دل تو بچہ ہے جی ۔۔۔ لیکن  اپنے جی   کے لئےبچہ دل کو   مضبوط  کرنے کی ضرورت ہے۔اسے کیسے مضبوط کیا جا ئےاس پر آگے چل کر بات ہوگی لیکن گزشتہ  پندرہ سال سے جاری ایک تحقیق کے مطابق  دنیا میں اموات کی سب سے بڑی وجہ دل کے امراض اور سٹروک ہے۔یہ کل اموات کے 54فیصد سے زیادہ ہے۔عام طورپرامراض دل کی شرح پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے  افراد میں دیکھی گئی ہےلیکن حال ہی میں ہونے والی  اموات  سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں 18-35 سال کے نوجوانوں میں دل کے امراض، پیدائشی نقائص اورCoronary Artery Disease موت کا سبب بن رہی ہے۔

ٹین ایجر سے کیا غلطی ہوتی ہے؟

نیند کی اہمیت ہر عمر میں مسلمہ ہے۔ حالیہ طبی تحقیقات کے مطابق جو لوگ نوجوانی (ٹین ایج) میں سات سے آٹھ گھنٹوں کی نیند نہیں لے پاتے ان میں دل کی بیماریوں کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں میں کولیسٹرول کی زیادتی، وزن میں اضافہ،ہائی بلڈ پریشر اور بلڈشوگر لیول بھی بڑھ جاتا ہے۔کم عمری کی نیند میں بے احتیاطی بعد میں صحت کے بڑے مسائل کو جنم دیتی ہے۔

 طبی طور پر آٹھ گھنٹوں کی نیند کے علاوہ گہری اور پر سکون نیند کا نہ ہونا بھی د ل کی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے۔ ایسے لوگ جو Sleep Apnea کا شکار ہیں اور سانس کی تنگی کی وجہ سے رات کو بار بار اٹھ جاتے ہیں یا جونیند نہ آنے کے مرض کا شکار ہوتے ہیں، کے لیے دل کے مسائل پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔لمبی اور گہری نیند کی کمی سے جسم میں ایسے کیمیکل پیدا ہوتے ہیں جو دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کی سطح کو آرام کی حالت میں نیچے لانے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔یہ کیفیت بالآخر دل کے مختلف امراض پر منتج ہوتی ہے۔

 تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ آٹھ سال تک Sleep Apnea کا شکار رہتے ہیں ان میں دل کے بند ہونے سمیت دل کے دیگر امراض پیدا ہونے کے امکانات58 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔اس کے علاوہ کام اور حالات کے باعث نیند میں کمی ہونا بھی دل کے امراض کا سبب بن سکتی ہے۔

دل بند ہو جانا یا دل کا فیل ہو جانا ایسی کیفیت ہے جس میں شریانوں کی تنگی،بلڈ پریشر یا دل کے عضلات کی سختی کی وجہ سے دل کام کرنا بند کر دیتا ہے۔یہ مرض پرانا بھی ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں اچانک بغیر ابتدائی علامات کے ظاہر ہو کرفوری موت کا سبب بنتا ہے۔علامات میں سانس لینے میں مشکل، ٹانگوں ،ٹخنوں اور پیروں پر سوجن،تھکن اور کمزوری،  دھڑکن کی بے ترتیبی،ورزش کرنے میں مشکل ہونا،پیٹ کا پھول جانا،رات میں پیشاب کی حاجت، مسلسل کھانسی اور جھاگ دار بلغم کا آنا وغیرہ شامل ہیں جن کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کے علاوہ معمولات زندگی میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔

نیدر لینڈ میں 20,432  مردوخواتین پر بارہ سالہ ایک تحقیق کے مطابق چھ گھنٹے سے کم نیند لینے والے لوگوں میں دل کی بیماریوں کی شرح15 فیصداور پیدائشی دل کے نقائص کے امکانات23 فیصد ان لوگوں سے زیادہ تھے جو سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند لیتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جن لوگوں کی نیند معیاری  نہیں تھی یعنی Sleep Apnea اور ڈسٹرب نیند کے مسائل کا شکار تھے ان میں 63 فیصد دل کے امراض اور79 فیصد پیدائشی دل کے نقائص کی شرح ان لوگوں سے زیادہ تھی جو آٹھ گھنٹوں کی پرسکون نیند لیتے تھے۔

 دل کے علاوہ نیند کا گہرا تعلق ذہنی صلاحیتوں سے بھی ہے۔تحقیقات بتاتی ہیں کہ نیند کا دورانیہ جتنا کم ہوگا اس کا ذہنی کارکردگیCognitive Performance))پر اتنا ہی برا اثر ہو گااور اگر یہ دورانیہ زیادہ عرصہ پر پھیل جائے تو ذہنی استعداد (Cognitive Ability)بھی کم ہو جاتی ہے۔آٹھ سے ساڑھے آٹھ گھنٹوں کی نیند اعلی ٰدرجے کی ذہنی کا رکردگی کے لیے ضروری ہے۔ ایسے لوگوں کی اعلی ذہنی کار کردگی کی استعداد اور عمل بڑھ جاتاہے اور ان کی ورکنگ میموری بہتر ہوتی ہے۔

گہری اور پر سکون نیند کے لیے کیا کیا جائے؟

ماہرنفسیات روبینہ اقبال

اس سلسلے میں جب ماہر نفسیات روبینہ اقبال سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھاکہ سب سے پہلے اپنے سٹریس کے درجے کو کم کرنے کی ضرورت ہوتی ہےجو لوگ زندگی سے اور دوسروں سے بہت زیادہ توقعات رکھتے اور انحصار کرتے ہیں ان پر ذہنی دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔ اپنے روزانہ کے کاموں کو اپنی زندگی کے بڑے مقاصد سے ہم آہنگ اور حقیقت پسندانہ رکھیں۔انھیں حاصل کرنے پر خود کی تعریف کریں اور اپنے اندر کامیابی کے تصور کو جگہ دیں۔ذہنی اطمینان دماغ کے تمام افعال اور جسم کے تمام نظام پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ اپنے سونے جاگنے کے اوقات کو فطرت کے نزدیک رکھیں۔انسانی جسم میں دن بھر میں ہونے والی شکست وریخت کی مرمت میں رات کو جلدی شروع ہونے والی نیند اور صبح صادق کے وقت اٹھناسب سے اہم ہے۔والدین کو اسی فطر ی نظام کو اپنی اور بچوں کی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

سونے کی جگہ اورماحول اپنے حالات کے مطابق سیٹ کریں اور اس میں کم سے کم ردوبدل اور تغیر کریں۔ ٹی وی،موبائلز اور کمپیوٹر سے متعلق کاموں کو نیند کے وقت سے ایک گھنٹہ قبل ختم کر لیں تاکہ دماغ میں ہونے والی ہلچل پر سکون ہو سکے۔قرانی آیات پڑھنا،پرسکون میوزک سننا،اچھی کتاب پڑھنا،ہنسی مذاق کرنااور بستر پر لیٹ کرجسم ڈھیلا چھوڑتے ہوئے گہرے سانس لینے کی مشق کرنا  اچھی اور پر سکون نیند لانے میں کار آمد ہے۔

جمعرات،19 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے