وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے لاہور جلسے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ این آر او کبھی نہیں دوں گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان نے کہا کہ ‘افسوس! پی ڈی ایم نےوبا میں اضافے کے دوران بہت سے پیسے، وقت اور محنت سے عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال کرسنگ دلی کا مظاہرہ کیا’۔

پی ڈی ایم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ثابت کردیا کہ انہیں شہریوں کی صحت وسلامتی کی رتی بھر بھی پرواہ نہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ سارے حربے این آر او کی فراہمی کے لیے مجھے بلیک میل کر کے اپنی چوری کی دولت بچانے کے لیے ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں ایک مرتبہ پھر مطلقاً واضح کر دوں کہ این آر او کبھی نہیں دوں گا’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘مزید بلیک میلنگ کے حوالے سے پی ڈی ایم کے آئندہ جو بھی منصوبے،عزائم ہوں میرا پیغام بالکل دوٹوک ہے، لٹیرے جو حربہ چاہیں استعمال کریں، میری حکومت کبھی کوئی این آر او نہیں دے گی’۔

Image

خیال رہے کہ پی ڈی ایم نے لاہور کے مینار پاکستان پر تحریک کا چھٹا جلسہ کیا جہاں رہنماؤں اپنی تقاریر میں حکومت اور اسٹبلشمنٹ کو آڑھے ہاتھوں لیا۔

اپوزیشن قیادت نے لاہور کے جلسے کو ‘تاریخی اور فیصلہ کن’ جلسہ قرار دیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیرحماد اظہر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ‘پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم کے بڑے حامی چینلز بھی لوگوں کی مناسب تعداد دکھانے کے لیے اپنے کیمرے کے ذریعے سخت محنت کر رہے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ’11 جماعتیں لاہور میں پی ٹی آئی کے جنون اور تعداد کا مقابلہ نہیں کرسکتیں’۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار (زلفی) بخاری نے پی ڈی ایم کے حامیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ آج کے جلسے کو بڑا دکھانے کے لیے مینار پاکستان پر پی ٹی آئی کے 2013 جلسے کی تصاویر استعمال کر رہے ہیں۔

Image

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ ‘اپوزیشن کے کراچی جلسے کی تقریر میں اردو کو قومی زبان ماننے سے انکار، آج ایک تقریر میں پنجابیوں کو انگریز کا ساتھی قرار دے دیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘تقریروں میں پاکستان کے اداروں پر ہرزہ سرائی، بھارت کے بیانیے کا دہرانا، قائد کے مزار کی بے حرمتی. یہ اپنی چوری کی دولت کو بچانے کس راستے پر چل پڑے ہیں’۔

خیال رہے کہ لاہور جلسے میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کے اوپر ناجائز حکومت کے لیے اسٹبلشمنٹ نے جو دھاندلی کی تھی اور ایک ناجائز، غیرآئینی اور گندا کردار ادا کیا تھا، اس کے زخم اب گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ میں خطرہ محسوس کر رہا ہوں کہ کہیں آنے والے دنوں میں ہمیں وہ حالات نہ دیکھنے پڑیں جہاں اسٹبلشمنٹ بمقابلہ پاکستان کے عوام نظر آئیں اور ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوجائیں، یہ بڑے تشویش ناک حالات ہوں گے۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے