دنیا کی بیس بڑی معیشت کی حامل ممالک کی تنظیم G 20 کا دو روزہ پندرہواں اجلاس سعودی عرب کی سربراہی میں ختم ہو گیا۔ کورونا وبا کے پیش نظر اسے ورچوئل اجلاس کی شکل دینا پڑی تھی۔تاہم کورونا اور اس کے لیے تیا ر کی جانے والی ویکسین کی گونج اجلاس میں بھی سنی گئی۔ G 20 کے ممبران نے زور دیا کہ تیار شدہ ویکسین تک دنیا کے تمام ممالک کی رسائی ہونی چاہیے۔ صدر ٹرمپ انتظامیہ کی اپروچ پر تنقید کرتے ہوئے ترکی کے صدر طیب اردگان نے G 20 کے ممبران پر زور دیا کہ ایسی ویکسین کو انسانیت کے ناطے سب تک پہنچانے میں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔واضح رہے کہ امریکن لیبPfizer اورModerna   نے پچانوے فیصد نتائج کے ی دعویٰ کے ساتھ کامیاب ویکسین بنانے کا اعلان کیا ہے جبکہ روس اور چین اپنی ویکسین کا ٹرائل کر رہے ہیں۔ چینی صدر نے اس موقع پر دنیا کے دوسرے ممالک کو ہر قسم کی مدد اور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ و یکسین دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی رسائی میں ہو۔ چین WHO کے اس پروگرام Covax,کا سب سے بڑا سپورٹر ہے جس کے تحت عالمی سطح پر ویکسین کی تیاری اور تقسیم کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکا کے کورونا وبا کے پھیلنے پر خود کو WHO سے علیحدہ کرتے ہوئے اس کی فنڈنگ روک دی تھی۔ روس کے صدر پیوٹن نے بھی کورونا کے عالمی معیشت پر پڑنے والے برے اثرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

G 20 کے اس سمٹ سے سعودی عرب کو بہت زیادہ توقعات تھیں۔سعودی عرب اس سمٹ کے حوالے سے بہت پر جوش تھا کیونکہ محمد بن سلمان نے حالیہ کچھ سالوں میں سعودی عرب کا ماڈرن اور سافٹ امیج بنانے کی جو کوشش کی ہے وہ اسے دنیا کے سامنے عملی طور پر رکھنا چاہ رہے تھے۔ لیکن کورونا وبا کے باعث سمٹ کو ورچوئل اجلاس کی شکل دے دی گئی۔ یوں محمد بن سلمان کے لیے دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا موقع پس منظر میں چلا گیا۔

تاہم اس سمٹ کی اہم پیش رفت تین سال کے بعد اجلاس سے قبل سعودی عرب کے شاہ سلمان اور ترکی صدر طیب اردگان کے مابین ٹیلی فون پر رابطہ ہوناہے۔جس میں دونوں ممالک نے باہمی اختلافات کو ختم کر کے روابط بڑھانے پر بات کی۔ ترکی اور سعودی عرب کے مابین اختلافات کی نوعیت در اصل امت مسلمہ کی رہنمائی کے اعزاز کی چپقلش ہے۔ سعودی عرب اور اس کے حلیف عرب ممالک کا خیال ہے کی طیب اردگان سلطنت عثمانیہ کا دور دوبارہ واپس لانا چاہتے ہیں اور اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چایتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد مزید بڑھ گئی تھی۔جمال خا شقجی   واشنگٹن پوسٹ سے منسلک مشہور صحافی تھے ا ور قتل کے وقت ترکی میں قائم سعودی ایمبیسی میں موجود تھے جہاں انھیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ ترکی نے سعودی حکام سے ان پندرہ لوگوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جو اس قتل کے ذمہ دار تھے۔کیونکہ اس قتل کے تانے بانے محمد بن سلمان سے ملتے تھے اس واقعے سے دونوں ملکوں کے مابین خلیج پیدا ہو گئی۔ اس کے علاوہ لیبیا کے معاملات میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔ترکی کی مکمل حمایت لیبیا کی حکومت کے ساتھ ہے جبکہ سعودی عرب،مصر اور متحدہ عرب امارات مخالف گروپ کے حامی ہیں۔ دونوں ممالک کی مخاصمت کا اثر ترکی معیشت پر بری طرح اثر انداز ہونے لگا تھا۔ سعودی عرب نے سرکاری طور پر ترکی کی ڈیری پروڈکٹس پر پابندی لگا دی تھی اور اس کے زیر اثر عرب اور افریقی ممالک میں بھی ترک مصنوعات کا بائیکاٹ جاری تھا۔ اگر دونوں ممالک میں حالات بہتر ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات ہمسایہ اور مسلم ممالک پر بھی پڑیں گے۔

دوسری طرف سعودی عرب کو بھی بدلتے حالات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تیل کی پیدا وار کم ہو جانے سے معیشت کو نقصان کا سامناہے۔ ترکی ایران،پاکستان اور ملائیشیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی سعودی حکام کو تحفظات تھے۔ یمن کی جنگ کسی منطقی انجام تک پہنچتی دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے سعودی عرب کی عالمی سطح پر بد نامی ہو رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل سعودی عرب کے خلاف آواز اٹھا   رہی ہیں۔

 ترکی اور سعودی عرب کے درمیان بہتر روابط سے خطہ کے دوسرے ممالک کے علاوہ پاکستان پر بھی بہت مثبت اثرات ہو نگے۔پاکستان پر سعودی عرب کادباؤ کم ہو جائے گا۔پہلے بھی سعودی عرب کے دباؤ کی وجہ سے پاکستان ملائیشیا میں ہونے والے سمٹ میں شامل نہیں ہوا تھا۔اس دباؤ کا ذکر وزیر اعظم عمران خان نے بعد میں ملائیشیا کے دورے کے دوران بھی کیا تھا۔ مسئلہ کشمیر پر اوآئی سی کے اجلاس کے حوالے سے بھی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تلخی بڑھ گئی تھی۔

طیب اردگان کا 2023 تک کا وژن یہ ہے کہ ترکی کو دنیا کے دس با اثر ممالک میں شامل کروایا جائے۔ اس وژن کی وجہ سے بھی ترکی کا اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا ضروری ہے۔کیونکہ مسلم ممالک کا باہم اختلافات کا فائدہ غیر مسلم ممالک اٹھاتے ہیں جس کا نتیجہ آخر کار مسلمانوں کے کمزور ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ترکی کی معاشی ترقی کے لیے اپنے ہمسائیوں سے اچھے رابطے ضروری ہیں۔اگر سعودی عرب اور ترکی کے درمیان غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں تو اس خطے میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی صورت بھی نکلے گی۔ ایران اور سعودی عرب میں بڑھتے تناؤ کو کم کیا جا سکے گا، مسلم امہ تحفظ کے نئے راستے کھل سکیں گے اور بادی النظرمیں G 20 سمٹ کا سعودی عرب کو یہ سب سے بڑا فائدہ ہوگا۔

پیر،23 نومبر2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے