نواز شریف کے خودساختہ بیانیہ کی آگ سے ملکی سیاست میں چند ماہ پہلے جو ہلچل مچی تھی اس کی تپش  اب اپنا اثر دکھا رہی ہے۔ اس ایک بیانیہ نے گیارہ سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے بیانیہ کو ہلا کر رکھ دیا۔پی ٹی آئی البتہ بلی کو تھیلے میں آتے جاتے دیکھتی رہی اور ایسا ہی انتظار اسٹیبلشمنٹ نے بھی کیاحتی کہ بیانیہ کمزور پڑنے لگا۔

 پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس میں ملک کے شکست و ریخت کے بیانیہ کی جگہ میثاق پاکستان کے نام سے نئے بارہ نکات پیش کیے گئے ہیں۔ جن میں اسلامی نظام کی پاسداری، پارلیمنٹ کی خود مختاری،سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل ختم کرنا،آزاد عدلیہ کا قیام،الیکشن ریفارم،اٹھارہویں ترمیم کا احترام، لوکل گورنمنٹ کا قیام، اظہار رائے کا احترام، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لیے عملی اقدامات اور اسلامی شقوں کا نفاذ وغیرہ شامل ہیں۔ ان نکات میں حکومت گرانے، اسمبلیوں سے استعفی دینے اور اسمبلیا ں توڑنے کا کہیں ذکر نہیں جو صحت مند سیا سی گہما گہمی کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔

 گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعددھاندلی کے الزامات کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے تمام سیاسی جماعتوں کو متنازعہ حلقے کھولنے کی آفر دے دی ہے اور اگر حلقے نہیں کھلوانے تو انتخابی عمل پر سوال اٹھانے اور اسے سبوتاژ کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ گلگت بلتستان کے الیکشن سے تمام پارٹیوں پر اپنی اپنی پوزیشن واضح ہو گئی ہے۔ بلاول بھٹو کی 27 روزہ مہم کے جو نتائج آئے اور مریم نواز کا جوبیانیہ بکا وہ سب نے دیکھ لیا۔پی ٹی آئی کے پندرہ سولہ سیٹوں کے دعوے کی قلعی بھی کھل گئی۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی حالات کو دیکھتے ہوئے پینترا بدلا اور اپوزیشن کو الیکشن ریفارمز کی دعوت دے دی تاکہ دھاندلی کے جس الزام نے پچھلے سات سالوں سے حکومتی نظام کی جو چولیں ہلائیں ہیں انھیں کسی طرح دوبارہ مضبوط کیا جائے۔وزیر اعظم نے اپوزیشن کو الیکشن ریفارمز کرنے یعنی ا

الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام اپنانے،تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے،نئے صوبے بنانے کی بات کی۔چیف آف آرمی سٹاف کا کہنا ہے کہ اگر سیاست دان اپنی اصلاح کر لیں اور پارلیمنٹ کو مضبوط کریں تو اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے۔دوسری طرف نواز شریف کے بیانیہ سے تمام تر اختلاف کے باوجود خاطر غزنوی کے الفاظ میں اتنا تو کہا جا سکتا ہے :

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

 سیاست دانوں کو بالآخر احساس ہو گیا کہ آج کے دور میں حکومت تک پہنچنے کے چور راستے بدنامی کے سوا کچھ نہیں دیتے۔افراد کے بجائے نظام کو اتنا صاف شفاف ہونا چاہیے کہ افراد خود بخود’ فلٹر‘ ہو کر علیحدہ ہو جائیں اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی اندازہ ہو گیا کہ سانجھے کی ہنڈیا چوراہے میں پھو ٹتی ہے تو کیا کچھ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہیں کچھ اچھا ہو رہا ہے، کچھ بدل رہا ہے۔

اچھا تویہ بھی ہوا کہ ایک ایسے وقت میں جب لاہور اسی کلو میٹر فی گھنٹہ چلنے والی اورنج ٹرین کے مزے لے رہا ہے 30-40 کلو میٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ سے 20 سال بعد بالآخر کراچی سرکلر ریل چل پڑی ہے۔ چھیالیس کلو میٹر کے ٹریک پر چلنے والی یہ سرکلر ریل چودہ دسمبر تک ساٹھ کلو میٹر ٹریک پر چلنا شروع کر دے گی۔ ٹرین کا یک طرفہ کرایہ پچاس کے بجائے تیس روپے کر دیا گیا ہے۔ سرکلر ریل کی بحالی میں عدالتی حکم کا بڑا عمل دخل ہے۔ اس کا اطلاق ہو جانے کا مطلب ہے کچھ اچھا ہو رہا ہے۔

ریلوے کی زمین کے علاوہ ملک بھر میں ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین قبضہ مافیا سے چھڑوانا بھی ملک کے لیے کچھ اچھا ہونے کے مترادف ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ پچھلے دو سالوں میں محکمہ اینٹی کرپشن کے ذریعے حکومت نے مافیا پر ہاتھ ڈال کر 206 ارب روپے سےزائد کی وصولی کی جس میں ایک ارب پینتیس کروڑ کی سرکاری زمیںن واپس لی گئی۔ زمین کی واپسی کا یہ کام ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی جاری ہے۔کھوئی ہوئی دولت ملنے سے بزدار صاحب تو خوش ہیں لیکن اس میں ملک کے لیے بھی کچھ اچھا ہو رہا ہے۔

 دوسری طرفملک کے مالیاتی نظام کے ریگولر ہونے سے نہ صرف عالمی سطح پر ستائش ملی اور فیٹف سے نکلنے کا راستہ آسان ہوا بلکہ منی لانڈرنگ کے راستے بند کرنے کے لیے قانون سازی کا بھی آغاز ہوا۔ملک میں ٹیکسٹائل کی صنعت دوبارہ زندہ ہو گئی۔دنیا بھر سے آرڈرز ملنے شروع ہو گئےاور روزگار کے نئے مواقع کھلنے لگے تو معیشت کے لیے اچھا ہو گیا۔

اچھا تو یہ بھی ہوا کہ جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہیومن رائٹس کمیشن اورسولہ سینئر صحافیوں کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ایک پٹیشن کی سماعت ہوئی۔جس میں پیمرا کے ایک حکم کو بنیاد بنایا گیا تھا کہ آرٹیکل 19 کے تحت ہر شخص کو آزادی رائے کا حق حاصل ہے۔اس لیے پیمرا کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔محترم چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے صحا فیوں سے پوچھا کہ کیا مجرموں اور مفروروں کو بولنے کا حق دے دیا جائے؟ جو لوگ عدالتوں میں حاضر ہونا پسند نہیں کرتے آپ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں ریلیف دے دیں؟ مفرور کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔اس کی تو شہریت بھی معطل ہو جاتی ہے۔نواز شریف کے لیے کام کرنے والے صحافی جن میں حامد میر سے لے کر سلیم صافی،عاصمہ شیرازی اور نسیم زہرہ شامل ہیں، آج سب بے نقاب ہو گئے۔ یہ لفافہ صحافت کے لیے تو شائد شرمناک تھا لیکن اصل صحافت کے لیے نئی زندگی کا آغاز ہے۔خبر ہے کہ بہت سے صحافیوں نے بعد میں پٹیشن سے دست برداری کا اظہار کر دیا،گویا کچھ اچھا کر دیا۔

جمعتہ المبارک،20 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے