اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں اضافے سے علاقائی معاشی انضمام کے امکانات زیادہ سے زیادہ ہوں گے اور ہمسایہ ممالک کے درمیان رابطے بڑھیں گے۔
عبدالرزاق داؤد نے 3روزہ افغانستان-پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (اے پی ٹی ٹی اے) کے 8 ویں دور کے افتتاحی اجلاس سے افغان وزیر تجارت و صنعت نثار احمد فیضی غوریانی کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘تجارت کے حوالے سے حالیہ بات چیت میں پاکستان اور افغانستان نے مشترکہ امن و استحکام کے ایجنڈے کے ذریعے بنیادی طور پر راہداری، دو طرفہ اور غیر رسمی تجارتی امور پر توجہ دی’۔
انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ رابطے بڑھانے کے لیے ہموار ٹرانزٹ تجارت، علاقائی تجارت کو گوادر پورٹ سے منسلک کرنا اور فروری 2021 میں افغانستان کے ساتھ اے پی ٹی ٹی اے اور ترجیحی تجارت کے معاہدے (پی ٹی اے) کو حتمی شکل دینا دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا ہے۔
مشیر تجارت نے کہا کہ ‘ہم نے افغانستان کو پہلے ہی گوادر کی راہداری تجارت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، اسی طرح وسطی ایشیائی ریاستوں نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ انہیں مستقبل قریب میں گوادر بندرگاہ کے ساتھ جوڑیں’، مزید یہ کہ ’افغانستان کے ساتھ معاشی تعلقات کو بڑھانے اور خیر سگالی کے طور پر پاکستان نے گوادر اور بن قاسم بندرگاہوں میں سہولیات فراہم کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے’۔
انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ آئندہ سال جنوری کے آخر تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان پی ٹی اے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے مہینوں میں اے پی ٹی ٹی اے نظر ثانی معاہدے پر بھی دستخط ہوجائیں گے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ بات چیت میں سرمایہ کاری سے متعلق امور حل ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تین روزہ بات چیت کے دوران دونوں فریقین سرحدوں کے ذریعہ بھارتی تجارتی اشیا کی رسائی پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس اور دیگر داخلی امور کی وجہ سے پاک افغان تجارت تعطل کا شکار تھی تاہم اب تعلقات معمول پر آنے کے بعد دو طرفہ/ٹرانزٹ تجارت سے گزشتہ فوائد کے حصول کی بھی توقع کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین باہمی سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع بڑھانے کے لیے معاشی زون کے قیام پر تبادلہ خیال کریں گے۔
مشیر تجارت نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے گزشتہ 7 ادوار کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان وسیع تر علاقائی مفاد میں امن و استحکام کے لیے ‘ایک مشترکہ وژن’ نامی جامع دستاویز پر اتفاق کیا گیا۔
دوسری جانب اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت و صنعت نثار احمد غوریانی نے کہا کہ افغان حکومت، پاکستان کو دونوں ممالک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے تمام سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
افغان وزیر کا کہنا تھا پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کی بہت بڑی صلاحیت ہے اور دونوں فریقین امن، خوشحالی اور علاقائی ہم آہنگی کے مشترکہ ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے ذریعہ علاقائی معیشت اور تجارت کو مربوط کرنے کے لیے اپنی اشیا پاکستان کے راستے جنوبی ایشیائی مارکیٹ میں برآمد کرنا چاہتا ہے۔
مزید یہ ان کے مطابق افغانستان علاقائی ممالک کو وسط ایشیائی ریاستوں سے جوڑنے کے لیے تیار ہے اور پاکستان اور افغانستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کے ذریعے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
منبع: ڈان نیوز