کھیل آخری مراحل میں داخل ہونے والا ہے: شفقنا خصوصی

پاکستان جمہوری تحریک ( پی ڈی ایم ) کا احتجاجی سلسلہ 16 اکتوبر سے شروع ہوا جب گیارہ جماعتی اتحاد نے پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں‌کیا اور پہلے ہی جلسے میں‌ ن لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ملک کے سیکورٹی کے اداروں پر الزامات کے بھرپور تیر چلائے اور پھر یہ سلسلہ چلتے چلتے بالاخر ملتان میں‌حکومت اوراپوزیشن کے مابین شدید تناؤ کی صورت اختیار کر گیا۔ پی ڈی ایم کا آخری شو لاہور میں‌13 دسمبر کو منعقد ہے اور اس کے بعد یہ سلسلہ شاید بند ہوجائے گا۔ تاہم 13 دسمبر والے جلسے سے قبل ہی حکومت اور اپوزیشن میں‌شدید لفظی جنگ شروع ہے اور پی ڈی ایم کی قیادت یہ بات اچھی طرح‌جانتی ہے کہ اس جلسے کے بعد دوبارہ خاموشی ہوگی اور جو کچھ پی ڈٰی ایم چاہتی ہے وہ کبھی نہیں‌ہوگا۔ ملک میں‌جو تلاطم پیدا کرنے منصوبہ پی ڈی ایم کا تھا وہ اپنی موت آپ مرنے والا ہے تاہم پی ڈی ایم یہ ہر گز نہیں‌چاہتی اور اس کے لیے اب نئی سٹریٹیجی پر عمل درآمد کرے گی۔

یہ بات پی ڈی ایم کے قائدین کے علم میں‌ہے کہ اگر یہ جلسہ پرانے تمام جلسوں کے ریکارڈ توڑ بھی دے (جس کا امکان کم ہے) تو پھر بھی اس سے پی ڈی ایم کے ہدف یعنی حکومت کے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت سڑکوں پر پکڑ دھکڑ سے گرما گرمی ضرور پیدا کر رہی ہے مگر اس کے باوجود جلسے کے اگلے دن حالات معمول کے مطابق ہی ہوں گے۔اس لیے پی ڈی ایم کو اگلے راستے سوچنے تو ہیں اور راستے ہیں صرف دو۔ استعفے اور لانگ مارچ۔لانگ مارچ کی سیاست پاکستان میں پرانی ہے۔ نوے کی دہائی مارچوں کی دہائی رہی ہے اور حالیہ تاریخ کا ایک بڑا لانگ مارچ 12سال قبل جون2007ء میں جنرل پرویز مشرف کی حکوت کے خلاف اور عدلیہ کی آزادی کے لیے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی قیادت میں ہوا۔ یہ لانگ مارچ اسلام آباد سے لاہور تک تھا۔ اس سے پرویز مشرف کی حکومت کا تختہ تو نہ الٹا جا سکا لیکن پرویز مشرف نے بعد ازاں کئی انٹرویوز میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس لانگ مارچ نے انہیں اور ان کی حکومت کو کمزور کیا اور چیف جسٹس سے استعفیٰ طلب کرنا ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ پھر ایک لانگ مارچ 2014میں پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف کیا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں ایک طویل دھرنا دیا گیا۔

یہ لانگ مارچ اور دھرنا وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو گرانے اور نئے انتخابات کرانے کے لئے تھا۔ دھرنے کے دوران کئی ایسے مراحل آئے، جب یہ محسوس ہوا کہ اب مسلم لیگ (ن ) حکومت کا قائم رہنا مشکل ہے۔ عمران خان امپائر کی انگلی اٹھنے کا بھی عندیہ دیتے رہے لیکن دھرنا دینے والی دو سیاسی جماعتوں کے سوا باقی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں پارلیمنٹ اور سسٹم کو بچانے کے لئے متحد ہو گئیں۔پھر پاکستان تحریک انصاف نے پاناما لیکس کو بنیاد بنا کر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خلاف 2016ء میں اسلام آباد میں دھرنا دیا اور یہ مطالبہ کیا کہ نواز شریف اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف مستعفی تو نہ ہوئے البتہ دھرنا اس شرط پر ختم کیا گیا کہ پاناما کیس کے فیصلے سے میاں محمد نواز شریف کو وزیراعظم ہائوس سے نکلنا پڑا۔ مذکورہ بالا لانگ مارچز اور دھرنوں کو بے نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پرویز مشرف کی حکومت 2007 کے دھرنے کی وجہ سے نہیں گری لیکن جنرل پرویز مشرف کی گرفت بہت کمزور ہوئی۔

2014کے لانگ مارچ اور دھرنے کی وجہ سے بھی میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو نہیں گرایا جا سکا۔ اس کے بنیادی اسباب یہ تھے کہ ملک کی سیاسی قوتیں پارلیمنٹ اور سسٹم کو بچانے کے لیے آگے آگئی تھیں۔ اور آئین میں بھی کسی غیر آئینی اقدام کی سزا ماضی کی نسبت زیادہ سخت تھی۔ اس کے باوجود میاں محمد نواز شریف کی حکومت پھر سنبھل نہ سکی۔ 2016 ء کے دھرنے کے نتیجے میں پاناما لیکس چلا اور پھر وزیراعظم کے منصب سے میاں نواز شریف کو الگ ہونا پڑا۔ حال ہی میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی حکومت کے خلاف لانگ مارچ اوردھرنا دیا تاہم اس دھرنے سے حکومت کا کچھ بھی نہ بگڑسکا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس دھرنے میں ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں ن لیگ اورپیپلز پارٹی نے شرکت سے گریز کیا تاہم اس دھرنے سے حکومت پراثرضرورہوا۔

تاہم ایسا لگ رہا ہےکہ پی ڈی ایم اب لانگ مارچ کی جگہ استعفوں کے آپشن پرغورکرے گی کیونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اراکینِ پارلیمنٹ کے استعفوں کا عندیہ دے دیا ہے۔مریم نواز نے اپنے خطاب میں ارکان پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کی جماعت نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا تو کسی دباؤ میں آنے سے انکار کردینا۔ پی ڈی ایم کے ایک اوراتحادی بی این پی مینگل گروپ نے بھی اسی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان ڈیموکریٹک موومںٹ (پی ڈی ایم) نے استعفے دینے کا فیصلہ کیا تو ان کی جماعت اسمبلیاں چھوڑنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگی۔

اب استعفوں کی گیند پی ڈی ایم کے کورٹ میں ہے۔ مولانا فضل الرحمان پہلے دن سے استعفوں کے داعی ہیں مگر ان کو پاس چھوڑنے کے لیے چند سیٹیں ہی ہیں۔ ان کا استعفوں پر اصرار حیران کن ہے نہ فیصلہ کن۔ اصل فیصلہ ہے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا۔ ن لیگ کا یہ فیصلہ بھی ن لیگ کے سیاسی رخ اور ن لیگ میں موجود سیاسی دھڑوں سے جڑا ہوا ہے۔ مریم نواز جو اسمبلی میں بھی نہیں اور مکمل جارح موڈ میں ہیں، وہ استعفوں سے بھی بات آگے لے جانا چاہیں گی۔ن لیگ کی حد تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں میں تخصیص بھی نہیں ہو گی کیونکہ وہ دونوں جگہ اپوزیشن میں ہی ہیں۔ خبر بہر حال یہ ہے کہ اس ضمن میں حتمی فیصلے سے ن لیگ کی اعلی قیادت بھی بے خبر اور لندن سے نواز شریف کے فیصلے کے انتظار بلکہ خوف میں ہے۔
پیپلز پارٹی کا معاملہ ن لیگ سے مختلف اور کچھ واضح ہے اور وہ یہ ہے استعفوں سے بچت ہی ہو جائے تو بہتر ہے۔ مصالحت کی سیاست پیپلز پارٹی کا اوڑھنا بچھونا ہے اس لیے ہر وقت کسی نہ کسی ڈیل کا آپشن بھی کھلا رہتا ہے۔ اگر نوبت آئے گی بھی تو صوبائی حکومت سے استعفوں کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر اپوزیشن استعفے دیتی ہے تو حکومت کے پاس کیا آپشنز رہ جائیں‌گے؟ کیا حکومت جانے کا خدشہ ہے؟ تو اس ضمن میں‌پہلی بات تو یہ ہے کہ اسپیکر یہ استعفے روک لے اور اس نظام کو ایسے ہی چلنے دے تاہم ایسی صورت میں‌اپوزیشن سخت احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کی طرف دوڑے گی جس سے حکومتکے لیے مشکلات پیدا ہوں‌گی اور دوسری صورت پھریہی ہےکہ جو سیٹیں خالی ہوں‌حکومت ان پردوبارہ انتخابات کروائے۔ تاہم ایسی صورت میں بھی معاملہ یہی ہوگا کہ اپوزیشن نہ ختم ہونے والے احتجاجی سلسلے کا آغاز کرے مگرسوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن نے یہ تمام آپشنز سوچ رکھےہیں۔ خیرجو بھی ہےاس وقت حکومت اوراپوزیشن دونوں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں‌کہ کھیل فائنل مرحلے میں داخل ہونے والا ہے۔

پیر،7 دسمبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

Share This Article

تازه ترین