وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ کراچی میں ترقیاتی جاری ہیں اور اگلے سال کے وسط تک گرین لائن چلا دی جائے گی۔

اسد عمر نے گورنر سندھ عمران اسمعیل کے ساتھ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی پیکج کا کراچی کے لیے اعلان کیا گیا تھا تو لوگوں کی اس میں بھی دلچسپی ہے کہ اس میں کیا پیشرفت ہوئی، وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آنے والے ہفتے میں وہ تمام منصوبوں کا جائزہ لیں گے تو ہم کراچی پیکج بھی ان کے سامنے رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ بہتر بنانے کے لیے کام ہو رہا ہے اور اگلے سال کے وسط تک گرین لائن یہاں چلتی ہوئی نظر آئے گی۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ کراچی میں کو 5 منصوبے وفاق کی ذمے داری تھی ان میں کے فور شامل ہے، 2 ریلوے کے منصوبے ہیں اور گرین لائن سمیت چاروں منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے جبکہ گرین لائن پر عملدرآمد آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانچواں کام نالوں کی صفائی اور ان کی ازسرنو تعمیر ہے تاکہ صرف ایک مرتبہ صفائی کی بات نہ ہو بلکہ مستقل بنیادوں پر ایسا حل نکالا جائے کہ کراچی جو بار بار بارشوں میں ڈوبتا ہے وہ ہمیں نہ نظر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا جو پہلا حصہ ہے اس کے تحت سندھ حکومت نے وہاں سے تجاوزات کو ہٹانا ہے اور وہاں موجود لوگوں کے لیے متبادل انتظام کرنا ہے، اس پر گزشتہ ایک ہفتے کے دوران محمودآباد میں کام شروع ہوا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ جتنی جلدی سندھ حکومت اپنا کام مکمل کر لے گی تو پیچھے وفاق کے کام کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے اور کراچی میں تباہی مچانے والے اس پانی کو سمندر تک پہنچانے کے سلسلے میں منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

ان کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کام ہو رہا ہے اور اگلے ہفتے جب وزیراعظم کا تفصیلی جائزہ مکمل ہو جائے گا تو ہم کراچی کے عوام کو آگاہ کریں گے کہ اب تک ہم نے کتنی پیشرفت کی ہے اور ہم اپنے وعدوں کو بروقت پورا کریں گے۔

انہوں نے این ایف سی ایوارڈ میں سندھ حکومت کی رقم میں کٹوتی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں، جتنا بھی قابل تقسیم ریونیو ہے وہ براہ راست بھی مداخلت کے بغیر کسی مجموعی فنڈز میں جاتا ہے اور سندھ کی حکومت کے پاس اپنی ریونیو اتھارٹی بھی ہے، وہاں سے بھی پیسہ آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے ابھی ہمیں بتایا کہ 700 ارب روپے کے کراچی کے لیے منصوبے بجٹ میں رکھے ہیں تو وہ 700ارب روپے خرچ کیوں نہیں کرتے، ہمیں خوشی ہوگی۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ 2021 موسم گرما میں مکمل ہو جائے گا لیکن ریلیف فوری امداد کے لیے ہوتا ہے جیسے کورونا کے لیے دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکج جو کہ 200ارب روپے کا تھا، احساس پروگرام کے ذریعے غریب ترین پاکستانیوں تک پہنچایا گیا، اس کا 34فیصد پیسہ تقریباً 65 ارب روپے سندھ کے عوام کو ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں پورا منصوبہ بنانا ہے اور جولائی سے ستمبر کے درمیان یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جزیروں پر بات چیت چل رہی ہے اور سندھ حکومت کے ساتھ اس کی بات چیت جاری ہے، وفاق نے جزیرہ جیب میں لے کر بھاگ تو نہیں جانا، جو بھی ترقی ہو گی سندھ کے لیے ہو گی، کراچی کے لوگوں کو روزگار اور سندھ کو ریونیو ملے گا۔

اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسمعیل نے کہا کہ یہ جزیرہ سندھ کے لیے گیم چینجر ہو گا، اس کا سارا ریونیو حکومت سندھ کو ملے گا اور وفاق ایک پیسہ بھی یہاں سے لے کر نہیں جائے گا، یہ 800 ایکڑ کا جزیرہ ہے اور سری لنکا اس سے بہت چھوٹا جزیرہ ہے اور اس کا 10 فیصد بھی نہیں ہے تو وہاں 14ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم توقع کررہے ہیں کہ اتنے بڑے جزیرے پر 50ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی، ڈیڑھ لاکھ سے زائد نئی نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، یہاں بین الاقوامی معیار کی مچھلی مارکیٹ بنائی جا رہی ہے جس سے ہمارے مچھیروں کو سہولت ملے گی اور سستے داموں بکنے والی مچھلی مہنگی بکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہر حال میں ہمارے سندھ کے لیے خوشحالی خوشخبری ہے تو جو بھی سندھ حکومت کے اس حوالے سے اعتراضات ہیں ہم انہیں دور کریں گے لیکن اس کو مثبت انداز میں دیکھا جائے کیونکہ یہ جزیرہ سندھ کی معاشی صورتحال کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو گا۔

محمودآباد میں تجاوزات پر آپریشن کے دوران مزاحمت کے سوال پر اسد عمر نے کہا کہ اگر سندھ کی زمین پر ناجائز قبضہ ہوا ہے تو یہ وفاق کی کیسی ذمے داری بن گئی، زمین آپ کی، قبضہ آپ نے کروایا اور آپ کہتے ہیں کہ وفاق اس کو آ کر واگزار کرائے، تو جزیروں میں اتنا شور کیوں مچ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ 100فیصد ذمے داری سندھ حکومت کی ہے لیکن اس کے باوجود وفاق نے اربوں روپے اس کام کے لیے مختص کیے ہیں، وفاق کا پیسہ حاضر ہے اور اسے اٹھانا سندھ حکومت کا کام ہے۔

ایک سوال کے جواب میں گورنر سندھ نے کہا کہ کشمور میں بچی سے زیادتی دل کو لرزا دینے والا واقعہ تھا، اس بچی کو سندھ حکومت فوری طور پر کراچی لائی اور پولیس نے بہترین کارروائی کی۔

اس موقع پر انہوں نے اے ایس آئی کی بیٹی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنے میں آسان لگتا ہے لیکن اگر کسی کو کہا جائے کہ اپنی بیٹی دینا، ڈاکوؤں کو دے کر آنی ہے تاکہ وہاں سے ہم غریب کی بچی کو چھڑا لیں، اے ایس آئی نے جس طرح اپنی فیملی کو داؤ پر لگا کر اس بچی کو چھڑایا ہے وہ قابل ستائش ہے جبکہ ہم اے ایس آئی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دینے کی سفارش بھی کررہے ہیں۔

عمران اسماعیل نے کہا کہ اس قسم کے گھناؤنے واقعات کی روک تھام کے لیے بل پر بات ہو رہی ہے، شیریں مزاری اس کو حتمی شکل دے رہی ہیں، انشااللہ پاکستان میں بچوں کے ریپ کے کیسز میں سزائے موت سے کم کوئی سزا نہیں ملے گی۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے