3نومبر 2020 کو ہونے والے امریکی انتخابات میں‌بالاخر ڈیموکریٹس کامیاب قرار پائے۔ جو بائیڈن اور ان کی نائب صدر کملا حارث امریکہ کی مستقبل کی پالیسیوں اور کابینہ کی تشکیل کے لیے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ ان انتخابات میں امریکہ نے تاریخ کا بڑا ٹرن آؤٹ دیکھا اور جو بائیڈن نے بھی امریکی تاریخ میں ریکارڈ ساز ووٹ حاصل کیے۔اس کی وجہ امریکی عوام کا جمہوریت پر یقین ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات میں فتح کے جشن کی وجہ ڈیموکریٹک پارٹی یا جو بائیڈن ہیں یا کچھ اور ہے؟

 

ووٹ سے قبل ہی بائیڈن اور اس کی پارٹی کی فتح کی پیشن گوئی کر دی گئی تھی تاہم اس کے باوجود یہ ایک سخت مقابلہ تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی مضبوط اور قابل بھروسہ رہی ۔ ری پبلکنز نے 25 سیٹوں پر فتح حاصل کی اور دوسرے مقامات پر ڈیموکریٹس کے ساتھ سخت مقابلہ کیا۔ حتمی نتائج سے معلوم ہوا کہ ڈیموکریٹس کا ووٹ میں حصہ ری پبلکن سے صرف چار فیصد زیادہ تھا۔ تاہم بہت سارے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ووٹ بائیڈن کے حق سے زیادہ ٹرمپ کی مخالفت میں‌پڑے ہیں۔ وہ لوگ جو بائیڈن اور ان کی کارپوریٹ اشرافیہ کے گروپ کو ناپسند کرتے ہیں انہوں نے بھی ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیا ۔ درحقیقت بائیڈن سے ناپسندیدگی کی نسبت ٹرمپ سے نفرت کا عنصر ڈیموکریٹس کی فتح کا سبب بنا۔

دیگر عوامل

ٹرمپ کے علاوہ دیگر دو عوامل نے بھی ڈیموکریٹس کی مدد کی۔ ان میں سے ایک کملا حارث کی بطور وائس پریزیڈینٹ نامزدگی اور دوسرا برنی سینڈر کی بائیڈن کے لیے بہت زورو شور سے چلائی جانے والی مہم تھی۔ کملا اپنی ذات میں ایک الگ کردار ہیں وہ بائیڈن کے مقابلے میں صدارت کی دوڑ میں شریک تھیں تاہم ڈیموکریٹس نے انہیں نامزدگی سے باہر کردیا۔ کملا حارث اپنے والد کی طرف سے سیاہ فام ہیں‌اور والدہ کی طرف سے ایشیائی انڈین یعنی تامل ہیں۔ ان کی نامزدگی سے ڈیموکریٹس نے غیر سفید فام امریکی ووٹ کا حصول ممکن بنایا۔

برنی سینڈر ڈیموکریٹس کے مابین ایک ترقی پسند اور وژنری سینٹر تھے۔ وہ شدت سے امریکی پالیسی میں‌تبدیلی کے خواہاں تھے اور انہوں نے اپنی تمام تر کوششیں ، ہیلتھ کئیر، یونیورسل ایجوکیشن اور موسمیاتی تبدیلیوں کی طرف مرکوز کر دیں۔ وہ اپنے دیگر ڈیموکریٹس ساتھیوں میں سے کہیں آگے تھے اور ایک آدمی پوری فوج کے مصداق تھے۔ جب کہ برنی سینڈر نے چند لوگوں کی حکومت کے خلاف بھی ان تھک کوششیں‌اور آواز بلند کی۔ اپنے مؤقف کی وجہ سے ان کو بائیں بازو کا فرد بھی کہا جاتا تھا اور اسی مؤقف کی بنا پر وہ اپنی پارٹی میں بھی معتوب ٹھہرے۔ برنی سینڈر بھی چار سال قبل صدارتی دوڑ میں شامل تھے تاہم ڈیموکریٹس نے انہیں ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں نامزد نہیں کیا۔ تاحال ڈیموکریٹس میں ان کی مخالفت جاری ہے۔

تمام تر دھوکے اور نفرت کے باوجود برنی نے بائیڈن کی فتح کے لیے مہم چلائی۔ ان کی متحرک مہم نے بائیڈن کی صدارتی مہم کو نئی قوت اور مہمیز بخشی ۔ یہ حقیقت ہے کہ برنی سینڈر کے چاہنے والوں نے بھی برنی کی وجہ سے جو بائیڈن کے حق میں ووٹ ڈالا۔ اب اگر ڈیموکریٹس اپنی فتح کو محض عطا کردہ سمجھتے ہیں اور امریکی معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو ایک طرف کر دیتے ہیں تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور ان کا انجام بھارت کی کانگریس پارٹی جیسا ہوگا۔

بھارت کی کانگریس پارٹی

بھارت کی نیولبرل کانگریس پارٹی کئی دہائیوں تک اس خطے کی ایک مقبول پارٹی تھی اور اس پارٹی نے قریبا 60 سال تک بھارت پر حکومت کی تاہم اس وقت اس پارٹی کی سیاسی مقبولیت بتدریج کم ہورہی ہے 1970 سے 1980 کے دوران کانگریس 545 میں سے400 نشستیں جیتنے والی جماعت تھی تاہم اب بہ مشکل یہ جماعت50 نشستیں بھی نہیں‌جیت پاتی۔

آج انتہا پسند ہندو تنظیمیں آر ایس ایس اور بی جے پی 302 سیٹیں لے کر حکومت کر رہی ہیں۔ اگر ان کے حلیفوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ کل 353 سیٹیں بنتی ہیں۔ بھارت کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا اور ایوان زیریں یعنی لوک سبھا دونوں جگہ انہی پارٹیوں کی اکثریت ہے۔ اورانہیں کسی بھی قانون سازی کے لیے کسی اور سیاسی پارٹی کی حمایت کی ضرورت نہیں۔ اوریہی وجہ ہے کہ وہ اپنا فاشسٹ ایجنڈا تیزی سے عمل میں‌لا رہے ہیں۔ اس اکثریت کی وجہ سے آج بھارتی مقبوضہ کشمیر ریاست کا درجہ کھو چکا ہے، مخالفین غداری کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جلاؤ گھیراؤ اور قتل عام عام ہوچکا ہے۔ کم ذات گروپوں اور مذہبی اقلیتیوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ہر اتنخاب فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑا اور جیتا۔

جس وقت انتہا پسند آر ایس ایس اور بی جے پی نے بابری مسجد کو شہید کیا دیگر سیاسی جماعتیں خاموشی سے تماشا دیکھتی رہیں جس کے نتیجے میں‌پورا ملک فرقہ وارانہ فسادات کی ذد میں‌آگیا ۔ آرایس ایس اوربی جے پی نے انتہا پسند ہندؤں کو اکٹھا کر کے دعوی کیا کہ ہندوی آبادی کا 80 فیصد ہیں‌اور مسجد کی جگہ مندر ان کا حق ہے۔ یہ دونوں انتہا پسند جماعتیں میڈیا پر بھی مضبوط کنڑول رکھتی ہیں۔ افغانستان پرامریکی حملے کے بعداسلاموفوبیا میں تیزی سے اضافہ ہوا اور بھارت نے بھی مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا اورمسلمان اپنی سرگرمیوں میں محدود ہو کر رہ گئے جبکہ ان کی مذہبی آزادی کو بھی ہر طرح سے چھین لیا گیا۔

بی جے پی کی طرح‌ کانگریس کے ہاتھ بھی سکھوں کے کون سے رنگے ہیں‌جب 1984 میں کانگریسی سرکار نے 3،000 سکھوں کو سکھ مخالف فسادات میں‌ہلاک کردیا تھا۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کی زیر سرپرستی جنم لینے والے ان فسادات میں فرق محض اتنا تھا کہ سکھوں کے خلاف فسادات کی وجہ اندرا گاندھی کا قتل اور اس کا رد عمل تھا ۔ یادرہے کہ اندرا گاندھی کو آئرن لیڈی بھی کہا جاتا تھا اور اس نے کانگریس کو ایک مضبوط جماعت بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ تاہم کانگریس نے بعدمیں اپنے جرم کو تسلیم بھی کیا تھا اور سکھ کمیونٹی سے اس کی معافی بھی مانگی تھی جب کہ کانگریس نے اپنے عمل پر تحریری صورت میں بھی پچھتاوے کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد کانگریس کے دوسکھوں ڈاکٹرمنموہن سنگھ اور کیپٹن امریندرسنگھ نے وزارت عظمی کا منصب بھی سنبھالا۔

اس سے لگتا ہےکہ کانگریس نے سکھ کمیونٹی سے اپنے تعلقات کی بحالی کےلیے سخت کوششیں کیں دوسری جانب آر ایس ایس اوربی جےپی کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ انہوں‌نے کبھی بھی مذہبی اقلیتوں کے خلاف اپنےجرائم کو تسلیم نہیں‌کیا بلکہ اپنے کارناموں کو فخرسےبیان کرتے دکھائی دیتےہیں۔ اس تمام صورتحال کی وجہ کانگریس کی مکمل خاموشی ہے۔ بی جے پی نے منافرت اور فرقہ واریت کےذریعے ہندؤں میں‌ اپنی مقبولیت کو بڑھایا جس پرکانگریس نے مکمل خاموشی اختیار کی اور اپنا امیج کھو دیا۔ 2002 میں گودھر کمیونل پرگروام کے تحت 2000 مسلمانوں کو درندگی سے ہلاک کردیاگیا ۔ اس وقت حالیہ وزیر اعظم نریندرا مودی گجرات کے وزیر اعلی تھے۔ مودی پرتمام ترالزامات ثابت تھےمگرکانگریس خاموشی رہی۔

ایک خفیہ وجہ

کانگریس کی خاموشی کی وجہ اس کا براہمنوں والی ذہنیت کے سوا کچھ نہیں۔ بھارت میں براہمن اعلی ذات کے ہندو ہیں اور کم ذات ہندو ان کی خدمت پر معمور ہوتے ہیں ۔ درحقیقت براہمن ہندو معاشرے میں‌آقا کا رتبہ رکھتے ہیں۔ اور اس وقت آر ایس ایس اور بی جے پی کے زیادہ تر رہنما براہمن ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مانو سمریتی میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ کم تر ذاتیں بشمول عورتوں‌کے اس لیے پیدا کی گئی ہیں‌کہ وہ اعلی ذات کے ہندوؤں کی خدمت کریں خاص طور پر براہمنوں کی۔ مانو سمریتی درحقیقت آریان کو اقتدار اعلی کا مالک سمجھتی ہے اور براہمن دیگر اعلی ذات کے ہندوؤں کی طرح خود کو آریان تصور کرتے ہیں۔ ان کےمطابق وہ لوگ جو آریان پیدا نہیں‌ہوئے درحقیقت اصلی غلام ہیں‌اور براہمنوں کی خدمات کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 25 دسمبر 1925 کو ایمبیڈیکر نے اس کی کاپی کو آگ لگا دی تھی۔

آر ایس ایس اور بی جے پی مانو سمیتری کواہمیت دیتے ہیں اور ایک مرتبہ انہوں نے مانو سمیتری کے مقابلے میں‌آئین کو معطل کرنے کی سفارش بھی کی۔ مانو سمیتری کے مطابق مذہبی اقلیتیں کم تر ہندوؤں کی طرح ہیں تاہم آر ایس ایس اور بی جے پی کا سب سے بڑا مسئلہ مسلمان تھے۔ اسلاموفوبیا کے بعد مسلمانوں کے ساتھ جوسلوک کیا گیا اس کی بڑی وجہ مانو سمیتری ہی تھی۔ مانوی سمیتری کی وجہ سے ہی مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر کے ان کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے ایجنڈےمیں واضح ہیں‌اور اورایک طویل عرصے سے کانگریس کی خاموشی کا مطلب بی جے پی اورآر ایس ایس کی حمایت ہی ہے۔ کانگریسی پارٹی کے زیرانتظام ایک علاقے راجھستان کے ہائی کورٹ میں مانو کا مجسمہ بھی نصب ہے۔

بہت سارےبھارتی خاص طور پرنارتھ انڈین انتہا پسندجماعت آرایس ایس اوربی جے پی کی حمایت کرتے ہیں۔ اوربھارت کے حالیہ معاشرتی اور سیاسی طرز عمل سے یہ بات بالکل واضح ہے۔ براہمنزم کو ہندو مذہب کا حصہ سمجھنے سے آر ایس ایس اور بی جے پی کےایجنڈے کی تکمیل ہوتی واضح طور پرنظرآرہی ہے۔

ممکنہ مستقبل:

اگر امریکی ڈیموکریٹ پارٹی چند لوگوں کی حکومت کو مقدم رکھتی ہے تو امریکہ کا مسقبل بھی بھارتی ڈسٹوپیا کی طرح‌ہی ہوگا۔ عیسائی قدامت پرستی کی ریپبلکن اور ٹرمپ کی حمایت پر خاموشی بلکہ اسی طرح‌ہے جس طرح‌ کانگریس آر ایس ایس اور بی جے پی انتہا پسندی پر خاموش ہے۔ ڈیموکریٹس کی سفیدبالا دستی کی خاموش حمایت نہ صرف ڈیموکریٹ پارٹی کو تباہ کرسکتی ہے بلکہ امریکہ کے لیے بھی سم قاتل ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ڈیموکریٹس سٹیٹس کو کے اثرسے نکلیں‌اوربائیں‌بازوکے ایجنڈےپر عمل پیرا ہوں۔

ڈیموکریٹس کو آزادی، مساوات اوربھائی چارےکی بنیادپراپنا بیانیہ دینا چاہیےنہ کہ انتہا پسندنظریات کے ہاتھوں میں کھلونا بن جانا چاہیے۔ جمہوریت پسندوں کا یہی عمل امریکی معاشرے اوراس کی جمہوریت کو روشن مسقتبل پرگامزن کرسکتا ہے۔ امریکی سیاسی جماعتوں کو بھارتی طرز کے ڈیسٹوپیا سے ہرصورت بچنا چاہیے اورامریکہ کومعاشی، سیاسی اورمعاشرتی سپرپاور رہنےکے لیےیہ عمل انتہائی ضروری ہے۔

جمعہ، 20 نومبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے