وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہو یا سعودی عرب، وہ ہندوستان کو پاکستان کا متبادل نہیں سمجھتے اور یہ بھارت کی غلط فہمی ہے کہ وہ پاکستان پر ان کو فوقیت دیں گے۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں افسردہ ہوں کہ ہمیں یہ عرس کی محفل ایس او پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے مختصر کرنی پڑی لیکن اُمید ہے کہ اگلے سال ہمیں اس وبا سے نجات مل چکی ہو گی اور ہم اپنی روایات کے مطابق عرس کو اس شایان شان طریقے سے منعقد کر سکیں جیسے ماضی میں کیا کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں ابھی متحدہ عرب امارات سے لوٹا ہوں اور وہاں مجھے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المختوم سے ملاقات کا موقع ملا کیونکہ دبئی، شارجہ اور فجیرہ میں پاکستانیوں کی اکثریت ہے اور وہ وہاں روزگار کماتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے ان سے دوطرفہ تعلقات اور ان کی مشکلات پر تبادلہ خیال کا موقع ملا، مجھے ابوظبی میں وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد النیہان سے طویل نشست کا بھی موقع ملا جس میں ویزا کے مسائل سمیت دیگر اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے انہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے اعتماد میں لیا، میں نے طالبان کے اعلیٰ وفد کی پاکستان آمد سمیت افغانستان کی حالیہ پیشرفت سے بھی آگاہ کیا اور اس بات پر بھی گفتگو کی کہ ہمارے دوطرفہ تعلقات میں وسعت اور گہرائی کیسے آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات کتنے دیرینہ اور گہرے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا، یہاں مختلف لوگوں کو قیاس آرائیاں کرتے دیکھا ہے لیکن میں اس ابہام کو دور کردینا چاہتا ہوں کہ یہ جو ویزا کی بندش عارضی ہے اور جلد ختم ہو جائے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ متحدہ عرب امارات ہو یا سعودی عرب، وہ ہندوستان کو پاکستان کا متبادل نہیں سمجھتے، اگر ہندوستان کی یہ خواہش اور کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو ان پر فوقیت دیں گے اور کوئی انتخاب کریں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان نشستوں میں جو میری توقعات تھیں، ان کے عین مطابق ہماری گفتگو ہوئی، ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ وہ عنقریب پاکستان تشریف لائیں گے اور مزید بات آگے بڑھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے بارے میں ان کا جو مؤقف ہے اور وہ اقدامات انہوں نے کیوں اٹھائے، ان کو میں نے سمجھا اور سنا، میں نے ان کی خدمت میں پاکستان کا مؤقف واضح طور پر پیش کیا کہ پاکستان کسی صورت اسرائیل سے وہ تعلقات قائم نہیں کر سکتا جب تک کہ مسئلہ فلسطین پر کوئی دیرپا اور مستقل حل نہ نکل سکے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے انہیں پاکستان کے عوام کے جذبات، فلسطین اور کشمیر کے مسئلے میں مماثلت سے آگاہ کیا اور آپ کو یہ سن کر اطمینان ہونا چاہیے کہ انہوں نے ہمارے مؤقف کو سمجھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا سوال انتہائی پرانا ہے جس کا جواب وزیر اعظم اور دفتر خارجہ کئی مرتبہ دے چکے ہیں اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ہم پر کسی کا بھی دباؤ نہیں ہے، آپ کو اطمینان کب اور کیسے ہو گا، میں وہی الفاظ آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پر کوئی دباؤ ہو گا اور نہ ہے، ہم نے پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے ہیں، کسی دباؤ کے تحت نہیں کرنے ہیں، ہماری ایک پالیسی ہے جس پر ہم آج بھی قائم ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو جب بھی موقع ملا اس نے پاکستان کو زک پہنچانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے، پچھلے دنوں 14 نومبر کو دفتر خارجہ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ ایک ڈوزیئر قوم اور بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھا جس میں ہم نے ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ دنیا کو باور کرایا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بتایا کہ بھارت ایسے عناصر کی پست پناہی کرتا ہے، ان کو مواد فراہم کرتا ہے، ان کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے، انہوں نے اپنی سرزمین میں کیمپس قائم کر رکھے ہیں اور گرد و نواح جہاں ان کو موقع ملتا ہے وہ اس سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈوزیئر ہم نے پی فائیو ممالک کے ساتھ، سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین کے ساتھ، اسلامی تعاون تنظیم کے اہم ممالک کے ساتھ بھی شیئر کردیے ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی خدمت میں بھی ڈوزیئر کے اہم نکات پیش کردیے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آپ کے علم میں ہے کہ پچھلے دنوں یورپیئن یونین نے ای یو ڈس انفو لیب کی رپورٹس شائع کی ہے جس کا دنیا میں انڈین کرونیکلز کے نام سے ذکر ہو رہا ہے اور اس میں ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت جعلی این جی اوز کے ذریعے، سوشل میڈیا پر جعلی ویب سائٹس کے ذریعے اور جعلی غیررسمی پارلیمانی گروپس کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے اور یہ ان کی طویل منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے جو اب بے نقاب ہو چکی ہے جو پاکستان نے نہیں بلکہ یورپی یونین نے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا اصلی چہرہ اس ڈوزیئر اور انڈین کرونیکلز کے ذریعے بے نقاب ہو گیا اور پاکستان کے خفیہ ایجنسیز اور اداروں نے مجھ سے ابوظہبی میں معلومات شیئر کیں اور میں نے وہیں انٹرنیشنل میڈیا کی موجودگی میں پریس کانفرنس کی جس کا مقصد بھارت کو واضح پیغام دینا تھا کہ جو سرجیکل اسٹرائیک آپ کرنا چاہ رہے ہیں اور کسی جھوٹے آپریشن کا جو بہانہ آپ تلاش کررہے ہیں، یہ ہمارے علم میں ہے، آپ یہ احمقانہ حرکت نہ کیجیئے.

شاہ محمود قریشی نے پڑوسی ملک کو خبردار کیا کہ اگر آپ نے ایسی کوئی احمقانہ حرکت کی ہم خبر بھی ہیں اور ہم اس کا فی الفور اور مؤثر جواب دینے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں، اگر آپ نے ایسی حرکت کی تو اس سے خطے کا امن و استحکام متاثر ہو گا اور دنیا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ ایک ایٹمی قوت غیر ذمے دارانہ رویے سے دنیا کو بھران میں مبتلا کرتی ہے تو اقوام متحدہ اور سللامتی کونسل کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ایکشن فوری ہو گا اور اگر افغانستان کا عمل متاثر ہوتا ہے اور اگر اس خطے کا امن و سیکیورٹی متاثر ہوتی ہے تو اس کا ذمے دار بھارت ہو گا کیونکہ پاکستان کی پالیسی امن و استحکام کی ہے، ہم جنگ یا بے جا خون خرابہ نہیں چاہتے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت جو کورونا کی صورتحال ہے اس کو دیکھتے ہوئے مختلف یورپی ملک اپنے کورونا کے ایس او پیز پر نظرثانی کررہے ہیں کیونکہ وائرس پہلے سے زیادہ خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، پاکستان دنیا سے الگ تھلگ نہیں ہوسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری گزارش یہ ہے کہ کورونا کی صورتحال اور بھارت سے ہمیں جو اطلاعات ملی ہیں اس کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی قیادت کو اپنے سیاسی ایجنڈے سے ہٹ کر نیشنل ایجنڈے پر سوچنا چاہیے اور انہیں اس پر غور و فکر کرنی چاہیے کہ نیشنل ایجنڈے کے تقاضے کیا ہیں اور اپنے مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک استعفوں کا سوال ہے تو ان کی صفوں میں انتشار ہے، پیپلز پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی کیونکہ ان کے ایک رہنما کا بیان ہے کہ ضمنی انتخابات میں ہم بھرپور حصہ لیں گے اور جب ان سے پی ڈی ایم کے استعفوں کے فیصلے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ پی ڈی ایم کا ہے، پیپلز پارٹی کا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں استعفوں کے معاملے پر دو دھڑے ہیں جن میں ایک استعفے دینے کے حق میں ہے جبکہ اتنا ہی مؤثر دوسرا دھڑا سمجھتا ہے کہ استعفے دینے سے مسلم لیگ (ن) کو نقصان ہو گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت پی ڈی ایم میں استعفوں کے معاملے پر یکسوئی نہیں، انتشار ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ استعفے نہیں دیں گے۔

منبع: ڈان نیوز

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے