وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے گزشتہ روزپاکستان کے سب سے بڑے شہد حاصل کرنے کے منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بلین ٹری سونامی کے بعد بلین ٹری سونامی شہد کا منصوبہ شروع ہوگا جس کے ذریعے جنگلات سے 1 کروڑ کلو گرام سے زائد شہد کی پیداوار حاصل کی جائے گی۔شہد حاصل کرنے کا یہ ملک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کے تحت وفاقی حکومت پاکستان کیلئے کروڑوں ڈالرز کا زرِ مبادلہ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ ملک بھر میں 10 لاکھ ایکڑ کے رقبے پر جنگلات موجود ہیں جہاں 7 مختلف اقسام کا شہد پیدا کیا جاسکتا ہے۔ منصوبے کے تحت 12 ہزار میٹرک ٹن شہد کی پیداوار حاصل کی جاسکے گی جسے بیرونِ ملک برآمد کیا جائے گا۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس منصوبہ کے متعدد فائدے گنوائے ہیں۔ ایک تو اس سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی ہوگی، ملک میں سبزہ دکھائی دینے لگے گا جبکہ سابقہ حکومتوں نے ملک کے ستر فیصد جنگلات ختم کرکے کنکریٹ کی عمارتیں کھڑی کردی تھیں۔ اب ماحول دوست حکومت اس رجحان کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک سے آلودگی کا خاتمہ اور صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ان کی حکومت کی ’ذمہ داری‘ ہے۔ وزیر اعظم نے البتہ یہ نہیں بتایا کہ یہ جنگلات کہاں لگیں گے۔ کیا سابقہ جنگلات میں بدعنوان لیڈروں کی بنائی ہوئی عمارتیں گرا کر نئے درخت اگا ئے جائیں گے اور شہد کی پیدا وار کا اہتمام ہو گا؟
موجودہ حکومت کی طرف سے معیشت ٹھیک کرنے کے نت نئے منصوبوں کی طرح یہ بھی ایک نیا منصوبہ ہے جس سے امید ہے کہ پاکستان کی لڑکھڑاتی معیشت سنبھل جائے گی۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب حکومت نے بھنگ کی کاشت سے معیشت کو سنبھالنے کی بات کی تھی۔ حکومت نے دعوی کیا تھا کہ بھنگ کی کاشت سے اگلے تین سال میں پاکستان ایک ارب ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ وزیر اعظم صاحب کے اس منصوبے پر کافی لے دے ہوئی تھی تاہم ابھی تک بھنگ کی کاشت کے لیے کہیں کوئی اقدامات نظر نہیں آئے لگتا ہے کہ منصوبہ ساز بھنگ پی سو ہی گئے ہیں۔
خیر بھنگ سے معیشت ٹھیک کرنے سے قبل خان صاحب ایک ایسا ہی فارمولا مرغی اور انڈوں کے حوالے سے پیش کرچکے ہیں ۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مرغی اور انڈوں سے غربت کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ دیہاتی خواتین مرغیوں اور انڈوں کے ذریعے غربت کا خاتمہ کرسکتی ہیں۔انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ حکومت دیہاتی خواتین کو مرغیاں اور انڈے فراہم کرے گی، جس سے وہ اپنا پولٹری کا کاروبار کر سکیں گی اور اس سے غذائی قلت کی کمی پر قابو پایاجا سکے گا تاہم ان دوبرسوں میں غذائی قلت کے شکار لوگوں کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔
ایک سروے کے مطابق ملک میں سال 2016ء میں مرغی کے گوشت کی فی کس کھپت 9 کلوگرام سالانہ تھی جو اب کم ہوکر 7 کلوگرام سالانہ رہ گئی ہے۔ جبکہ دنیا میں مرغی کے گوشت کی کھپت 40 کلوگرام فی کس سالانہ اور انڈے 300 فی کس سالانہ کے تناسب سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق انسان کے لیے یومیہ 27 گرام حیوانی پروٹین استعمال ضروری ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان میں 17 گرام ہے۔ اس طرح ہر پاکستانی 10 گرام یومیہ پروٹین کی قلت کا شکار ہوتا ہے۔ دوسری اہم بات ان دو سالوں میں غربت کی شرح میں چھ فیصد سے زائد اضافہ بھی ہوا ہے۔ خیر غربت دور کرنے اور معیشت کو بہتر کرنے کے لیے خان صاحب نے ایک مرتبہ گائے ، بھینیسیں اور بکریاں دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ خواتین کو ایک گائے، ایک بھینس اور تین بکریاں دیں گے۔ تاہم دو سال گزر گئے نہ تو وہ بکریاں کہیں نظر آئیں اور نہ ہی وہ گائیں بھینسیں اور پاکستانی معیشت مزید پستی میں گرتی دکھائی دے رہی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت ملک کو معاشی طور سے خود کفیل کرنے، قرض نہ لینے ، پیداوار ی معیشت استوار کرنے، بدعنوانی کے خاتمہ ، شفاف، آزاد اور صحت مند معاشرہ تعمیر کرنے کے وعدے پر برسر اقتدار آئی تھی۔ اس انقلابی منصوبہ کو نیا پاکستان اور پھر مدینہ ریاست کا نام دیا گیا۔ عمران خان کے سیاسی منشور کے مطابق حکومت کی پہلی پانچ سالہ مدت میں غریبوں کو 50 لاکھ گھر بناکر دینے اور ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بیروزگار لوگوں کی تعداد پونے دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے، ملک کی پیداواری صلاحیت منفی ہوگئی ہے، قرضوں کو لعنت اور سابقہ حکومتوں کی چوری قرار دینے والے ہونہار عمران خان کی حکومت کے اڑھائی سال میں 23 ارب 60 کروڑ ڈالر کے نئے قرضے لئے گئے ہیں۔ صرف اس مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران پاکستان کو مزید ساڑھے چار ارب ڈالر کا زیر بار کیا گیا ہے۔ یہ قرض کسی ترقیاتی یا پیداواری منصوبہ میں نہیں لگے گا بلکہ اس سے قرضوں پر سود اتارا جائے گا یا زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کیا جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا بھنگ، زیتون، مرغیوں، گائے ، بھینسوں اور بکریوں سے معیشت ٹھیک ہو سکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ معاشی احیا کے لئے عمران خان کا منصوبہ سیاسی مخالفین کو چور اچکے قرار دے کر لشٹم پشٹم ملک کو گھسیٹنے تک محدود ہوچکا ہے۔ باقی ماندہ وقت مرغیاں پالنے، انڈے فروخت کرنے یا اب شہد اور زیتون پیدا کرنے کے مشورے دینے پر صرف کیا جاتا ہے۔ دنیا کے ممالک اپنی معیشتوں کو ٹھیک کرنے کے لیے جامع اور ٹھوس منصوبہ سازی کرتے ہیں نہ کہ اس طرح کے مضحکہ خیز منصوبوں سے معیشت کے ساتھ مذاق۔ بجا ہے اس طرح کے منصوبے مائیکرو لیول پر غربت پر قابو پانے میں مددگار ہو سکتے ہیں تاہم اگر یہ کہا جائے کہ 22 کروڑ کی آبادی کو اس طرح روزگار اور روٹی فراہم کی جاسکتی ہے تو قوم کے ساتھ یہ محض ایک سنگین مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ وزیر اعظم صاحب شیخ چلی کی طرح خواب دیکھتے جار ہے ہیں مگر یہ انڈے ایک ہی ٹھوکر سے کہیں ٹوٹ نہ جائیں۔
منگل، 22 دسمبر 2020
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com