اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے عالمی برادری کو متنبہ کیا ہے کہ جنگ زدہ یمن بدترین قحط کے شدید خطرات سے دوچار ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو جنگ زدہ یمن کے بدترین قحط کے شدید خطرات سے دو چار ہونے کا خدشہ ہے جس میں لاکھوں جانوں کے ضیاں کا خطرہ ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے عالمی رہنماؤں سے اس تباہی کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے امن عامہ کی صورتحال مزید خراب ہو۔ جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔

یمن کی 28 ملین آبادی میں سے دو تہائی افراد بھوک کا شکار ہیں اور ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اس سال شدید شدید غذائیت کے واقعات میں 15.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کم سے کم 98 ہزار بچے موت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ اب تک، پانچ سال سے کم عمر کے 85,000 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان بچوں کا خون ہم میں‌سے ہرایک کے ہاتھ پرجو خاموشی سے یمن میں‌سعودی جنگی جرائم کا تماشا دیکھ رہا ہے۔ سعودی بربریت کی وجہ سے لاکھوں بچے موت کے منہ میں چلے گئے اورباقی جا رہے ہیں مگر دنیا تماشائی ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ آج یمنی بچوں کے بے گورو کفن لاشے چیخ چیخ کرکہہ رہے ہیں

میں کس کے ہاتھ اپنا لہو تلاش کروں
تمام دنیا پہنے ہوئے ہے دستانے

یمن میں‌ہر دس منٹ بعد پانچ سال سے کم عمر کا بچہ غذائی قلت سے موت کا شکار بن جاتا ہے۔ پہلے سے شدید غربت پھر جنگ اور اس کے ساتھ سعودی اتحادیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی نے خوراک کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس دوران عارضی جنگ بندیاں بھی ہوئیں لیکن ان جنگ بندیوں سے یمنیوں کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں ہوئی ، آنے والے دنوں میں بھی مشکلات میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ۔ جب تک سعودی اتحاد کے سر سے یہ نشہ نہیں اترے گا تب تک بمباری جاری رہے گی اور جب سعودی اتحاد کو ہوش آئے گا تو ان کو بھی اپنے دامن میں شاید صرف پیوند نظر آئیں۔

انسانیت کے علمبردارمغربی ممالک ان سسکتے بچوں کی آہیں کیا سنتے الٹا انہوں نے سعودی عرب کی بربریت کی حمایت شروع کر دی۔ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ مغربی حکومتیں‌ جن کے پاس فنڈز مہیا کرنے کے ذرائع بھی موجود ہیں انہوں نے اس معاملے میں‌کچھ نہیں‌کیا بلکہ ان میں‌سے بعض نے الٹا سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کیے جو یمن میں‌جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ممالک کو یمن میں‌بدترین انسانی المیے کی نسبت ریاض کے ساتھ اپنے مالی مفادات عزیز تھے۔بلاشبہ یہ پہلا واقعہ نہیں‌ہے کہ یمن کے لیے فنڈز کی قلت ہے ۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے وہ یمن میں‌بہت سارے انسانی امداد کے پروگرام بند کرنے پر مجبور ہیں ۔ ادارے کے مطابق ممبر ممالک نے جس رقم کا وعدہ کیا تھا وہ اسے دینے میں ناکام رہے ہیں ۔ اس کی دوسری مثال یوں بھی لی جاسکتی ہے کہ خود کو انسانی حقوق کے چیمپین کہلوانے والے ممالک یمن کی قسمت کے بارے میں‌ ہرگز سنجیدہ نہیں‌اور وہ ہرگزاس بات کی پرواہ نہیں‌کرتے کہ یمن میں‌کس قدر بڑا انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔

بلاشبہ یمن میں‌ کلیوں کے مسلے جانے پر ہر احساس رکھنے والا دل افسردہ ہے۔ ہر صاحب احساس دل شکستہ اور آنسورواں ہیں ۔ معصومیت اور لطافت کے پیکر یمن کے بچے خون آشام بھیڑیوں کے نرغے میں ہیں۔سرزمین یمن پر حیوانیت ناچ رہی ہے اور امن کے ٹھیکیدار مہربلب ۔ہر قسم کی منافقت، دشمنی اور تعصب سے پاک ہنستی مسکراتی کلیوں کی کسی سے کیا دشمنی ؟ یہ بچے تو اس وقت پوری دنیا میں امن و آشتی کے سب سے بڑے پرچارک ہیں باقی تو ہرطرف نفرت اور تعصب ہی کا کاروبار ہے ۔ ان بچوں کا کسی’ قضیے‘سے کیا لینا دینا؟لیکن یہ نازک کلیاں آج دنیا بھر میں سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔خاک اور خون پر لوٹتے یمن کے بچوں کے معاملے پریہ سوال آخر کیوں نہیں‌اٹھایا جاتا کہ ہمارے دانش ور، قلم کار،صحافی ،علماء اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ افغانستان ، عراق اور شام میں ہونے والی قتل و غارت گری پر تو سراپا احتجاج نظر آتے ہیں لیکن یمن کے قتل عام پر خاموشی کیوں ہے اورامن عالم کے پرچم بردار کہاں ہیں؟

بچے تو بچے ہوتے ہیں اور بچے تو سبھی اچھے ہوتے ہیں وہ بھلے کسی بھی مذہب، رنگ ،نسل اور ذات پات سے تعلق رکھتے ہوں۔سچ پوچھئے تویمن میں تڑپتے یہ معصوم لاشے انسانیت، امن اور اسلام کے دعویداروں کے منہ پر ’زناٹے دار‘تھپڑ ہیں ۔ آقائے دو جہاںؐنے توفرمایا تھا کہ مجھے یمن کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں ۔کیا آج وہاں سے اٹھنے والی آہ و بکا اور قتل و غارت گری سے گنبد خضریٰ کے مکین ؐکادل نہیں دُ کھ رہا ہوگاکہ میری امت کے بچوں کا لہواس قدر ارزاں ہو چکا کہ اس پر کوئی ندامت کے چار آنسوبہانے والا بھی نہیں؟۔عراق ، افغانستان اور کشمیر میں بہنے والے لہو پر تو یہ کہہ کردل کا بوجھ ہلکا کرلیاجاتاہے کہ یہ سب ’کفریہ‘طاقتوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے لیکن یمن کے کٹتے بچوں پر کس کو دوش دیں؟کس کے خلاف احتجاج بلند کریں؟کسے وکیل کریں اورکس سے منصفی چاہیں؟ بقول فیض

نہ دست و ناخن قاتل، نہ آستیں پہ نشاں

نہ سرخئی لبِ خنجر، نہ رنگ نوکِ سناں

نہ خاک پر کوئی دھبا ،نہ بام پر کوئی داغ

کہیں نہیں ہے ،کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ مدعی نہ شہادت ،حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

ہفتہ، 21 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے