جرمنی کی ڈی پی اے نیوز ایجنسی کو ایک حالیہ انٹرویو میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیاربنانے میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو سعودی عرب کے پاس بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا آپشن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران اٹیمی ہتھیا ر بنا لیتا ہے تو دوسرے ممالک بھی ایسا کرنے پر مجبور ہوں گے۔ عادل الجبیر نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنے شہریوں اور علاقہ کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھا ئے گا۔

 سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیزکے طرف سے کچھ عرصہ قبل ایک بیا ن میں دنیا کو خبردار کیا گیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جائے ورنہ اس کے نتائج خطرناک ہو نگے۔جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کی باتیں شروع ہو گئی تھیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق سیکرٹری دفاع مارک اسپر نے ٹرمپ کا اسرائیل کو ایران کے خلاف مہم جوئی کا گرین سگنل دینے کا تذکر ہ کیا تھا۔

          سعودی عرب اور ایران مشرق وسطیٰ میں ایک دوسر ے کے پرانے حریف ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف شام اور یمن سمیت مختلف ممالک میں پراکسی وار میں مصروف ہیں۔ایران کے اٹیمی ہتھیاروں کی تیاری کی وجہ سے اسے امریکا کی طرف سے مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایران کے ساتھ کیاگیا جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کا معاہدہ ختم کر دیا تھا۔خبر یہ ہے کہ ایران نے ان تین سالوں کے دوران اتنی مقدار میں یورینیم کی افزودگی کرلی ہے کہ اسے اٹیمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے زیادہ وقت درکار نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکی انٹیلی جنس رپورٹس یہ ہیں کہ امریکا میں اقتدار کی منتقلی سے قبل ایران اٹیمی دھماکا کرنا چاہتا ہے تاکہ آنے والی امریکی حکومت کے ساتھ کسی معاہدہ کی صورت میں اس کی اٹیمی پروگرام پر کوئی قد غن نہ لگے۔اسی طرح اسرائیل اور سعودی عرب کو ٹرمپ دور میں خطے میں نئے تجربات کرنے کے لیے جو فری ہینڈملا ہوا تھا شاید آنے والی حکومت دنیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اتنا فری ہینڈ نہ دے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سعودی حکومت اور اسرائیل ایران کی اٹیمی صلاحیت کو ختم چاہتے ہیں۔

          پاکستان اور سعودی عرب کے ما بین تلخی کے جو بھی عوامل رہے ہوں اب چین اور پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے ایرانی تعلقات سعودی عرب کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ اٹیمی ہتھیاروں سے لیس یہ دونوں ممالک اگر ایران کو وہ تکنیکی معاونت فراہم کر دیں جس سے ایران اپنے اٹیمی پروگرام کو آخری شکل دے پایا تو سعودی عرب کے لئے سلامتی کے نئے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔سعودی وزیر خارجہ کے اس بیان کو اہمیت دینا دنیا کی مجبوری بن جائے گا کیونکہ دنیا مزید اٹیمی ہتھیاروں سے لیس ممالک کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔یہی وجہ ہے کہ بااثر عالمی ممالک کو بھی اٹیمی ہتھیار بنانے کی دوڑ سے روکنے کے لیے انتہائی کوشش کی جاتی ہیں۔

دو ہزار پندرہ  میں صدر اوباما کے دور میں دنیا نے ایران پر دباؤ ڈال کر اس کے اٹیمی پروگرام کو محدود کیا تھا جس پر ایران کئی دہائیوں سے کام کر رہا تھا۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران صرف دباؤ کی زبان سمجھتا ہے۔ایسا کہنا سعودی ارادوں کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ ان ممالک کے لیے بھی گرین سگنل ہو گا جو اٹیمی ہتھاروں پر کام کر چکے ہیں لیکن عالمی پابندیوں کے ڈر سے تسلیم نہیں کرتے۔ دنیا میں اس وقت نو ملکوں کے پاس اٹیمی ہتھیار موجود ہیں جن میں پی فائیو کے ممالک یعنی امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔ان کے علاوہ اسرائیل، بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا کے پاس بھی اٹیمی ہتھیاراور وار ہیڈز موجود ہیں۔ اسرائیل کے اٹیمی ہتھیار ڈیکلیئرڈ نہیں ہیں۔ تاہم ان تینوں ممالک نے اب تک Non-Proliferation Treatyپر دستخط نہیں کیے جورکن ممالک کو مزیداٹیمی ہتھیار بنانے سے روکتا ہے۔پی فائیو کے ممالک نے NPT پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اب اگر ایران اٹیمی ہتھیار بنا لیتا ہے تو باقی ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب اگلا قدم اٹھانے سے دریغ نہیں کرے گا۔

اسرائیل کی ایرانی تنصیبات پر حالیہ حملے نے صورتحال مزید کشیدہ کر دی ہے ۔اسرائیل کی طرف سے شام میں ایران کی القدس فوج پر حملے کیے گئے ہیں اور ان کواسرائیل کی طرف سے باقاعدہ تسلیم کیا گیاہے۔ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے سائبر سیکورٹی اورانفرا سٹرکچر سیکورٹی کے ڈائریکٹر کو تبدیل کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایران پر سائبرسیکورٹی حملے بھی ہو سکتے ہیں۔ایران پر اسرائیلی حملے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ امریکا کے حلیف بھی اب امریکا کو ایک متوازن پالیسی اپنانے کی تلقین کر رہے ہیں فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے اس پر مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ یہ بیان امریکا،سعودی عرب اور اسرائیل کے منصوبہ کی روشنی میں دیا گیا ہے جو اگلے چند دنوں میں دنیا کی حالت بدلتی ہوئی دکھا رہاہے۔

ہفتہ،21 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے