پوری دنیا کی نگاہیں ایک وقت چائنا اوربھارت تنازعے پر ٹکی ہوئی تھیں اور دونوں اطراف میں جنگ کی پیشن گوئیاں کی جا رہی تھیں تاہم اس وقت چین اور بھارت سے تمام تر توجہ ہٹ کر مشرق وسطی میں‌اسرائیل ایران تنازعے پر مرکوز ہو گئی ہیں جس کے بارےمیں یہ کہا جارہا ہے کہ اس تنازعے کا انجام تیسری جنگ عظیم کی صورت میں نکل سکتا ہے اور اس کی بڑی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے ووٹرز کے مابین بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔ ڈونلڈٹرمپ کے حامی انتخابات میں مبینہ دھوکہ دہی کے خلاف احتجاج کے لیے واشنگٹن کی طرف رواں دواں ہیں اور امریکی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہورا ہے۔ خدشہ ہے کہ دونوں کے حامیوں کے مابین جھڑپوں سے بہت ساری اموات واقع ہوسکتی ہیں۔

نومبر 17، 2020 کو گارڈین اخبار کی اطلاع کے مطابق ٹرمپ انتقال اقتدار میں ہرگز سنجیدہ نہیں ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انتقال اقتدار سے قبل ٹرمپ ایران پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہےہیں ۔ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے ایران کی نیوکلیر سائٹس پرحملے کے لیے آپشن مانگے ہیں جس کے جواب میں‌ایران نے بھرپور جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔ بائیڈن کے مقابلے میں‌اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی نئی جنگ نہیں‌چھیڑی تاہم ایران کے نیوکلیر پروگرام کو بہانہ بنا کر اسرائیلی لابی مسلسل ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرے۔ اور یہ دباؤ‌گزشتہ چار سالوں سے ڈالا جا رہا ہے اوراب ایسا لگ رہا ہےکہ یہودی لابی کو خوش کرنے کے لیے ایران پرحملے جیسا سنگین قدم اٹھا لے گا جس کا نتیجہ تیسری جنگ عظیم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔اس سے قبل عراق پر بھی کیمیائی اور جوہری ہتھیاروں کا الزام لگا کر اسے راکھ کے ڈھیر میں بدلا جا چکا ہے ۔ عراق جنگ میں‌لاکھوں‌افراد کی ہلاکت اور اس کے بعد افغانستان، شام، لیبیا اور یمن کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

واضح رہے کہ مئی 2018 میں‌ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ ایران نیوکلیر ڈیل کا خاتمہ کر دیا تھا جس کےجواب میں اسرائیلی وزیر اعظم نے بڑے فخرسے یہ شیخی بگھاری تھی کہ اس ڈیل کا خاتمہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے کیا ہے۔ گو کہ ٹرمپ نے اس تاثر کی نفی کی تھی تاہم یہ ممکن ہے کہ اس وقت ہو اسرائیلی دباؤ میں یہ بھیانک قدم اٹھا لیں کیونکہ ٹرمپ کے پاس ابھی 65 دن باقی ہیں اور اگر ایسا نہ بھی ہوا تب بھی ممکن ہے کہ بائیڈن وہیں سے اس کام کو شروع کریں جہاں سے ٹرمپ نے اسےچھوڑا ہو۔ اس لیے چاہے جو بائیڈن ہوں یا ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ جو بائیڈن نے کئی مرتبہ خود کہ صیہونی تسلیم کیا ہے۔

عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ اسرائیلی تعلقات کی بحالی میں‌ٹرمپ نے اسرائیل کے حامی کے طور پر ڈھکا چھپا کردار ادا کیا جب کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دلوانے میں بھی ٹرمپ نے اپنا کردار کھل کر ادا کیا تھا۔ یہ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے مغربی کنارے کے الحاق کا منصوبہ تیار کیا تھا اور یہ بات بھی واضح تھی کہ ٹرمپ اگر دوبارہ اقتدار میں‌آجاتے تو اس منصوبے کو حتمی شکل مل جاتی۔ تاہم اسرائیل کی منشا کے مطابق ٹرمپ کسی جنگ میں نہیں‌کودے اور اسی یہودی منشا کے لیے ٹرمپ اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے کوشاں‌ہیں‌۔ مائیک پومپیو کی تعیناتی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ پومپیو نے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ دوسری مرتبہ بھی منتخب ہوں گے۔ پومپیو واحداعلی امریکی عہدیدار تھے جنہوں نے مغربی کنارے پر اسرائیل کی غیر قانونی تعمیرات کا نہ‌صرف دورہ کیا بلکہ اس کو جائز قرار دیا۔

دوسری جانب ایران بھی اپنی تیاریوں میں مگن ہے اور اپنے بارڈرز کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ 10 نومبر 2020 کو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اسی لیے پاکستان کا دورہ کیا کہ وہ پاکستان کو اپنے خدشات سے آگاہ کرے کیونکہ ایران کو خدشہ ہے کہ امریکہ پاکستان کے شمسی ائیر بیس کو استعمال کر کے ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکہ کے پاس دوسرا آپشن قطرمیں‌اس کی سب سے بڑی ائیر بیس ال عدید ہے۔ اسی وجہ سے قطر کے ائیر چیف نے 17 نومبر 2020 کو پاکستان کا دورہ کیا تاکہ معاملات واضح ہوس کیں کیونکہ قطر بھی امریکہ کو ایران پر حملے کی اجازت نہیں دے گا۔ بصورت دیگر ایران قطر کی ائیر بیس پر حملے سے باز نہیں‌آئے گا۔ مزید برآں‌قطر ترکی کا بھی حلیف ہے اور ایران، پاکستان اور ترکی اب ایک بلاک کی صورت میں اکٹھے ہیں اور اس بلاک کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

مزید برآں چین اور ایران کے مابین 400 بلین ڈالر کا ایک بہت بڑا تاریخی معاہدہ بھی طے پاچکا ہے جس میں فوجی، تجارتی اور دیگر سٹریٹجک معاہدے شامل ہیں ۔ اس معاہدے سے مشرق وسطی، اسرائیل، امریکہ اور بھارت ہرگز خوش نہیں ہیں۔ اسی معاہدے کے نتیجے میں‌چین نے بھارت کو چاہ بہار منصوبےسے الگ کر دیا تھا اور بھارت کے وزیرخارجہ جے شنکر اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی تمام تر کوششوں‌کے باوجود یہ معاہدہ دوبارہ واپس نہیں‌ہوسکا۔ اگر ٹرمپ ایران کے خلاف حملے کا گرین سگنل دیتا ہے تو اس کے سب سے زیادہ اثرات چین اور پاکستان پر ہوں گے جو پہلے ہی بھارت کے خلاف کشمیر پر غاصبانہ قبضے کی وجہ سے تلواریں سونتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اس پر قبضہ کر لیا ہے اور اسی وجہ سے چند ماہ قبل پاکستان نے سعودی عرب سے راہیں جدا کر لی تھیں‌کیونکہ پاکستان کے خیال میں سعودی عرب نے کشمیر کے معاملے میں‌پاکستان کی مدد نہیں‌کی۔

گزشتہ برس جولائی میں‌عراق سے ایک مشتبہ میزائل، سٹیلتھ فائر حملے یا سائبر حملے میں‌ ایران کے ساتھ جہازوں کو آگ لگ گئی تھی تاہم جو بھی اس کا سراسر فائدہ اسرائیل کو ہوا۔ دوسری جانب بھارت اسرائیل کے بہت قریب ہے۔ بھارت اور روس کے مابین بھی انتہائی قریبی تعلقات ہیں تاہم روسی وزیر اعظم ولادی میرپیوٹن نے بھارت کو کالی بھیڑ قرار دیا ہے کیونکہ بھارت روس کو خیر باد کہہ کر ” بیکا” معاہدے کا حصہ بننے والا ہے جبکہ بھارت کے 70 فیصد اسلحےپرروسی مہرثبت ہے۔ اس تمام کے باوجود اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو چین اورپاکستان دونوں سی پیک کی وجہ سے ایران کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ اوراس صورت میں تمام ترفائدہ بھارت کو ہوگا۔ یہ سب ہوگا اگرچہ ٹرمپ جا رہا ہے اوربائیڈن آرہا ہے۔

 

ہفتہ، 21 نومبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے