اسحاق ڈار کا انٹرویو اور حکومت برطانیہ کی منافقت: شفقنا خصوصی

سابق وزیر خزانہ اور مفرور مجرم اسحاق ڈار کا بی بی سی کے ساتھ انٹرویو اس وقت پاکستان کے سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ مین سٹریم میڈیا پر بھی شہ سرخیوں میں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ بی بی سی نے یہ نہیں سوچا کہ اسحاق ڈار ایک مفرور ملزم ہیں‌اور ان کا انٹرویو کرنا کیا کسی اخلاقی اقدار میں آتا ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو اس انٹرویو پر بی بی سی کی مذمت کرنا چاہیے تھی مگر ہمیشہ کی طرح پاکستانی تجزیہ نگار ، اینکر، کالم کار اور لکھاری اس میں‌اسے اپنے اپنے مطلب کی چیزیں نکالنے میں‌مگن دکھائی دیے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیمرا کو اس انٹرویو پر پابندی عائد کرنا چاہیے تھے۔ ویسے اگر ایک نظر بی بی سی کے سوالات پر اور اسحاق ڈار صاحب کے جوابات پر ڈالی جائے تو برطانوی حکومت کی منافقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں اینکر کے سخت سوالات پر پریشان نظر آئے، اینکر کے بیماری،عدالتوں میں پیش نہ ہونے اور جائیداد کے معاملےپر سوالات پرجوابات نہ دے سکے۔ انسانی حقوق کا شور مچا کر ملک کو بدنام کرنے کی کوشش پر برطانوی اینکر نے انھیں آئینہ دکھا دیا۔اینکر نے اسحاق ڈارسے سوال کیا کہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی پاکستان اور بیرون ممالک کتنی جائیدادیں ہیں، سوال کا جواب دیتے ہوئے اسحاق ڈار نےکہا کہ میری صرف پاکستان میں ایک جائیداد ہے جو موجودہ حکومت نے ضبط کرلی ہے، جس پر اینکر نے کہا کہ کیا صرف ایک ہی جائیداد ہے؟ تو اسحاق ڈار سٹپٹا گئے اور کہا کہ نہیں میرے بچوں کا ولا ہے۔

اینکر نے سابق وزیر خزانہ سے وطن واپسی اور عدالتوں کا سامنا کرنے سے متعلق سوال کیا تو اسحاق ڈار نے پہلے بیماری کا بتایا اور پھر انسانی حقوق سے متعلق سوالات اٹھا دئیے۔ اسحاق ڈار کی توجیحات پیش کرنے کے باوجود اینکر نے پھر سوال کیا کہ اگر آپ کی ایک جائیداد، اکاؤنٹس کلیئر ہیں تو واپس جاکر کیسز کا سامنا کیوں نہیں کرتے؟۔ جس پر انہوں نے کہا کہ ’میری طبعیت خراب ہے علاج کےلیے آیا ہوں‘۔ بی بی سی اینکر نے طبعیت کا سن کر سوال کیا کہ آپ برطانیہ میں تین سال سے ہیں؟ اب بھی واقعی بیمار ہیں۔ اینکر کے تابر توڑ سوالات پر اسحاق ڈار نے کہا کہ جی مجھے اب بھی تکلیف ہے، دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔ اینکر نے سوال کیا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ وطن واپس جائیں، اس پر اسحاق ڈار نے انسانی حقوق کا رونا رونا شروع کر دیا۔ ہوسٹ نے سوال کیا کہ نواز شریف بھی آپ کی طرح میڈیکل گراونڈ پر لندن میں ہیں؟ رہنما مسلم لیگ ن نے جواب میں نیب پر دوران حراست بدسلوکی کا الزام عائد کیا جس پر اینکر نے اسحاق ڈار کو ٹوک دیا اور کہا کہ نواز شریف تو سزا یافتہ مجرم ہیں۔

انتخابات میں دھاندلی الزامات پر اینکر نے مفرور اسحاق ڈار کی تصیح کر دی اور کہا کہ یورپی یونین مبصروں نے انتخابی نتائج معتبر قرار دیئے تھے۔ اینکر نے سوال کیا کہ آپ اس وقت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھرا رہے ہیں جبکہ آپ کے قائد نواز شریف کئی سال تک سابق ملٹری ڈکٹیٹر ضیا الحق کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے، اور اب اچانک انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ فوج کی سیاست میں مداخلت برداشت نہیں، یہ کس طرح کی منافقت ہے، اس سوال پر بھی اسحاق ڈار سے جواب نہ بن پایا اور اینکر سے کہہ دیا کہ میں آپ کے تجزیہ سے اختلاف کرتا ہوں، جس پر اینکر نےکہا کہ میں نے کیاغلط کہا ہے۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو فوج اچھی تھی جبکہ اب اقتدار سے باہر ہیں تو انہیں آرمی بری لگ رہی ہے۔

میزبان نے جب یہ کہا کہ میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار آپ بطور سابق وزیر خزانہ دونوں عدالت سے مفرور مجرم ہیں۔ آپ دونوں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران حکومت ختم ہو اور الیکشن دوبارہ کروائے جائیں۔ آپ کی کیا کریڈیبلٹی ہے؟ ان تمام سوالات کو دیکھا جائے تو یہ بہت دلچسپ بات دکھائی دیتی ہے کہ اگر اسحاق ڈار مفرور ملزم ہیں تو انہیں بی بی سی نے اپنے پروگرام میں مدعو کیوں کیا آخر؟ کیا بی بی سی کی کوئی کریڈیبیلیٹی نہیں ہے؟ کیا بی بی سی کا معیار یہی رہ گیا ہے کہ وہ مفرور ملزمان کو بلا بلا کر ان کا انٹرویو لے؟

مزید برآں ہارڈ ٹالکس کے میزبان نے کھلے بندوں یہ سوال کیا کہ اسحاق ڈارا ور نواز شریف کو سات برس کی سزا ہوئی ہے اور وہ مفرور مجرم ہیں تو سوال یہ ہے کہ سٹیفن سیککور یہی سوال اپنے وزیر اعظم سے کیوں نہیں‌کرتے کہ آخر انہوں نے ایک مفرور مجرم کو ملک میں پناہ کیوں دے رکھی ہے؟ پاکستان کے ان دونوں‌قومی مجرموں‌کو ڈی پورٹ کیوں نہیں کیا جاتا؟‌ سٹیفن سیککور کے ان سوالات نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا حکومت برطانیہ نے جان بوجھ کر پاکستان کے قومی مجرمان کو سرکاری پناہ دی ہوئی ہے؟ واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت برطانیہ نے الطاف حسین کو بھی اپنی پناہ میں رکھا ہوا ہے حالانکہ ان کے پر دہشت گردی، قتل اور غنڈہ گردی کے ان گنت مقدمات درج ہیں۔ امید ہے سٹیفن سیککور اپنے اگلے شو میں بورس جانسن کو مدعو کر کے یہ سوال ضرور پوچھیں گے؟

بدھ، 2 دسمبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

Share This Article