سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ 23 نومبر کو ہونے والے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں سعید غنی نے لکھا کہ تعلیمی اسٹیئرنگ کمیٹی کا آج ہونے والا اجلاس ایک مشاورتی اجلاس تھا جس میں وفاقی حکومت کی دی گئی تجاویز پر ارکان سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ حکومت سندھ، محکمہ صحت کی مشاورت اور وفاقی حکومت کے 23 نومبر کو ہونے والے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔

قبل ازیں آج ہونے والے اجلاس میں مختلف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے اسکولوں کو بند نہ کرنے کی تجاویز دیں۔

کمیٹی اراکین کی جانب سے اجلاس میں رائے دی گئی کہ اسکولوں کو بند کہ کیا جائے جس پر حتمی فیصلہ وزیر تعلیم سندھ مشاورت کے بعد کریں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سعید غنی نے کہا تھا کہ اسکول بند نہ کرنا صوبائی حکومت کی ضد نہیں ہے صورتحال خراب ہونے پر انہیں بند بھی کیا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزارت تعلیم نے تعلیمی سیشن کو 31 مئی تک توسیع دینے کی تجویز دیتے ہوئے صوبوں سے کہا تھا کہ 24 نومبر سے 31 جنوری تک تعلیمی ادارے بند کردیے جائیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ وفاقی وزارت تعلیم نے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے پر تعلیمی اداروں سے متعلق تجاویز صوبوں کو بھجوا دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو تجویز دی گئی تھی کہ تعلیمی اداروں کو 24 نومبر سے 31 جنوری تک بند کر دیا جائے، 24 نومبر سے پرائمری اسکول، 2 دسمبر سے مڈل اسکول اور 15 دسمبر سے ہائر سیکنڈری اسکولوں میں بچوں کو آنے سے روک دیا جائے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے اور اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ سندھ ہے۔

کورونا کی اس دوسری لہر کے باعث صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ایس او پیز پر عمل درآمد پر سختی کرنے پر زور دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا وائرس کے 2 ہزار 843 کیسز اور 42 اموات کا اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔

اس طرح ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 71 ہزار 508 تک پہنچ گئی ہے جس میں سے 3 لاکھ 28 ہزار 931 صحتیاب ہوئے ہیں جو 89 فیصد جبکہ اموات کی تعداد 7 ہزار 603 ہے۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے