پاکستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہر الیکشن پر دھاندلی کا شور اٹھتا ہے۔ 1970 کے بعد شائد ہی کوئی ایسا الیکشن ہو جس میں ہارنے والی پارٹی نے جیتنے والوں پر دھاندلی کا الزام نہ لگایا ہو۔یہ دھاندلی مقامی سطح پر ہو،منظم ہو یا الیکشن سے پہلے دھاندلی کی کوئی صورت استعمال کی گئی ہو، شور ضرور اٹھتا ہے۔ گلگت بلتستان کی حالیہ الیکشن مہم کے آخری دنوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات لگائے جانے لگے تھے۔ الیکشن کے بعد بلاول بھٹو کی طرف سے یہی الزامات دہرائے جا رہے ہیں۔ الزامات تو خیر ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہی لگا رہا ہے جہاں دنیا کی ایک بڑی جمہوریت ہونے کی وجہ سے ووٹنگ اور اس کی گنتی بہت حد تک الیکٹرانک اور ڈیجیٹل ہو چکی ہے۔

 وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کے سلسلے کو ختم کرنے اورملک میں الیکٹورل ریفارمز لانے کے لیے تین تجاویز پر بات کی۔نمبر ایک ملک میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم متعارف کروایا جائے۔نمبردو بائیو میٹرک تصدیق ہونی چاہیے اورنمبر تین سینیٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری کے بجائے شو آف ہینڈ زکا طریقہ اپنایا جائے۔انہوں نے ایک بار پھر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے لئے ای ووٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

وزیر اعظم نے2013 کے الیکشن کے بعد پی ٹی آئی کی الیکٹورل ریفارمز کے حوالے سے کوششوں کا حوالہ دیتے ہو ئے دھرنے اور 133 پٹیشنزکا ذکر بھی کیاجو دھاندلی کے خلاف عدالتوں میں داخل کی گئی تھیں۔اس کا مقصد نظام میں اصلاح تھا جس کو سمجھا نہیں گیا۔ ملک میں الیکٹورل ریفارمز کی ضرورت ہے اور اسی کے پیش نظر حکومت آزاد کشمیر انتخابات تک الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کو متعارف کروانا چاہتی ہےجو دنیا کے بہت سے ممالک میں رائج ہے تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال نہ اٹھیں۔

الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم اوربائیو میٹرک تصدیق کے معاملہ پر پہلے بھی عوامی اور سرکاری حلقوں میں بار ہا سیر حاصل بات چیت ہو چکی ہے۔ بائیو میٹرک تصدیق کا نظام پچھلے الیکشن میں بھی استعمال کیاگیا تھا جس میں مشکلات سامنے آئی تھیں۔2018 میں متعارف کروایا گیا رزلٹ ٹرانسمشن اور مینجمنٹ سسٹم کئی مقامات پر لوڈ برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے بیٹھ گیا تھا اور سارے انتخابی عمل پر سوالات اٹھ گئے تھے جبکہ ای ووٹنگ میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM)کو معمول کے کاغذی بیلٹ پیپرزسے تین گنا اضافی اخراجات کی بنیاد پر رد کیا گیا تھا۔عام طور پر دنیا میں دو طرح کی ای ووٹنگ رائج ہے      ۔

1:الیکٹرانک ووٹنگ مشین جو پولنگ ا سٹیشن میں نصب ہوتی ہے اور الیکشن اتھارٹی یا گورنمنٹ کے نمائندے اس کی نگرانی کرتے ہیں۔

2:انٹر نیٹ کے ذریعے دور دراز کے علاقے سے ووٹ الیکشن اتھارٹی کو الیکشن کی تاریخ تک بھیجنا۔

الیکٹرانک ووٹنگ ٹیکنالوجی میں پنچڈ کارڈز(Punched Cards)،آپٹیکل سکین ووٹنگ سسٹم((Optical Scan Voting System اورڈائریکٹ ریکارڈنگ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم(Direct -Recording Electronic Voting System.DRE) شامل ہیں۔ اس کے علاوبیلٹ کی ترسیل کے لیے ٹیلی فون، کمپیوٹر نیٹ ورک اور انٹر نیٹ کا استعمال بھی ہوتا ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم سے ووٹ کاسٹ کرنے کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے اور ووٹنگ کے عمل کی نگرانی اور ووٹ گننے والے اسٹاف کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ووٹر اپنا وقت بچا سکتا ہے۔الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم خصوصی افراد کو بھی آسانی سے ووٹ ڈالنے کی سہولت دیتا ہے۔دوردراز علاقوں میں رہنے والے بوڑھے افراد اور بیرون ملک قیام پذیر افراد بھی انتخابی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں جس سے انتحابات میں ٹرن آؤٹ بڑھ جاتا ہے۔ دھاندلی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اورانتخابی عمل کے نتائج تیزی سے اکھٹے کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جوں جوں نظام پیچیدہ ہوتا جاتا ہے اور زیادہ سافٹ وئیر کا استعمال بڑھتا ہے تو سسٹم ہیک ہونے اور فراڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ سسٹم کے اندر ہونے والے فراڈ تک ہر کوئی آسانی سے نہیں پہنچ سکتا اس لیے لوگوں کا اعتماد قائم نہیں رہتا۔اس کی ایک مثال امریکہ کے 2016 کے الیکشن ہیں جب سسٹم ہیک ہونے اور اس میں ردو بدل کی سازش کے عالمی سطح پر الزامات لگے تھے۔ حالیہ امریکی انتخابات میں میل بیلٹنگ اور ووٹو ں کی گنتی پر دھاندلی کے الزامات بھی ہمارے سامنے ہیں۔

 DREبنانے والی کمپنیاں ہوں یا فائدہ حاصل کرنے والے سیاست دان،یہ طریقہ بہت پیچیدہ ہے۔ کمرشل الیکٹرانک مشینیں،پاس ورڈز،کی بورڈز اور عوام کی حقیقی عمل تک رسائی نہ ہونا ہی سب سے بڑے نقصانات ہیں۔ان ہی وجوہات کی بنا پر نیدر لینڈ،آئر لینڈ، برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک میں ای ووٹنگ کو ترک کر دیا گیا ہے۔ تاہم انڈین الیکشن کمیشن اس کی حمایت کرتاہے جہاں DREسسٹم استعمال ہوتا ہے۔ان مشینوں کو بھارتی سیکورٹی اداروں نے اپنے الیکشن کمیشن کی ضروریات کے مطابق بنایا ہے۔

 پاکستان کو دنیا کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ایک پیچیدہ نظام کو اختیار کرنے سے ہمارے ملکی حالات میں پیچیدگیاں اور بڑھ جائیں گی۔ سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈز ووٹ کو شائد اپوزیشن کی حمایت حاصل ہو جائے کیونکہ گزشتہ سینیٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو اپنے بہت سے ارکان سے پارٹی وفا داری سے متعلق سوالات پوچھنے پڑ گئے تھے جبکہ پی ٹی آئی نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اپنے20 ایم پی ایز کو پارٹی سے ہی نکال دیا ۔دیکھنا یہ ہے کہ انتخابی اصلاحات میں حزب اختلاف اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر جمہوریت کےلئے ایک قدم آگے بڑھاتی ہے اورآئینی ترمیم کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کرتی ہے یا پھر اپنی روایتی سیاست کوہی سینہ سے لگائے رکھتی ہے ۔

بدھ،18نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے