کو بھی پارٹی ٹکٹ دیے ہیں۔ایک خاتون کو بھی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ق نے 14حلقوں میں امید واروں کو ٹکٹ دیے ہیں۔پیپلز پارٹی نے تمام24 حلقوں میں اپنے تجربہ کار امید وار مقابلے میں اتارے ہیں۔ ایک خاتون امید وار بھی پی پی پی کا ٹکٹ لینے میں  کامیاب رہی ہیں۔جمعیت علماء اسلام(ف) نے 12 حلقوں کے لیے امیدوار نامزد کیے ہیں اور کسی خاتون کو ٹکٹ نہیں دیا ۔

گلگت بلتستان کےعوام میں تعلیم عام ہے اور وہ اپنے حقوق  سے بخوبی آگاہ ہیں۔عام طور پر لوگ اسلام آباد میں جس کی حکومت ہو اسی  پارٹی  کو ہی  ووٹ دینا پسند کرتے ہیں کیونکہ اس کے پاس کچھ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ لوگوں کے مطالبات میں صوبہ کا درجہ،تعلیمی ادارے،یونیورسٹی،اسپتال، سڑکیں، لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ کے انتظامات،مختلف مقامات پر سرنگیں، مقامی وسائل کی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع کی فراہمی شامل ہیں۔ انتخابی گہماگہمی اور جیت کے دعوؤں پر ایک ووٹر کا بڑا جامع تبصرہ ہے۔ہلہ گلہ الگ ہے موقعہ ملاحظہ الگ ہے۔ یعنی یہ حقیقت صرف الیکشن والے دن کھلے گی کہ کون فاتح ہو گا اور کس کے اندازے غلط ہو ں گے۔

اتوار،15 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے