وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کورونا وائرس کی صورتحال قابو میں دیکھ کر حکومت نے کاروباری زندگی معمول پر لانے کی اجازت دے دی تھی لیکن عوام نے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عملدرآمد سے انکار کیا جس کے باعث بیماری کا پھیلاؤ دوبارہ بڑھ گیا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ملتان میں کیسز کے مثبت آنے کی شرح سب سے بلند ہے اور ملتان میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے لیے مختص 438 بستروں میں سے 65 فیصد بستر، جبکہ سرکاری ہسپتالوں کے 68 میں سے 41 وینٹیلیٹرز زیر استعمال ہیں اور صرف 17 وینٹیلیٹرز خالی ہیں۔
یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اب ان مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کیا جارہا ہے جن کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے یعنی جن کی حالت خراب یا شدید خراب ہو۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں کووِڈ 19 کے 997 مریض داخل ہیں جس میں سے 145 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں اس کے علاوہ 475 مریض آکسیجن سپورٹ پر ہیں جبکہ کووِڈ 19 کی تشخیص ہونے کے بعد 16 ہزار 204 مریض قرنطینہ میں ہیں۔
یاسمین راشد کا کہنا تھا پنجاب میں اب 2 ہزار 638 ہیلتھ ورکرز کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور ان کے متاثر ہونے کی شرح تقریباً 12 فیصد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں ملتان، راولپنڈی لاہور اور فیصل آباد شامل ہیں جبکہ گوجرانوالہ میں بھی کیسز میں تیزی آگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملتان میں کیسز کے مثبت آنے کی شرح کو مختلف اقدامات اٹھا کر 31 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد پر لایا گیا ہے جس کے بعد راولپنڈی میں یہ شرح 11 فیصد جبکہ لاہور میں ایک فیصد ہے۔
وزیر صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب کے 2 ہزار 30 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ جس کے تحت 40 ہزار افراد کو آئیسولیٹ کیا ہوا ہے تا کہ بیماری کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔
منبع: ڈان نیوز