کرونا وائرس گزشتہ برس سے ہمارے دماغوں پر حاوی ہوچکا ہے اور اس نے نظام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پس اس بارے میں‌اسلامی نقط نظر کیا ہے؟ خبروں اور دواؤں کے مغربی نقط نظرکے مطابق کرونا وائرس ایک وائرل انفیکشن ہے جو کہ عام ٹھنڈ اور زکام کی طرح ہے تاہم اس کی علامات عام نزلے زکام سے کہیں زیادہ سخت ہیں۔ یہ انسان کے نظام تنفس کو نقصان پہنچاتا ہے اور پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس سے انسان کی سانس لینے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس وائرس کی جدت کی وجہ سے مغرب محض اس کی علامات پر ہی مریضوں کا علاج کر ہا ہے نہ کہ اس کی بنیادی وجہ پر۔ زیادہ پیچیدہ کیسز میں مریض بے بہا صحت کے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود مریضوں کا علاج محض علامات پر ہی کیا جارہا ہے تاہم طب کسی بھی مریض کے علاج کے لیے نظریہ کلیت پر بھروسہ کرتی ہے جس کا مقصد کسی بھی مریض کی خوراک، طرز زندگی اور جڑی بوٹیوں کے استعمال سے اس کے جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی پہلووں میں توازن پیدا کرنا ہے۔ اسی طرح کی توجہ مریض کی دیکھ بھال اور پرہیز پر دی جاتی ہے تاکہ کسی بھی مرض کا مستقل خاتمہ کیا جا سکتے۔

اسی طرح مغربی طریقہ علاج کسی بھی انفیکشن کے لیے مکمل طور پر ویکیسن پر بھروسہ کرتا ہے تاہم ویکسین کا اثر محض تین ماہ تک ہی باقی رہتا ہے جس کے بعد اس ویکیسن کے استعمال کی دوبارہ ضرورت پڑ جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وائرس پہلے سے زیادہ طاقتور ہوجاتا ہے اورپرانی ویکیسن اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے اوراس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ وائرس اس ویکیسن میں موجود اینٹی باڈیز کے خلاف اپنے اندر مزاحمت بھی پیدا کر لیتا ہے۔

اسلامی روایات کے مطابق حضرت امام رضا علیہ السلام کا فرمان ہے کہ "اس وقت تک دواؤں سے دور رہو جب تک تمہار جسم اس بیماری کو جھیل سکتا ہے۔ جب یہ مزید بیماری کو برداشت کرنے کے قابل نہ رہے تب دواؤں کا استعمال کرو” ( طب الآئمہ: مترجم بتول اصفہانی)

اسلامی طبی طریقہ اپنے اندریونانی، رومی، میسوپٹیما، فارسی ادویات اوربھارتی ارویدا کو بھی اپنے اندرضم کر کے علاج کو مؤثربناتا ہے۔ اس طبی طریقہ علاج کو نہ صرف حضوراکر صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فوقیت دی بلکہ ان کے بعد ان کی آل نے بھی اسی طریقہ کی پیروی کی۔ طب اسلامی ہم تک احادیث، حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات اوران کی آل اولاد خاص طورپرامام جعفرالصادق علیہ السلام، امام موسٰی کاظم علیہ السلام اورامام رضا علیہ السلام کے ذریعے سےہم تک پہنچی۔ اسلامی طب میں‌امام رضا علیہ السلام کا حصہ سنہری خزانے کے طور پرجانا جاتا ہے جو کہ طب کا ایک جامع طریقہ اور صحت کے مثال اورعلاج کا ایک بھرپور اورآزمودہ طریقہ ہے۔

واضح رہےکہ کہ اسلامی طرز علاج میں وائرس کو بیرونی ادویات سے ختم نہیں کیاجاتا بلکہ انسان کے اندراس کےمدافعاتی نظام کو مضبوط بنایا جاتا ہےکہ وہ خود اس وائرس کے خلاف لڑے اوراس کو شکست دے۔ طب اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کسی بھی مریض کی صحت ، جسم اوراورزندگی کو درست کرنےکےلیے اس کےمزاج کو جانا جاتا ہےاور پھریہ دیکھاجاتا ہےکہ اس کےکون سی غذا مناسب رہےگی۔ کسی بھی شخص کےمزاج کوجان کراس کےجسم کی انفرادی ضروریات کو درست درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مثالی جسمانی کیفیت وہ کیفیت ہےجو کہ شخص کےمزاج کےساتھ منطبق ہوتی ہےاوراس کو جسم کےمادےاورہومر کو برقرارکررکھتی ہے۔ ہومر چارطرح کےہوتےہیں اسی طرح انسانی مزاج بھی چارطرح کےہیں ۔ اسلامی طب کرونا کو وائرس کی طرح دیکھتی ہےاور طب اسلامی کے مطابق اس بیماری کو تب تک ختم نہیں کیا جاسکتا جب تک وائرس اپنا چکرمکمل نہ کر لے تاہم کوئی بھی آدمی اپنا مدافعاتی نظام مضبوط کر کے اس وائرس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ طب اسلامی کے مطابق کرونا وائرس فلو اور نزلہ کی طرح ہے جو کہ سب سے پہلے دماغ کو متاثرکرتا ہے اور پھر انسانی کے نظام تنفس پر حملہ کرتا ہے۔ اور یہ اس طرح ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا دماغ‌مزاجا سرد ہوجائے تو تو یہ جسم میں پیتھوجن کے داخلے کو ممکن بنا دیتا ہے۔

بیماری تبھی کسی شخص‌پر اثرانداز ہوتی ہے جب اس کے اعضا مزاج میں سرد ہوجاتے ہیں اور گرم نہیں‌رہتے۔ اس لیے جب کرونا وائرس کی بات آتی ہے تو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ دماغ ہی جسم کے مختلف حصوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر دماغ کا کوئی حصہ سردہوجائے تو جس عضو کو دماغ کا وہ حصہ کنٹرول کرتا ہے وہ عضو بھی سردہو جائے گا اوربیماری کی علامات کو ظاہر کرنا شروع کردے گا۔

عام طورپر جب کوئی وائرس جسم پرحملہ آورہوتا ہے تو جسم کا قدرتی مدافعتی نظام حرکت میں‌آجاتا ہے مثال کے طورپر جب جسم بخارکاشکار ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جسم کو گرم کرکےاس کو تحفظ دے رہا ہے جس سےوائرس یا پیتھوجنز کا زندہ رہنا ممکن نہیں‌رہتا اسی طرح کھانسنے کے عمل سے پیتھوجنز براہ راست جسم بے باہر نکل جاتےہیں۔ کھانسی کا عمل جس میں توازن لاتا ہے اور جسم کو دباؤ میں جانے سے روکتا ہے۔

آج ہم دیکھتےہیں کہ کرونا نےہر طرف خوف کی فضا قائم کردی ہے۔ اوریہ خوف مدافعتی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بن رہاہے۔ نفسیات دانوں نے امتحان کےدوران کچھ طلبا کے مدافعتی نظام کا مشاہدہ کیا اور ثابت کیا کہ امتحانات کےدوران طلبا کا مدافعتی نظام کمزور پڑجاتا ہے۔ امتحان دینے والے طلبا میں جراثیموں کو کش کرنے والے سیلز کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ خوف کی وجہ سے انسان کا مدافعتی نظام کمزورپڑ جاتا ہے۔ نفسیات دانوں کے اس مطالعہ بات دیگرریسرچرزنے بھی دباؤ، خوف اورمدافعتی نظام کے مابین تعلق پر ریسرچ شروع کردی۔ 2004 میں سوزانے سیگرسٹورم اورجارج ملر نے کچھ لوگوں کو چندمنٹ کے لیے دباؤ کی کیفیت سے گزارا اور معلوم کیا کہ ان کا مدافعتی نظام کمزورپڑا ہے۔اسی طرح ہم روزہ مرہ کی حقیقی زندگی میں خوف، پریشانی اوردباؤکا شکارہوتےہیں اورہمارا مدافعتی نظام کمزورپڑتا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک طویل عرصہ تک پریشانی یا خوف ہمارے مدافعتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ ان تجزیات سے یہ بات بھی پتا چلتی ہے کہ بڑی عمرکے بزرگ افراد یا جو پہلے سے بیمارہوں وہ دباؤ سےجڑی ہوئی مدافعتی تبدیلیوں‌کا شدت سے شکارہوتے ہیں۔

ہم اس بات کو نچوڑنکالتے ہیں کہ مغربی نظریہ علاج محض سامنے کی علامات پر علاج کرتا ہے اور بیماری کو جڑسے اکھاڑنے میں‌ناکام دکھائی دیتا ہے۔ اور اس کے علاوہ مغربی ذہنیت مریضوں کے ذہن میں یہ بات بھی ڈالتی ہےکہ ان کا مرض ناقابل علاج ہے تاہم کسی بھی مرض کےلیے طب اسلامی بہترین ہے کیونکہ ایک تو یہ کسی مرض کو لاعلاج نہیں‌سمجھتی اوردوسرا بیماری کا جڑ سے خاتمہ کرتی ہے۔

جمعرات 19 نومبر، 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے