مردان میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد ایک مرتبہ سیاسی ماحول ایک مرتبہ پھر گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مریم نواز نے وزیر اعظم صاحب کی لن ترانی پر ایک مرتبہ پھر خوب لتے لیے تاہم وزیر اعظم صاحب نے بھی جوابی کارروائی میں وہی ٹیپ دہرائی کہ اپوزیشن کرپٹ اور بدعنوان ہے۔ اسی محاذ آرائی میں ایک اہم خبر یہ ہے کہ آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو بینظیر بھٹو کے یوم شہادت پر گڑھی خدا بخش میں ہونے والے جلسے میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے مابین فون پر بات چیت بھی ہوئی اور تحریک کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ اس کے قبل اندر کی خبر یہ تھی کہ مولانا فضل الرحمان نے بے نظیر بھٹو کی برسی میں بعض اختلافات کی وجہ سے انکار کر دیا تھا تاہم آصف علی زرداری نے انہیں منا ہی لیا۔
قرین از قیاس بات یہی ہے کہ یہ اختلاف پیپلز پارٹی کی جانب سے مستعفی ہونے پر تھا۔ حکومتی وزرا اور مشیران روزانہ کی بنیا پر پی ڈی ایم سے استعفی طلب کررہے ہیں۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کے استعفے 31 دسمبر تک اسپیکر تک پہنچ جانے چاہئیں اگر استعفے نہیں پہنچتے تو یہ ڈرامے بازی بند کی جائے۔ شبلی فراز نے بھی پی ڈی ایم کو طیش دلانے کے کوشش کرتے ہوئے کہا کہ استعفے دینے والے کہیں نظر نہیں آرہے۔ شیخ رشید احمد نے بھی استعفوں کو ڈھونگ قرار دے کر دعوی کیا کہ یہ استعفے کبھی ہیں آئیں گے۔ دوسری جانب فضل الرحمان نے بھی عندیہ دیا ہے کہ جب تک حکومت رخصت نہیںہوتی وہ چین سے نہیںبیٹھیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ دعوٰی کیا تھا کہ تمام جماعتوں کے استعفے ان تک 31 دسمبر تک پہنچ جائیں گے تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن بھی پس پردہ اسٹیبلشمنٹ سے پینگیں بڑھا رہی ہے۔ جیسے محمد علی درانی کی شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے۔ مسلم لیگ ن کے دو رہنماؤں کے استعفے اسپیکر تک پہنچ گئے ہیں جس پر تشویش ہے کہ پارٹی کو بھیجے گئے استعفے اسپیکر تک کیسے پہنچ گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ ن کا کوئی بھی ایم این اے ، ایم پی اے استعفے نہیں دینا چاہتا۔ مسلم لیگ ن میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اب مریم نواز پر شک کر رہے ہیں کہ یہ ہمیں بند گلی میں لے جائیں گی۔
اس ساری صورتحال کو آصف علی زرداری بڑے قریب سے دیکھ رہے ہیں اور اسی وجہ پیپلز پارٹی کے بیانات میں نرمی یکھنے میںآرہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 29 دسمبر کو اپنی پارٹی کا سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یعنی CEC کا اجلاس بلا لیا ہے۔ اب تک تو اطلاعات تھیں کہ پیپلز پارٹی 27 دسمبر کو رتو ڈیرو میں بینظیر شہید کی برسی کے موقع پر تمام پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی PDM کی جماعتوں کی میزبانی کرے گی اور اس سے ایک روز پہلے یعنی 26 دسمبر کو پارٹی کی CEC کا اجلاس بلایا جائے گا۔ تاہم، یہ 29 دسمبر تک پارٹی کی CEC کا اجلاس نہ بلانا کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک اس سوچ کی غمازی کرتا ہے کہ 27 دسمبر سے پہلے پارٹی کوئی بدمزگی نہیں چاہتی لیکن برسی کے فوراً بعد PDM سربراہوں کو بتا دیا جائے گا کہ پارٹی استعفے دینے پر راضی نہیں۔
بدھ کے دن کئی ٹی وی چینلز پر ایسی خبریں بھی دیکھنے میں آئیں کہ نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں سابق صدرِ پاکستان زرداری صاحب نے یہ واضح مؤقف اپنایا ہے کہ سینیٹ انتخابات سے قبل استعفے دینا سب جماعتوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا اور اگر استعفے دیے بغیر سینیٹ میں مل کر الیکشن لڑا جائے تو PDM 15 کے قریب سیٹیں حاصل کر سکتی ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ استعفے دے کر سینیٹ انتخابات کو متنازع بنایا جانا چاہیے کیونکہ موجودہ حالات میں الیکشن لڑنا اس موجودہ نظام کو طاقت فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔
سندھ سے تعلق رکھنے والے باخبر صحافی امداد سومرو کا ماننا ہے کہ یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ اس کی بنیاد پر PDM اتحاد پارہ پارہ ہو سکتا ہے۔ بدھ کو اپنے ایک ویڈیو پاڈ کاسٹ میں امداد سومرو نے کہا کہ جس طرح لندن میں 2007 میں بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس میں پیپلز پارٹی باقی جماعتوں کے ساتھ اتفاق کرنے سے قاصر تھی اور نتیجتاً اس کو اتحاد سے باہر نکال دیا گیا تھا، ایک بار پھر کچھ ایسی ہی صورتحال دیکھنے میں آنے والی ہے کیونکہ اب بھی پیپلز پارٹی کا مؤقف باقی تمام جماعتوں سے مختلف ہے۔ پیپلز پارٹی خود تو اتحاد سے باہر نہیں آئے گی لیکن PDM کی دیگر جماعتیں اسے باہر نکال سکتی ہیں۔ اور جیسے 2007 میں APDM وجود میں آئی تھی اور ARDکا پلیٹ فارم ختم ہو گیا تھا، ویسے ہی شاید ایک نئے پلیٹ فارم کا آغاز ہو جس میں پیپلز پارٹی حصہ دار نہیں ہوگی۔
پیپلز پارٹی اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھتی ہے کہ اصل معاملہ ن لیگ کے درمیان بھی نہیں بلکہ اصل جنگ اب جمیعت علمائے اسلام اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ہے۔ مولانا غفور حیدری نے جتنی سخت باتیں کی ہیں اُتنی ابھی تک نہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کی گئیں اور نہ ہی نواز شریف کی جانب سے اتنی سخت باتیں کہی گئی ہیں۔ اس لیے یہ لڑائی پی ڈی ایم سے زیادہ اب فضل الرحمان کی ذاتی بن چکی ہے۔ دوسری جانب فضل الرحمان کی پارٹی کی یہ صورتحال ہے کہ اس کے پاس نہ تو کوئی صوبائی نشست ہے اور نہ ہی کوئی قومی اسمبلی کی۔ اس وقت فضل الرحمان کا سارا انحصار ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر ہے تاہم دیکھنا ہے کہ پیپلز پارٹی فضل الرحمان کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کرے گی یا نہیں؟
پیپلز پارٹی کا 29 دسمبر کو ہونے والا فیصلہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور اس وقت ساری نظریں اسی فیصلے پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ یہ فیصلہ ہی ملک کی سیاسی سمت کا تعین کرنے والا ہے اور ملک کی جمہوری اقدار میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والا ہے۔ آصف علی زرداری اگر یو ٹرن لے لیتے ہیں تو شاید پی ڈی ایم کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو کی سیاست کا بھی اختتام ہو جائے اور اگر آصف زرداری خلوص سے پی ڈی ایم کا ساتھ دیتے ہیں تو شاید ملک میںجمہوریت کے ساتھ ساتھ بلاول بھی قومی لیڈر بن کر ابھریں۔
جمعتہ المبارک، 25 دسمبر 2020
شفقنا اردو