جب سے عرب امارات کے بعض ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے پاکستان کے اندر بھی یہ بحث شدو مد سے شروع ہو گئی ہےکہ پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے یا نہیں‌کرناچاہیے۔ دلائل دونوں‌ اطراف میں‌موجود ہیں تسلیم کرنے والے اپنے مضبوط مؤقف پر کھڑے ہیں‌اور نہ تسلیم کرنے والوں‌کے پاس اپنے ٹھوس جواز موجود ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی کیوں‌پیدا ہو؟ جب ایک چیز کا وجود ہی ممکن نہ ہوتو پھر اس پر بیان کا کیا سوال بنتا ہے؟ تاہم اس سوال کی بڑی وجہ وزیر اعظم عمران خان صاحب ہیں جو عرب امارات کی فلسطین کے ساتھ بے وفائی پر چھ مرتبہ یہ بیان داغ چکے ہیں‌کہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں‌کریں گے۔ فلسطین کے معاملے کے حل تک ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں‌کریں گے۔ ساری دنیابھی اسرائیل کو تسلیم کرلے تب بھی ہم نہیں‌کریں گے الغرض ہر دو تین ماہ بعد وزیراعظم صاحب کی طرف سے اسرائیل پر کوئی نہ کوئی بیان سامنے آ‌ہی جاتا ہے۔

آج بھی کچھ ایسی ہی صورتحال سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم صاحب نے حسب روایات ایک بیان داغا کہ ” ہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے بالخصوص متعدد عرب ممالک کے تل ابیب کے ساتھ امن معاہدوں کے تناظر میں، لیکن ایسا اس وقت تک ممکن نہیں ‘جب تک ایسا تصفیہ نہ ہو جو فلسطین کو مطمئن کرسکے”۔ وزیر اعظم صاحب کے بیان کے کچھ لمحے بعد ہی پاکستان کے دفترخارجہ نے فورا خان صاحب کے بیان کی نفی کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے اورپاکستان پر ایسا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ خان صاحب کے بیان اورپھردفترخارجہ کی وضاحت میں‌ 380 ڈگری کا فرق ہے۔ سوال یہ ہے کہ خان صاحب نے جو بات کی ہے کیا وہ ان کی اندرونی خواہش ہے جو باربار ان کی زبان پرآجاتی ہے یا واقعی پاکستان پر امریکہ اور اس کے حلیفوں‌کا دباؤ ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب نے صرف امریکی دباؤ کا ذکر ہے جب کہ ہونا تو ایسا چاہیے تھا کہ امریکہ سب سے پہلے اپنے حلیف سعودی عرب پریہ دباؤ‌ڈالتا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرلے جواس کے لیے آسان بھی ہے ممکن بھی۔ اوراگرسعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرلے تو پاکستان کے لیے شایدیہ عمل آسان بھی ہو جائے گااورپاکستان اس امرکی صفائی بھی دے سکے گا مگرحیرت ہے کہ امریکہ نے پاکستان پرتو یہ دباؤ‌ ڈالا ہے تاہم سعودی عرب پرنہیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ خان صاحب بیچ کی بات گول کر گئے ہوں‌ کہ یہ دباؤ امریکہ سے زیادہ ان حلیفوں کی طرف سے ہو جو اسرائیل کو تسلیم کر چکےہیں‌اورچاہتے ہیں کہ پاکستان بھی اس گناہ میں‌شامل ہوجائے۔ اورممکن ہے اس کے پیچھے سعودی بادشاہت کا بھی ہاتھ ہو جو پاکستان کے پیچھےچھپ کر یہی کام کرنا چاہتی ہو۔

اس وقت اسرائیل کو تین بڑےخطرات لاحق ہیں ان میں سے  ایک خطرہ ایران ہے جسکے ساتھ اسکی لڑائی رہتی ہے، ایک خطرہ اسرائیل کیلئے ترکی ہے، اور ایک خطرہ ایسا ہے جسکی اسرائیل کے ساتھ ابھی پنجہ آزمائی تو نہیں ہوئی براہ راست تو نہیں ہوئی لیکن بالواسطہ ہوئی ہے۔ اسرائیل کو سب سے بڑا خطرہ پاکستان سے ہے، اسرائیل سمجھتا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہےاسکے پاس دنیا کا بہترین دفاعی نظام ہے، اسکی فوج بہت پروفیشنل ہے، اس ملک میں جہاد کا نظریہ ہے اور لوگ اپنی فوج کےساتھ ملکر لڑنے مرنے کو تیار ہیں، انکے پاس میزائل ٹیکنالوجی ایسی ہے کہ یہ جاکر اسرائیل کو ڈائریکٹ ہٹ کرسکتے ہیں تو اسرائیل ایک بہت بڑے خطرے کے طور پر پاکستان کو دیکھتا ہے۔

اگرچہ ایران اور ترکی کو بھی اسرائیل اپنا دشمن سمجھتا ہے کہ لیکن اسرائیل پاکستان پر فوکس کرے گا اسکی وجہ پاکستان کے پاس ایٹم بم، بہترین میزائل ٹیکنالوجی، مسلم دنیا کی سب سے بڑی فوج او رمسلم دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہونا ہے اور سعودی عرب اپنی سیکیورٹی کیلئے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ پاک فوج کی بڑی تعداد سعودی عرب کی حفاظت پر مامور ہے اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد سعودی عرب میں کام کررہی ہے۔ سعودی عرب کیلئے کوئی جان نہیں دے سکتا سوائے پاک فوج کے اسلئے پاکستان عرب دنیا میں ایک بااثر ملک ہے۔ فرض کریں اگر تمام عرب ملک اسرائیل کو تسلیم کرلیتےہیں تو مسلم دنیا کی قیادت خود بخود پاکستان کے کھاتے میں پڑجائے گی اور پاکستان مضبوط ملک بن جائے گا اور سعودی عرب کی قیادت کرنے کی خواہش یا ختم ہوجائے گی یا کمزور پڑجائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب خود سے پہلے یہ چاہتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے تا کہ سعودی عرب کا یہ دھڑکا ختم ہوجائے کہ اس کےبعد مسلم دنیا کی قیادت پاکستان کے ہاتھ میں آجائے اورپاکستان، ایران اورترکی مل کرایک ایسا اسلامی بلک بنا لیں جس میں عرب ممالک کی کوئی جگہ نہ ہو۔ خیر یہ بات تو عیاں ہے کہ اسرائیل اورامریکہ کی یہ خواہش ہمیشہ سے رہی ہے کہ پاکستان صیہونیوں کی ناجائرز ریاست کو تسلیم کر لے تاہم خان صاحب کا دباؤوالا بیان اوردفترخارجہ کی نفی نے بہت سارےسوالات کو جنم دیا ہےکہ آخراسرائیل کے حوالےسے پاکستان میں کیا کھچڑی پک رہی ہے جس کو عوام کی نظروں سےچھپایا جارہا ہےاور کیا وجہ ہےکہ خان صاحب کچھ عرصہ بعداسرائیل کے بارےمیں کوئی نہ کوئی بیان جاری کرتےہیں؟

 

منگل، 17بومبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے