امریکا کے صدرڈونلڈ ٹرمپ کے نیشنل سیکورٹی آفیسرمارک اسپر نے  فاکس نیوز کا ایک انٹرویو میں بتایا کہ اسرائیل اور امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت اقتدارختم ہونے سے پہلے ایران کے خلاف  بڑا جنگی ایکشن لینے جارہے ہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ جیت جاتا تو شاید یہ حملہ موخر ہو جاتا لیکن موجودہ حالات میں جو بائیڈن کے آنے سے قبل ایران کے اٹیمی پروگرام کو ٹارگٹ کرتے ہوئے یہ حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مارک اسپر کے اس انٹرویو میں بیگن ڈاکٹرائن کا حوالہ دیا گیا ہےجس کے مطابق دشمن کی تیاری سے پہلے ہی اسے جا پکڑنا چاہیے تاکہ وہ طاقتور ہو کر حملہ نہ کر سکے۔ 

بیگن ڈاکٹرائن کو 1981 میں اسرائیلی وزیر اعظم بیگن نے عراق کے اٹیمی ری ایکٹرز کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔2007 میں اسی ڈاکٹرائن پر عمل کرتے ہوئے شام پر حملہ کیا گیا تھا جب وہ شمالی کوریا کی مدد سے اٹیمی ہتھیار بنانے کی تیاری کر رہا تھا۔1998 میں پاکستان کے اٹیمی دھماکوں کے بعد بھارت اور اسرائیل نے پاکستان کے خلاف بھی ایسی ہی ایک مہم جوئی کی کوشش کرنا چاہی تھی۔ جسے پاکستان نے اطلاع ملنے پر اپنی فضائی طاقت کے مظاہرے سے نا کام بنا دیا تھااور اٹیمی دھماکے کر کے اپنی برتری ثابت کر دی تھی۔

اسرائیل کی برتری کی خواہش اسے کبھی چین نہیں لینے دیتی۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا۔ مختلف عرب ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروا کر فلسطینیوں کے حقوق کا سودا کیا گیا۔ سعودی عرب جو عالم اسلام کے لیے اپنی مذہبی حیثیت کی وجہ سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے،کو مسلمانوں کا اتحاد توڑنے کے لیے کامیابی سے استعمال کیا گیا۔قیاس کیا جاتا ہے کہ آنے والی جو بائیڈن کی حکومت دنیا میں ایسا انتشار پھیلانے کی حمایت نہیں کرے گی بلکہ ایک متوازن عالمی پالیسی لے کر آئے گی۔ایران جس نے یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت بہت بڑھا لی ہے،کے ساتھ دوبارہ 2015 جیسا جوہرہ معاہدہ کر کے اٹیمی پروگرام کو محدود کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس ایران نیو کلیئر ڈیل کو ڈونلڈٹرمپ کے دور میں ختم کر کے ایران پر پابندیاں لگا دی گئی تھیں جس کی حمایت عرب ممالک نے بھی کی تھی۔ڈیمو کریٹس کے آنے سے اگر ایران دوبارہ کسی ڈیل کا حصہ بن کر باقی دنیا کے ساتھ چل پڑتا ہے تو اسرائیل کے لیے اس پر حملہ کرنا اور اسے کمزور کرنا ممکن نہیں رہے گا جب کہ اسرائیل اپنی برتری کے جنون میں کوئی بھی ایڈونچر کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔

 ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف  جن دنوں پاکستان کا دورہ کر رہے تھے انہی دنوں ایران سے متعلق  امریکی مندوب ایلیٹ ابرا م سعودی عرب میں تھے جہاں سعودی فرمانروا نے اس موقع پر دنیا کو پیغام دیا کہ ہم ایران کو اٹیمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتےاور ہمیں ایران کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے،بعد  میں امریکی منذوب یروشلم پہنچے جہاں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیوبھی تین روزہ دورے پر موجود تھے۔ اسرائیلی حکام سے ان امریکی لیڈروں نے ایران کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی۔دوسری طرف دونوں ممالک کے آرمی چیفس کے درمیان بھی آن لائن بات چیت جاری ہے۔ یہ تمام خبریں اسرائیلی اخبارات سے دی جا رہی ہیں۔جن کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب ، بحرین اور یو اے ای ، ایران کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

یروشلم پوسٹ کے ایک آرٹیکل میں صدر ٹرمپ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اقتدار کے ان آخری ایام میں پینٹاگون میں امریکی دفاعی عہدے داروں میں رد وبدل ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی بڑے اقدام کی نشاندہی کرتا ہے جس کے ذریعے وہ جو بائیڈن کے لیے حکومت میں آتے ہی عالمی سطح کے مسائل چھوڑنا چاہتے ہیں۔اخبار کے مطابق امریکا خود ایران پرحملہ کر سکتا ہے یا اسرائیل کو ایسا کرنے کا گرین سگنل دے سکتا ہے۔اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حوالے سے تمام معالات طے پا چکے ہیں۔اسرائیل نے ایران میں ایئر سٹرائیک کی ہے۔ نیو یارک ٹائمز  کے مطابق 1998 میں امریکی ایمبسی پرحملے کے ماسٹر مائنڈالقائدہ کے اہم ترین لیڈر ابو محمدالبصری کو تہران میں ہلاک کردیا گیا  ہے ایسا دو اسرائیلی ایجنٹس کے ذریعے کروایا گیاہے۔ یہ وہ اقدام ہیں جو حالات کی سنگینی کا پتہ دیتے ہیں۔

سعودی عرب کو ایران اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی غم و غصہ ہے۔جس کا اظہار وہ بھارت کے ساتھ روابط بڑھا کر کر رہا ہے۔حوثی باغیوں کی طرف سے بھی سعودی عرب کومسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ملک کے اندر ہونے والے دہشت گرد حملوں نے بھی سعودی حکمرانوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان حالات میں محمد بن سلمان امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک خطرناک عالمی کشیدگی کا حصہ بننے جا رہے ہیں جس کے اثرات ایران اور ترکی کے ساتھ شائد پاکستان کو بھی برداشت کرنا پڑیں جہاں سیاسی عدم استحکام کے لیے بھارت کےساتھ ساتھ سعودی عرب کی سرمایہ کاری کی بات بھی ہونے لگی ہے جو پاکستانیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

 پیر،16 نومبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے