وزارت داخلہ نے تحریک لبیک کی ریلی کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک دیا۔آخری اطلاعات کے مطابق وزارت داخلہ نے راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو واضح گائیڈ لائنز جاری کیں  جن میں علامہ  خادم حسین رضوی اور جلوس کے دیگر رہنماؤں سے مذاکرات کرنے کے لیے کہا گیا  جو کامیاب ہو گئے ہیں  لیکن یہ دھرنا بھی اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے ۔ 

 لیاقت باغ سے چلی تحریک لبیک کی ریلی کوپولیس نے فیض آباد پل پر اپنے حصار میں  لئے رکھا  اوردھرنے کے شرکاء تک کسی بھی قسم کی کوئی کمک نہیں پہنچنے دی ۔ حکام کا خیال  تھا کہ موسم کی شدت اور مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے مظاہرین کو منتشرکرنے میں آسانی ہو گی۔رات بھر کی شدید بارش کی وجہ سے مظاہرین کی تعداد میں کافی کمی ہو گئی ۔دوسرے شہروں سے آنے والے کارکنان کی نہ صرف پکڑ دھکڑ کی  گئی بلکہ انھیں دھرنے کے مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے بھی پولیس نے سخت ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ راولپنڈی میں شمس آباد سے آگے فیض آباد کی طرف کھلنے والی تمام گلیوں پر پولیس کا ناکہ  تھا تاکہ مزید مظاہرین کی آمد کا راستہ بند رکھا جائے۔ دوسری طرف اسلام آباد پولیس مظاہرین کی اسلام آباد کی طرف ہر حرکت کے جواب میں لاٹھی چارج اورشیلنگ کی ۔کارکنان کے جوابی حملوں میں نو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے جلسہ کی کوریج اورویڈیورپورٹنگ کی اجازت نہیں دی جا گئی۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ ریلی کی وجہ سے گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی مرکزی شاہراؤں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم  رہا۔ایکسپریس وے، کشمیر ہائی وے اور جی ٹی روڈ پر بین الصوبائی ٹریفک کا بہت زیادہ رش  رہا۔ ٹریفک پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی اور شہریوں  سے کہا  گیا کہ وہ بغیر ضرورت اسلام آباد کا رخ نہ کریں اور ٹریفک پلان کے مطابق چلیں۔

اطلاعات کے مطابق علامہ  خادم حسین رضوی کو پولیس نے دہشت گردی کے امکانات کے سبب اپنی حفاظتی تحویل میں لے رکھا  تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کے مطابق ایسے جلسے جلوسوں میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہےجب کہ جلوس کے شرکاء کہنا تھا کہ علامہ رضوی اپنے رفقاء کے ساتھ کسی جگہ موجود ہیں اور ضرورت کے وقت سامنے بھی آجائیں گے۔خادم حسین رضوی کی عدم موجودگی میں ان کے صاحبزادے اور تحریک کی کے پی کی قیادت دھرنے میں موجودرہی، بعد میں وہ دھرنے میں پہنچ گئے۔پولیس کا علامہ رضوی سے مطالبہ  تھا کہ وہ کارکنان سے خطاب کریں اور واپس چلے جائیں۔ ریڈ زون جانے کا ارادہ ترک کر دیں۔ کیونکہ حکومت اپنے طور جوممکن اقدامات ہیں کر رہی ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے وزیر مذہبی امور کو علامہ خادم حسین سے رابطے اور حکومتی پوزیشن واضح کرنے کے لیے بھی کہا گیا ۔2017 میں  علامہ  خادم  حسین رضوی کا اسی مقام پر دیا گیا دھرنا پندرہ دن چلا تھا اور اُسے ختم کرانے کے لیے پولیس، مذاکرات،آپریشن سب آپشن استعمال کیے گئے تھے۔

 15 نومبر کو تحریک لبیک نے فرانسیسی میگزین میں خاکوں کی اشاعت کے خلاف ایک ریلی نکالی جس کا مقصد اس واقعے پر احتجاج کرنا اور اپنے مطالبات پیش کرنا تھا۔ اس سے قبل کراچی سمیت دوسرے بڑے شہروں میں احتجاج ہو چکا تھا۔حالیہ دھرنے میں  ا ن کے دو مطالبات  تھے۔ پہلا مطالبہ پاکستان میں فرانسیسی ایمبیسی بند کی جائے اور فرانسیسی سفیر کو فوراًواپس بھیجا جائے۔ نیز وہاں سے اپنے سفیر کو واپس بلایا جائے۔دوسرا مطالبہ حکومتی سطح پر تمام فرانسیسی مصنوعات پر بندش لگائی جائے۔تاہم اس پر امن ریلی پر کی جانے والی شیلنگ اور کریک ڈاؤن کی وجہ سے حالات خراب ہوئے۔پنجاب بھر میں تحریک لبیک کے کار کنان اورمقامی لیڈر شپ کی گرفتاری سے کارکنان مشتعل  ہوئے لیکن ان سب کے باوجود اچھی بات یہ ہوئی کہ مذاکرات کامیاب ہوئے اب معاہدہ پر عمل کرنا باقی ہے۔

 دوسری جانب بریلوی نکتہ نظر رکھنے والے علماء مظاہرین سے صبروتحمل کی اپیل کرتے رہے اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پر امن احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد منتشر ہونے کی درخواست کی گئی۔حکومت کسی صورت ریلی کے شرکاء کو اسلام آباد داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی  تھی کیونکہ زیرو پوائنٹ سے ریڈ زون تک جانا شرکاء کے لیے مشکل نہیں اور وہاں موجود اہم عمارتوں کی حفاظت ایک بڑا سوال بن جانا تھا۔ واضح رہے کہ ریڈ زون میں اگر حالات بے قابو ہو جائیں تو حکومت کے پاس آئین کے آرٹیکل245 کے تحت فوج کو بلانے کی آپشن موجود ہے۔حکومت کے بلانے پر فوج کا ٹرپل ون بریگیڈ آکر ریڈ زون میں موجود تمام اہم عمارتوں جن میں غیر ملکی سفارت خانے بھی شامل ہیں،کی سیکورٹی سنبھال لیتی ہے۔ تاہم مظاہرین سے مذاکرات کا کام انتظامیہ ہی کی ذمہ داری  تھی۔

ناموس رسالت کے نعرے پر ہر مسلمان جان دینے کے لیے تیا ر ہے لیکن ا س طرح دو شہروں کا نظام مفلوج کرنا اور متشدد رویہ اپنانا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔مثلاً کیا یہ کارروائی کسی کے اشارے پر ہو رہی  تھی؟ اس کو کون فنڈ کر رہا تھا؟کیا اس ریلی کا اس وقت باہر آنا حکومت کو مزید مشکل میں ڈالنا  تھا؟ پچھلی بار کیپٹن صفدر کی فنڈنگ کے بہت چرچے تھے اب کی باریہ بار کون اٹھا رہا ہے؟اور کیا ناموس رسالت کے لیے نکلنے والے اپنے اس مقصد سے مخلص ہیں یا صرف اپنے موجودہ رہنما کے اشارے کے پابند ہیں؟

منگل،17 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے