امریکاکےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات ہارنے کے بعد دنیا کے بارے میں کچھ اہم فیصلوں کا اعلان کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد جنوری 2021 تک 4500 سے کم کر کے2500 کر دے گا۔امریکی عبوری سیکریٹری دفاع کرسٹوفرملر جنھیں مارک اسپر کی جگہ تعینات کیا گیا ہے،نے اس فیصلہ کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیاکہ امریکا عراق میں بھی جنوری 2021 تک اپنے فوجیوں کی تعداد تین ہزار سے کم کر کے   ڈھائی ہزارکر دے گا۔ اس فیصلہ   کو امریکا کے علاوہ متعلقہ ممالک میں بھی تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

 امریکی سینیٹرمچ میکونل جو ری پبلکن کی نمائندگی کرتے ہیں نے ان اقدام کوسخت تنقید کا نشانہ بنا یا ہے انہوں نے ان دنوں میں امریکی ڈیفنس پالیسی اور خارجہ پالیسی میں کسی قسم کے رد وبدل پر ٹرمپ حکومت کو برے نتائج سے خبردار کیا۔ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اہم ری پبلکن رہنمامیک تھورن بیری نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدر کے اپنے ہی فیصلہ کے خلاف ہے۔ افغانستان سے امریکا طالبان امن معاہدہ کے بعد امریکی فوج کے ایک بڑے حصے کا انخلا ءعمل میں آیا۔ لیکن طے یہ پایا تھا کہ تقریباً4500 امریکی فوجی یہاں قیا م کریں گے تاکہ انخلا ءکے منفی اثرات کے طور پر پنٹنے والی دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں افغان حکومت کی معاونت ہو سکے۔

 ٹرمپ کے اس فیصلہ سے افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔ طالبان نے اب تک افغان امن معاہدہ کے بعد کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جو حالات میں استحکام کی طرف اشارہ کرے اس کے برعکس وہاں دہشت گردوں کا بڑھتا ہو اثر و رسوخ خطہ کے امن وامان کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔میک تھورن بیری نے اسے ایک بڑی غلطی سے تعبیر کیا ہے۔ڈیموکریٹس کے نمائندے بھی اس قدم کو بہت سوچ بچار کے بعد اٹھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ کن ٹروپس کو نکالا جائے گاکیونکہ امریکی ٹروپس افغان فوج کے ساتھ ایڈوائزری رول ادا کرنے کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف عملی کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ہاؤس   اسپیکر نینسی پلوسی جو اہم ڈیموکریٹ ممبر ہیں،کے مطابق یہ تشویش کن ہے کہ اتنااہم فیصلہ نیٹو سے   مشاورت کے بغیر کیا جا رہا ہےجبکہ یہ واضح ہے کہ جلد بازی میں کیا گیا ایسا کوئی بھی فیصلہ اٖفغانستان کو دوبارہ دہشت گردوں کا مرکز بنا سکتا ہے۔امریکا اور افغان حکومت کو طالبان اور القائدہ کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ اور متشدد دہشت گردی کی اطلاعات مل رہی ہیں اور یہ ویسی ہی صورتحال ہے جس میں 2001 میں امریکا نے اپنی افواج افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا تھاجہاں ہزاروں امریکی اور اتحادی فوجیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔

  امریکا میں مختلف فوجی حلقوں کا ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ ہے کہ اس وقت افغانستان میں کم از کم 4500 فوجیوں کی تعنیاتی برقرار رکھی جائے۔ امریکی نمائندے رک اولسن کا کہنا ہے کہ2005 ٹروپس کی موجودگی نہ ہونے سے بہتر ہے خاص طور پر ان حالات میں جب طالبان نے امن معاہدہ میں کیے گئے وعدوں کا پاس کر کے دہشت گردی میں کمی نہیں کی۔ تیز رفتارانخلاء میں طالبان سے کیے امن معاہدہ کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہو گا جس کے باعث خطہ میں مزید بد امنی ہو سکتی ہے۔

   ٹرمپ کے اس فیصلہ کو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پس منظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہےجبکہ بھارت کے دہشت گرد تنظیموں سے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ سے اس سارے خطہ میں امریکی مفادات کو کیا تحفظات مل سکتے ہیں،اس امر کو سوچنے کی بھی ضرورت ہے۔

ٹرمپ نے 2017 میں برسر اقتدار آنے کے بعد بڑے اہم فیصلے کیے جن میں سے اکثر کا محور ان کا انتخابی نعرہ سب سے پہلے امریکا،تھا۔ ان فیصلوں کے عالمی سطح پر کیا اثرات ہوئے وہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ان بڑے فیصلوں میں ایک مختلف ممالک سے امریکی افواج کی واپسی تھی۔ اس سلسلے کا پہلا فیصلہ اکتوبر2019 میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے جنوبی شام سے اپنے فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ امریکی اسپیشل فورسز کے اہلکاروں کو جنوبی شام سے ہٹا کر عراق منتقل کردیا گیا تھا جہاں سے وہ اپنے کرد اتحادی گروپس کے مفادات کی حفاظت کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر انہیں اندرونی طور پر دونوں پارٹیوں کی طرف سے سخت تنقید اورمخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

 جولائی 2020میں امریکا نے فرانس سے اپنے 12,000 فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ کیا اور کہا کہ چونکہ اتحادی نیٹو کے ڈیفنس اخراجات کی ادائیگی نہیں کر رہے تو ہم اپنے فوجی واپس بلا رہے ہیں۔ تاہم ان میں سے کچھ ٹروپس کو بلیک سی اور بالٹکس میں تعینات کیا گیا۔ باقی کو اٹلی اور یورپین ہیڈ کوارٹر میں لگا دیا گیا تاکہ روس کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ نیٹو ممالک نے اس فیصلہ کو   اتحادیوں کو کمزور کرنے کے مترادف قرار دیا۔

 ٹرمپ کے دور میں دنیا میں کسی نئے بڑے جنگی خطرے نے تو جنم نہیں لیالیکن بعض عالمی معاہدوں سے پیچھے ہٹنے کے واقعات نے مسائل ضرور پیدا کیے۔ حالیہ فوجی انخلا کا فیصلہ موجودہ حالات میں خطے میں امریکی مفادات کے لیے کتنا فائدہ مند ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا یا 20جنوری2021 میں آنے والی بائیڈن حکومت کرے گی کیونکہ ان کے اثرات کو اگلے چار سال بائیڈن حکومت کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔

جمعرات،19 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے