ایک طویل عرصے سے ایران کے خلاف برسرپیکار امریکہ اوراسرائیل اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کرایران کو ایک خطرناک جنگ میںدھکیلنا چاہتے ہیں جہاں سے نکلنا نہ تو جو بائیڈن کے لیے ممکن ہواورنہ ہی ایران کی نئی آنے والی حکومت کے لیے۔ اسی وجہ سے تجزیہ نگارایران کو تنبیہہ کر رہے ہیں کہ وہ تحمل سے کام لے کیونکہ جو بائیڈن نے آتے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ڈیل کا از سرنو جائزہ لے گا۔ تاہم امریکہ کی جانب سے ایران پرحملے کی خبروںکے بعدایران کے عرب امارات کو دھمکی آمیز بیان پر تجزیہ نگاروںکا کہنا ہے کہ ایران جلد بازی سے کام لے رہاہے۔ جب کہ یہ بات درست نہیں ہے ایران کا عرب امارات کو حملے کا بیان اسلیے بھی ضروری ہے کہ اسرائیل، امریکہ اوراس کے حلیف ایران کو کمزورتصور کر کےاس کو مزید دباؤ کا شکارکرنا چاہتے ہیں تاہم اس بیان کے بعدصورتحال میں کچھ نہ کچھ تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔
واضح رہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات کو دھمکی دی ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں دبئی کو نشانہ بنا یا جا ئیگا ۔لندن میں قائم نیوز ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ایران نے ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید النہیان سے براہ راست رابطہ کر کے واضح کیا کہ اگر امارات کی سرزمین استعمال کر تے ہو ئے امریکا نے حملہ کیا تو اس کا خمیازہ یو اے ای کو بھگتنا پڑے گا۔ذرائع کے مطابق ایران نے ولی عہد محمد بن زاید سے رابطہ اتوار کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایرانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر فخری ذادہ کے قتل کی مذمت سے چند گھنٹے قبل کیا، جس میں ایران نے محمد بن زاید سے کہا کہ وہ یو اے ای کو ڈاکٹر فخری ذادہ کے قتل کا ذمہ دار بھی ٹھہرائیں گے ۔ یو اے ای کے لندن سفارت خانے سے رابطے بارے رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہ کیا۔ علاوہ ازیں اسرائیلی سکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ امارات میں اس کے شہری انتقامی کارروائی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اسرائیلی نیوز چینل کے مطابق یو اے ای میں مقیم اسرائیلیوں کی سکیورٹی بڑھانے کیلئے اسرائیلی اور امارات کے سکیورٹی حکام نے مل کر کام شروع کر دیا ہے ۔
محسن فخری زادے اور مسلم شاہدان کو نشانہ بنایا جانا، خطے کی صورتحال کو واضح کرتا جا رہا ہے۔ ایران کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ بھی اب معاملات قدرے پریشان کن ہو رہے ہیں کہ روس اور چین کے ساتھ ایران کے تعلقات ڈھکے چھپے نہیں۔ لیکن خطے کی صورتحال پہ نگاہ دوڑائیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے اعلیٰ عہدیداروں کی خفیہ ملاقاتوں کی خبریں زیر گردش ہیں۔ متحدہ عرب امارات، عمان، بحرین وغیرہ سمیت دیگر اہم خلیجی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ استوار ہوتے تعلقات، ایران کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران ایک سخت موقف اسرائیل کے خلاف اپنائے ہوئے ہے اور امریکہ سے زیادہ ایران کے ایٹمی پروگرام پہ نظریں بھی اسرائیل کی ہیں۔ کہ براہ راست پہنچ کا دعویٰ ایران اسرائیل کے حوالے سے ہی کرتا ہے اپنی میزائیل ٹیکنالوجی کے حوالے سے۔
اب موجودہ صورتحال میں ایران کیا کر سکتا ہے؟ مواقع موجود ہیں، لیکن ان پہ عمل خطرناک ہو سکتا ہے۔ خظے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟ بالکل ایران ایسا کر سکتا ہے۔ اور ایران کے پاس یہ آپشن قابل عمل اس لیے ہے کہ ایران نواز ملیشیاز عراق، شام اور لبنان میں موجود ہیں۔ ایران پر الزامات سعودی آئل تنصیبات پر حملے میں مددگار کے بھی لگتے رہے ہیں۔ دوسرا آپشن محسن فخرے زادے یا مسلم شاہدان جتنی ہی کسی اہم شخصیت کو نشانہ بنانا، لیکن یہ آپشن ایران کے لیے انتہائی مشکل ہے کہ براہ راست جنگ میں خطے کو جھونکنے کے مترادف ہو سکتا ہے اور ایران کسی صورت فی الحال دگرگوں معاشی حالات کی وجہ سے اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
تیسرا آپشن، جو معروضی حالات میں، انتہائی مشکل ہو گا ایران کے لیے اپنی عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کہ، فی الحال مکمل خاموشی۔ خاموشی کا آپشن تمام آپشنز میں سے مشکل ترین ہے لیکن نہایت سود مند بھی ہے۔ خطے میں اسرائیل کے تعلقات بڑھ چکے ہیں۔ خفیہ دوروں کی خبریں موجود ہیں۔ ایسی حالت میں ایران کا انحصار نئی امریکی انتظامیہ پہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ بائیڈن نیوکلیئر ڈیل سے نکلنے کو تنقیدی رائے میں تولتے رہے ہیں۔ توقعات ہیں کہ وہ اس نیوکلیئر ڈیل کو جو ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کی ہوئی کی روح کو دوبارہ سے زندہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایران کوئی براہ راست کارروائی نا کر کے نئی امریکی انتظامیہ کو یہ پیغام دے سکتا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے نئی انتظامیہ کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔ اس آپشن کے چانسز محدود لیکن مضبوط ہیں۔ ایران اپنا وقار بحال رکھنے کے لیے خطے میں پراکسی وار کی فضاء میں کوئی بڑا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اور ایسا ہونا قریں از قیاس اس لیے نہیں کہ ایران کو عراق، شام، لبنان، اور دیگر ممالک میں اہم اثر و رسوخ بہرحال حاصل ہے۔
اس تمام صورتحال کو ایران بہت بہترانداز میںدیکھ بھی رہا ہے اور سمجھ بھی رہا ہے اس لیے ایران نے جو دو اہم کام کیے یعنی ایک تو عرب امارات پرحملے کی دھمکی اور ایران کی پارلیمنٹ کاایٹمی معاہدے میں یکطرفہ فیصلوں کو ختم کر نا، ان کا مقصددشمن کو بھرپور پیغام دینا ہے کہ ایران تاحال کمزور نہیں اور صرف صبر وتحمل سے کام لے رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے ایٹمی بل کی منطوری اس معاہدے میں شریک دیگر ممالک کو پیغام ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو لگام ڈالیں ورنہ ایران کسی دباو میں نہیں آئے گا۔
عرب امارات پر حملے کی دھمکی کا مقصد صرف امارات کو ڈرانا نہیں ہے بلکہ امریکہ کو بتانا ہے کہ امارات میں اس کے اڈوں کو بھی عراق کی طرح نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ مزید برآں امریکہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ایران نے میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں جس قدر ترقی کر لی ہے وہ اس کے اتحادیوں کے لیے تباہ کن ہے اور امریکہ کسی صورت اس ٹیکنالوجی سے اپنے عرب اتحادیوں کا تحفظ نہیں کر سکتا۔ اس لیےایران نے دو بہترین سفارتی ایکشن لیے ہیں جن سے امریکہ اور اس کے اتحادی کسی بھی سنگین اقدام سے باز رہیں گے؟
جمعتہ المبارک، 4 دسمبر 2020
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com