اسلام آباد: جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے واپس کی گئی درخواست کے فیصلے کے خلاف سابق صدر آصف زرداری کی دائرکردہ 4 اپیلوں کے سیٹ پر 25 نومبر (بدھ) کو سماعت کریں گے۔

خیال رہے کہ آصف علی زرداری نے اپنے خلاف 4 کرپشن ریفرنس کو اسلام آباد سے کراچی کی احتساب عدالت منتقل کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے ان کی درخواست کو واپس کردیا تھا، جس پر سابق صدر نے اس فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔

 14 نومبر کو سابق صدر کی جانب سے سینئر وکیل سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے 10 نومبر کے رجسٹرار آفس کے 4 درخواستوں کو واپس کرنے کے فیصلے کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کی تھیں۔

رجسٹرار کی رائے میں یہ درخواستیں سپریم کورٹڑ کے پہلے فیصلوں کے دوسرے جائزے کے مترادف ہیں لہٰذا انہیں سنا نہیں جاسکتا۔

واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 4 ریفرنسز جعلی بینک اکاؤنٹس ریفرنس، پارک لین ای اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ریفرنس، ٹھٹہ واٹر سپلائی ریفرنس اور توشہ خانہ کرپشن ریفرنسز کا سامنا کر رہے ہیں۔

احتساب عدالت کی جانب سے 9 ستمبر کو توشہ خارنہ ریفرنس، 10 اگست کو پارک لین ای اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے مبینہ طور پر بے نامی جائیدادیں بنانے کے لیے منی لانڈرنگ کے الزامات جبکہ 5 اکتوبر کو ٹھٹہ واٹر سپلائی ریفرنس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں فرد جرم کی کارروائی مؤخر کردی گئی تھی۔

عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی چیمبر اپیلوں میں اعتراض اٹھایا گیا کہ رجسٹرار کا حکم قانون کے زمرے میں نہیں آتا ساتھ ہی یہ سپریم کورٹ کی جانب سے بیان کردہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

’انصاف کے محفوظ فراہمی‘ کے لیے درخواست میں کہا گیا کہ یہ درخواست گزار کا آئینی حق ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے لیکن رجسٹرار کے حکم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اپیل کرنے والے کے حق کو ادارہ جاتی سطح پر سلب کیا جارہا ہے۔

درخواست میں نکتہ اٹھایا گیا کہ 10 نومبر کے حکم نامے پر اسسٹنٹ رجسٹرار نے رجسٹرار کی طرف سے دستخط کیے گئے جو ہہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے قوانین کے خلاف تھا۔

سابق صدر نے درخواست میں کہا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار کی جانب سے رجسٹرار کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون پر غور کیے بغیر اپنی من مانی کرکے اپیل واپس کی گئی۔

درخواست میں ان کا مزید کہنا تھا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے 7 جنوری 2019 کو جاری کی جانے والی ہدایات غور نہیں کیا گیا جس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو کہا گیا تھا کہ کہ اسلام آباد میں جعلی اکاؤنٹس پر کرپشن ریفرنسز کو شروع کیا جائے مگر اس میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ اگر کسی بھی وقت کسی بھی فریقن کی جانب سے درخواست پر معاملے کو دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تو یہ کیا جاسکتا ہے۔

مندرجہ بالا اعتراضات کے تناظر میں درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کے پاس یہ حق تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے دفتر کی جانب سے دوسرا جائزہ قرار دے کر واپس کی گئی درخواست پر اپیل کریں۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے