انیس برسوں میںپہلی مرتبہ طالبان اور افغان حکومت کسی بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔ 2 دسمبر کو دونوں جوانب نے دوحا میںایک معاہدہ کیا جس کا مقصد جاری امن مذاکرات کا روڈ میپ طے کرنا تھا۔ اس معاہدے میں تاہم یہ بات شامل نہیں تھی کہ دونوں طرف سے تشدد، خود کش حملوں، ہوائی حملوں، قتل اور دیگر ایسے تشدد پسند کاموں کو روکا جائے گا جن میں ہزاروں افغانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یا کسی نہ کسی عضو سے محروم ہو گئے ہیں۔
طالبان اور کابل کے مابین مذاکرات کارون کا بنیادی مقصد اصل مذاکرات کے لیے طریقہ کار کو طے کرنا تھا مثال کے طور پر مذاکرات کب ہوںگے؟ کہاںہوںگے؟ ان مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا اور ان مذاکرات میں بحث کے لیے کون کون سے فریق شریک ہوں گے؟ تاہم افغان امن کے لیے سب سے متحرک شخصیت زلمے خلیل زاد کے خیال میں افغان امن کے لیے یہ ایک بہت بڑا اور اہم قدم ہے۔ ایک افغان ریسرچراورانسانی حقوق کے کارکن اورزلا اشرف نعمت کا کہنا ہے کہ ہرروز لوگ مررہے ہیں ۔ میںاس معاہدے پر خوش ہوںاور اسے اہم سمجھتا ہوں بشرطیکہ یہ تشدد کے خاتمے میںمددگارثابت ہو۔
طالبان کے نمائندگان اور افغان حکومت کے مابین پہلے براہ راست مذاکرات ستمبر میں ہوئے تاہم ان مذاکرات میںکوئی ایسی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی جس سے مستقبل میں افغانستان میں تشدد کے خاتمے کو کوئی راہ ملتی۔ تاہم حالیہ معاہدے میں بھی کوئی ایسی شق شامل نہیں۔ نہ تو اس معاہدے میںبات چیت کی بنیادوں پر بات ہوئی ہے اور نہ ہی دونوں طرف سے اعتماد سازی کے لیے کوئی قدم اٹھایا گیا ہے جس سے سیز فائر یا تشدد کے خاتمے کی کوئی راہ نظر آتی۔ یہ مذاکرات درحقیقت طالبان اور امریکہ کے مابین فروری میںطے پانے والے مذاکرات کا تسلسل ہی ہیںجن میں امریکہ کی خطے سے رخصتی اور طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد کو استعمال نہ کرنے کے معاہدے پر بات چیت ہوئی تھی۔
افغان امن ایک سراب
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ گوکہ افغان مذاکرتی عمل میںیہ ایک بڑا بریک تھرو ہے تاہم اس عمل سے حملوںاور جوابی حملوںکی کمی کا خاتمہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا جبکہ امسال سول اموات میںبہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس سال جنوری سے ستمبر تک 700 سے زائد سویلین ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر ہلاکتیں طالبان کے ہاتھوں ہوئیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 2019 کی نسبت 2020 میںاموات کی شرح میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انسٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیزی اسلام آباد کی ڈائریکٹرامینہ خان کے مطابق اس بات چیت کو بریک تھرو کی بجائے ” برف کا پگھلاؤ” کہنا زیادہ مناسب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان تشدد کو بات چیت کے لیے بطور سودے بازی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیںاور ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان میںافغان فوجیوں کی تعداد میں کمی کے اعلان سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے فوجیوں کی تعداد 4500 سے کم کر کے 2500 کرنے کا اعلان کیا تھا۔
درحقیقت یہ حکمت عملی طالبان کو بات چیت میں غالب حیثیت عطا کرتی ہے اور اسی وجہ سے وہ ابھی تک افغان حکومت کے ساتھ حالت جنگ میںہیں۔ طالبان کے لیے تشدد میںاضافہ ایک جائز عمل ہے جو بات چیت کے عمل میںاسے فائدہ پہنچاتا ہے۔ واضح رہے کہ طالبان نے 1996 سے 2001 تک افغانستان پر حکومت کی اور موسیقی وغیرہ پر سخت اسلامی سزائیں نافذ کیں۔ بات چیت سے قبل ہی طالبان نے افغان حکومت کی قید سے اپنے 5،500 قیدی آزاد کروا لیے ہیں جب کہ اس کئی رہنماؤں کے نام بھی دہشت گردی کی لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔
نعمت کا کہنا ہے کہ اس وقت تک مذاکرات کی میز پر طالبان فتح یاب ہیں اور اب یہ ممکن ہے کہ دونوں جوانب سے وقت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہو تا کہ مزید بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
معاملات کس کے قابو میں ہیں؟
طالبان نے ہمیشہ یہ تاثر دیا ہے کہ 2001 میں امریکی حملے کے بعد وہ مکمل بکھر گئے تھے تاہم عوام کی حمایت سے ہی وہ ایک قوت بن کر ابھرے ہیں۔ افغانستان میںامریکی حمایت یافتہ حکومتیں مسلسل بدعنوانی کا شکاررہی ہیں اور لوگوں کو نہ تو کوئی ریلیف دینے میںکامیاب ہوئی ہیںاور نہ ہی نوجوان نسل کو کوئی روزگار فراہم کیا ہے جس سے عوام کابل حکومتوں سے ہمیشہ متنفر دکھائی دیتی رہی ہے۔ افغانستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے جس کی معیشت کا سارا انحصار بیرونی امداد پر ہے۔گزشتہ ماہ چند ممالک نے افغانستان کے 12 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جس کا مقصدخطے میں امن کی کوششوں کو سہارادینا ہے۔
نعمت کے خیال میں یہ کہنا کہ طالبان ملک کے آدھے سے زائد حصے پر قابض ہیں تو محض شیخی ہوگا۔ طالبان یا غنی حکومت کی مدد کا اندازہ صرف اس بات سے لگایاجاسکتا ہےکہ مقامی لوگ کسے پسندکرتے ہیں اور کسے نا پسند۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستا میں 30،000 سے زائد گاؤں ہیں اور ان پر کسی کا کوئی اختیار نہیں یہ خود ہی اپنے معاملات چلا رہے ہیں۔ طالبان یا حکومت کے حامی گروپ ان پر آرام سے قابض ہوسکتے ہیں تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ یہ گاؤں کسے کے کنٹرول میںہیں۔
آخر پر اس تمام بحث کا انحصار اس بات پر ہے کہ کون افغانیوں کو صحت اورتعلیم کی سہولیات فراہم کر سکتا ہے۔ اگر حکومت یہ خدمات فراہم کرنے میںکامیاب رہتی ہے تو طالبان کے کنٹرول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سمجھوتے کا وقت
جو بات ظاہری طور پرسمجھ آتی ہے وہ یہی ہے کہ کابل حکومت میں طالبان کو شراکت دار بنائے۔ کیونکہ ایسا نہیں لگتا کہ طالبان کبھی ہتھیار ڈالیں گے اورنہ ہی کوئی ایسےآثار ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو چاہیے کہ وہ دونوں اطراف کو معاہدے کا پابند بنائے۔ کابل انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کھل کر بات کرے کہ وہ کن کن امور پر متفق ہے اور طالبان کو کہاںتک ساتھ چلا سکتی ہے کیونکہ تاحال جو بات چیت ہوئی ہے اس سے اس بات کا علم نہیںہوسکا کہ طالبان کو اب تک کیا پیش کش کی گئی ہے۔
اب جب بائیڈن انتظامیہ امریکہ کا کنٹرول سنبھالنے جا رہی ہے تو ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ کہیں امریکہ ان مذاکرات سے انکاری نہ ہو جائے۔ اگرچہ بائیڈن کی ٹیم ابھی تک صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے تاہم اگر طالبان تشدد سے باز نہ آئے تویہ معاہدہ ختم ہو سکتاہے کیونکہ بائیڈن انتظامیہ شاید ممکنہ طور پر اس قتل و غارت کو پسند نہ کرے۔ تاہم اس عمل میں ابھی کئی سال لگیں گے کیونکہ بات چیت کا یہ عمل 2020 میں شروع ہوا تھا اور ابھی تک اس میں کوئی پیش رفت نظر نہیںآتی۔
تمام تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بات چیت آہستہ آگے بڑھے یا تیز ۔ دونوں طرف سے قتل و غارت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ اس قتل و غارت بے گناہ بچے ، بزرگ اور عورتیں قتل ہورہی ہیں اور افغانستان کا مستقبل تباہ ہورہاہے۔
اتوار، 6 دسمبر2020
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com