چند روز قبل پاکستان کے ایک انگریزی جریدے میں ایک طنزیہ تحریر شائع ہوئی جس کا عنوان تھا ” سعودی عرب نے پاکستان کو دی گئی چودہ سو سال کی ادھار تاریخ واپس مانگ لی”۔ اس طنزیہ مضمون نے پاکستان کے کمپلیکس اور غلامانہ سوچ کو کھول کر بیان کیا ہے کہ کس طرح پاکستانی معاشرہ اور حکومت سعودی ثقافت اور ان کی تاریخ پر فخر کرتی ہے۔ عربوں کے کارنامے اپنی کتب میں پڑھاتی ہے اور ان کو اپنا ہیرو گردانتی ہے اور یہ بات پاکستان کے سعودی آقاؤں کو بھی معلوم ہے۔ اس مضمون میں بعض لائنیں انتہائی دلچسپ ہیں مثلاً ایک جگہ لکھا ہے ” پاکستان کی موجودہ اور پچھلی حکومتوں کا اس بات پر اتفاق رائے ہے، پاکستان کو عربوں کی تاریخ بطور قرضہ نہیں بلکہ گرانٹ کے طور پر دی گئی تھی”۔ اور اب ہم پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ ہم یہ تاریخ واپس کردیں۔ اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس ملک کی کوئی تاریخ ہی نہ ہو اب وہ اپنی تاریخ کیسے بنائے”۔سینئر پاکستانی افسر نے پریشانی کے عالم میں کہا۔
اس طنزیہ تحریر نے پاکستانیوں کے منہ پر طمانچہ دے ماراہے اور اس معاشرے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے جو اپنی ثقافت تک کے لیے سعودی عرب کے مرہون منت ہے۔ مگر یہ ثقافت پاکستانیونے اپنائی کیوں ؟ آخر پاکستان کے اندر عربوں کے فاتحانہ قصے کہاں سے آئے؟ حقیقت یہی ہے کہ اس پر بھی دیگر منصوبوں کی طرح سرمایہ کاری کی گئی اور پاکستان کے نصاب میںپاکستان کی نسلوں کو سعودی ثقافت، نظریات اور کلچر گھول گھول کر پلایا گیا اور یہ بات آج کی بھی نہیں ضیا حکومت سے جو سلسلہ چلا تھا وہ آج بھی چلا آرہا ہے؟ آج بھی پاکستانی قوم یوسف بن تاشفین، صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد اور نور الدین زنگی کے کارناموںپر اتراتی دکھائی دیتی ہے۔
خیر اس تحریر کا پس منظر درحقیقت وہ تین ارب ڈالر تھے جو سعودی عرب نے تحریک انصاف کی حکومت کو ادھار دیے تھے اور اب ان کی واپسی کا تقاضے پر پاکستان نے چین سے ادھار مانگ کر سعودی عرب کو ان تین ارب ڈالر کی دوسری قسط واپس کی ہے۔ یعنی بقول شاعر
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے
رنگ لائے گی اپنی فاقہ مستی اک دن۔
اس قرضے کی جلد ادائیگی سے سعودی عرب اور پاکستان کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کی قلعی کھل کر سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے قرضے کی جلد ادائیگی کے مطالبے سے متعلق معید یوسف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ایک خود مختار ملک ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت ہمیں یہ پیسے پاکستان سے واپس چاہیں تو پاکستان نے اسی وقت اس قرض کی ادائیگی کر دی۔معید یوسف کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پاکستان سعودی عرب کے تعلقات جو ستر سال سے ہیں ویسے ہی رہیں، ان میں تبدیلی آئے گی اور اگلے کچھ ماہ تک پاکستان سعودی تعلقات کا توازن خراب نظر آئے گا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جب ولی عہد محمد بن سلمان نے خود کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر کہا تو ہم کچھ زیادہ ہے پھول گئے بلکہ پھیل گئے کہ اب سعودی ولی عہد ہمارا سفیر ہے۔ تاہم پاکستان کی خوش فہمیاں اس وقت ماند پڑھ گئیں جب اسی سفیر نے پاکستان کی گردن پر پاؤں رکھ کر اپنے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔
اس قرضے کی واپسی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات بھی کی اور اس ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط، دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید تقویت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ تاہم اس ملاقات سے قبل
پچھلے ھفتے سعودی سفیر نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ ان ملاقاتوں سے لگتا ہے سعودی عرب بیک وقت پاکستان کو چھتر بھی لگا رہاہے اورمنہ سے رام رام بھی کہہ رہا ہے اور ہمارے اعلی حکام سعودی عرب کو بڑا بھائی بڑا بھائی کہہ کر نہیں تھک رہے ۔ تاہم لگتا ہے کہ ان ملاقاتوں میں سعودی عرب کے بعض خفیہ مقاصد پہناں ہیں۔
ممکن ہے کہ ہمارے سعودی حلیف جو یہودی قابض ریاست کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہیں وہ پاکستان کو بھی ذلت کی اس کھائی میں دھکیلنا چاہتے ہوں بلکہ یقینا ایسا ہی ہےتبھی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عرب امارات سے واپس آتے ہی یہ بیان داغا کہ ہم مسئلہ فلسطین کے حل تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اسی بیان کے بعد ہی سعودی سفیر نے عمران خان صاحب سے ملاقات کی ہے اور لگتا ہےکہ قرض کے معاملات کو دبانے کے لیے پاکستان سے یہ شرط چاہی ہو کہ وہ بھی نتین یاہو کی بانہوں میں بانہیں ڈال کہ یہ اعلان کر دیں کہ ہم دوست ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ سعودی عرب کی سوئی اس معاملے میں اس وقت تک اٹکی رہے گی جب تک پاکستان اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں لیتا۔
پاکستان اب بھی اگر بھائی چارے اور چارے میں فرق نہ سمجھ سکے تو شاید پھر اس کی خارجہ پالیسی اسی طرح عربوں اور اربوں کے بیچ میں لٹکتا رہے گا ۔ اس حال میں جب ایک چھوٹی سی بات پر پاکستان کو قرض واپس کرنے کا حکم مل گیا تو مستقبل میں ہماری مزید حکم عدولیاں ہمیں نہ جانے کیا کیا دکھائیں گی۔ تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر پاکستان کو عربوں سے آزاد خارجہ پالیسی بنانا ہی ہوگی ورنہ جو حال بھارتی مقبوضہ کشمیر کا ہوا ہے وہ خدانخواستہ پاکستان کے دیگر حصوں کا بھی ہوسکتا ہے اور بغل میں چھری اور منہ میں مودی کی رام رام دبائے سعودی دوست ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔
بدھ، 23 دسمبر 2020
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com