انسداد ریپ آرڈیننس اور پاکستانی معاشرہ

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اینٹی ریپ آرڈیننس 2020 کی منظوری دے دی ہے۔ آرڈیننس میں جنسی زیادتی کے مجرم کو نامرد بنانے کے لیے اس کی رضا مندی کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ انسدادِ ریپ آرڈیننس سے خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے معاملات نہ صرف جلد نمٹانے میں مدد ملے گی بلکہ جنسی زیادتی کے ملزمان کے تیز ٹرائل اور کیسز جلد نمٹانے کے لیے ملک بھر میں اسپیشل کورٹس کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ یہ خصوصی عدالتیں چار ماہ کے اندر جنسی زیادتی کے کیسز کو نمٹائیں گی۔ آرڈیننس کے مطابق مقدمے کی تحقیقات کے حوالے سے کوتاہی برتنے اور غلط معلومات فراہم کرنے والے پولیس اہلکاروں یا سرکاری ملازمین کو تین سال قید کی سزا اور جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

کیمیکل کیسٹریشن یا سرجری کے ذریعے کسی بھی مجرم کو کچھ عرصے یا ہمیشہ کے لیے نا مرد بھی بنایا جا سکے گا۔ اس قانون کے تحت قومی شناختی ادارہ نادرا ریپ کے مقدمات کے مجرمان کا ڈیٹا بنائے گا جسے صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔وزیر اعظم عوامی مفاد میں اس ڈیٹا کو ریلیز کرنے کا بھی حکم دے سکتے ہیں جبکہ یہ ڈیٹا ہسپتالوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی شیئر کیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ دنیا کے دیگر ممالک جیسا کہ انڈونیشیا میں اکتوبر 2016 میں قانون پاس کیا گیا جس کے بعد کیمیائی کیسٹریشن کے عمل کی اجازت دی گئی تھی۔ اس قانون کے تحت 2019 میں جس مجرم کو سزا سنائی گئی، اس کا کہنا تھا کہ اسے موت کی سزا دی جائے یا پھر قید کی مدت بڑھا دی جائے۔ جمہوریہ چیک میں 1966 میں یہ قانون بنایا گیا۔ اس قانون کے تحت سال 2000 سے 2011 کے درمیان 85 افراد کو کیسٹریشن کی سزائیں دی گئیں۔ یوکرین میں جولائی 2019 میں یہ قانون کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے افراد کے خلاف بنایا گیا، جس میں 18 سے 65 سال کے مجرموں کو یہ سزا دی جا سکتی ہے۔ نائیجیریا میں بھی 14 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے افراد کے خلاف یہ قانون بنایا گیا ہے، تاہم اب تک ریاستی گورنر کے دستخط نہ ہونے سے یہ قانون رائج نہیں ہو سکا۔

پاکستان میں جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کے قانون کے حوالے سے مذہبی علماء کی طرف سے شدید اعتراض سامنے آیا ہے۔ تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے صدراورمرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان مجرموں کو نامرد بنانے کیلئے آرڈیننس کو شریعت کے منافی قرار دیدیا ہے۔ مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ مجرموں کو نامرد بنانااللہ اوراس کے رسول سے جنگ کرنا ہے، اگرحدود آرڈیننس کے قانون پر عمل درآمد ہوجائے تو یہی کافی ہے۔اللہ پاک نے قرآن مجید میں اور حضورﷺ نے حدیث مبارکہ میں اس فعل کے ہر قسم کے قوانین بتا دیئے ہیں۔ کسی کو نامرد بنانا قرآن اور حدیث سے متصادم ہے۔ انہوں نے ایک بار پر مجرموں کو شریعت میں متعین کردہ سزائیں دینے پر زور دیا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں بچّوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں تشویش ناک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ گو کہ اِس حوالے سے مستند اعداد وشمار دست یاب نہیں کہ بہت سے واقعات میں متاثرہ افراد پولیس سے رجوع ہی نہیں کرتے، تاہم میڈیا میں رپورٹ ہونے والے واقعات کے سرسری جائزے سے پتا چلتا ہے کہ اِس طرح کے واقعات کی تعداد سیکڑوں نہیں، ہزاروں میں ہے۔

تاہم پاکستان میں کبھی قانونی سقم کا فائدہ اٹھاکر تو کبھی بااثر شخصیات کے دباؤ پر جنسی زیادتی کے مجرم سزاؤں سے بچ نکلتے ہیں،اس وقت ملک میں بلاتفرق ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین ،بچوں اوربچیوں سے زیادتی کے واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہورہے ہیں۔ حکومت اور مذہبی رہنماء بھی اس معاملے کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس گھناؤنے فعل سے چھٹکارہ چاہتے ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس قانون سے ریپ جیسے گھناؤنے فعل سے اس ملک کو چھٹکارا مل جائے گا؟ کیا نامردگی کے عمل سے انصاف کے تقاضے پورے ہو جائیں گے اور ہم اپنی معصوم بچیوں کو درندوں سے محفوظ رکھ سکیں گے؟

اس سارے عمل میں جو بات سے خطرناک ہے وہ یہ ہے کہ جنسی مریضوں کو نامرد بنا کر معاشرے میں چھوڑ دینا کسی خطرے سے کم نہیں، کیوں کہ اِس درندگی کا تعلق جسمانی سے زیادہ ذہنی آوارگی سے ہے۔کیوں کہ بہت سی ایسی مثالیں بھی موجود ہیں، جن میں بڑی عُمر کے افراد یا مخنث بھی جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوّث پائے گئے۔ اس بات کی ضمانت کیا ہو سکتی ہے کہ جنسی نامردی کی سزا پانے والا شخص انتقاما معاشرے میں دیگر جرائم میں ملوث نہیں ہوگا؟ اور پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ نامردی کے لیے کون ساعمل اختیارکیا جائے گا؟‌ کیونکہ کیسٹریشن دوطرح کی ہوتی ہے، ایک تو یہ ہے کہ آپریشن ک ےذریعے مرد کو مخصوص اعضاء سے محروم کردیا جاتا ہے دوسری یہ ہے کہ کیمیائی ادویات سے جنسی صلاحیت ختم کردی جاتی ہے تاہم کیسٹریشن کے باوجود مردانہ اعضاء کام کرتے ہیں لیکن غالب امکان ہے کہ اس سے جنسی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔آپریشن میں یکبارگی معاملہ ختم ہوجاتا ہے لیکن کیمیائی طریقہ کار میں گولی یا ٹیکہ لگانا پڑتا ہے جو کافی مہنگا اور مستقل عمل ہے۔ اور اس عمل میں کچھ عرصہ بعد مجرم کی جنسی قوت دوبارہ بھی بحال ہونے لگتی ہے۔ یعنی بالفاظ دیگر یہ کوئی مستقل سزا نہیں‌ہے۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ حکومت آپریشن کے ذریعے اس سزا پر عمل درآمد کرواتی ہے یا انجیکشن اور دواؤں کے ذریعے۔

اس قانون کے بارے میں یہ بات درست ہے کہ کم از کم کوئی بھی مجرم اس سزا کو ساری زندگی تو بھگتے گا یعنی اسے ساری زندگی نامردی کے ساتھ گزارنا پڑے گی تاہم معاملہ قانون سے زیادہ قانون کی عمل داری ہے۔  پاکستان جنسی جرائم میں دنیا میں چھٹے نمبر پر بتایاجاتا ہے۔ پاکستان میں ایک غیرسرکاری ادارے ’ساحل‘ کا دعویٰ ہے کہ ہر روز نو سے زیادہ بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں 60 فیصد ایسے قبیح عمل میں قریبی لوگ یا خاندان کے افراد ملوث پائے گئے۔ یہ رپورٹ 91 اخبارات کی خبروں یا رپورٹس کے جائزے سے مرتب کی گئی تھی۔ سال 2017میں بچوں کے اغواء کے 1039 واقعات رونما ہوئے جبکہ لڑکیوں سے جنسی زیادتی کے 467 واقعات سامنے آئے۔ لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی تعداد366 تھی۔ لڑکوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے 180 اور لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے 158 واقعات سامنے آئے۔ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والوں میں 58 فیصد بچیاں اور 42 فیصد بچے بتائے گئے ہیں۔ جنسی استحصال کا شکار بچوں میں 640 کی عمر 6 سے 10 سال کے درمیان تھی۔

961 بچوں کی عمر 11 سے 15 برس کے درمیان تھی۔ 76 فیصد کیسز دیہی علاقوں میں اور 24 فیصد شہروں میں پیش آئے۔صوبائی لحاظ سے پنجاب میں 63 فیصد، سندھ میں 27، بلوچستان میں 4، خیبرپختونخوا میں 2 اور دارالحکومت اسلام آباد میں 3فیصد ایسے واقعات رونما ہوئے۔ آزادکشمیر میں 12 اور گلگت بلتستان میں 3 ایسے واقعات سامنے آئے۔بچوں کے اغوا کے سب سے زیادہ واقعات راولپنڈی میں پیش آئے جبکہ اغوا کے بعد لڑکیوں سے زیادتی کے واقعات میں 13فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کمشن کی رپورٹ کے مطابق بچوں پر تشدد کے مقدمات میں صرف 112 مجرموں کو سزا ہوئی جن میں سے 25 کو سزائے موت اور 11 کو عمر قید ہوئی۔

اتنے زیادہ کیسز میں محض 2 فیصد سے بھی کم مجرم گرفتارہوئے اور انہیں سزا ہوئی جس سے ہمیں پاکستان میں‌اس قانون کی عمل درآمد کا اندازہ ہوتا ہے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ ملک میں زبردستی کے قانون تو بہت بنتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کے لیے عدالتی اور پولیس نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ نامردی کے قانون سے پہلے بھی پاکستان میں‌ ریپ اور ایسے سنگین جرائم کے لیے پاکستان میں 20 کے قریب قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ پس یہ بات تو طے ہے کہ آپ کچھ بھی کر لیں لیکن ان جرائم کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ کا کریمنل جسٹس سسٹم درست نہ ہو۔ آپ کتنے ہی قانون بنا لیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ملک میں بچوں سے متعلق قوانین موجود ہیں لیکن عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ناقص تفتیش اور عدالتی نظام کی کمزوریاں ہیں۔معاشرے میں ریپ کلچر کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ سماجی رہنما اور دیگر لوگ اس بارے میں اپنا کردار ادا کریں۔ بد قسمتی سے یہاں ریپ کے شکار افراد کو مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ اس سوچ اور اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

بدھ ، 16 دسمبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Share This Article

تازه ترین