خواجہ آصف کی گرفتاری اور احتساب کا نعرہ

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں ایک سوال پر کہ موجودہ سیاسی ٹکراؤ کا حل کیاہے، انٹیلی جنس سروس کے چیف جنرل فیض کا کہنا تھا کہ اس واحد حل تمام سیاسی جماعتوں کے مابین قومی ڈایلاگ ہی ہے اس کے سوا اس کا کوئی حل نہیں۔ جو بات چیف صاحب نے کہی ہے اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ اس مسئلے کا حل صرف اور صرف بات چیت ہے تاہم ایک طرف تو مقتدرہ بیٹھ کر معاملات حل کرنے پر یقین رکھتی ہے تاہم دوسری طرف عمران خان صاحب اور ان کی حکومت اپوزیشن کو دھمکیاں دے رہے ہیں بلکہ نیب کے زریعے سے گرفتاریوں کا عمل بھی جاری ہے۔ اگرچہ خان صاحب نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم اس میں سے مریم نواز اور فضل الرحمان کو منہا کرنے کی شرط اور پھر خواجہ آصف کی گرفتاری اور مولانا صاحب کو نیب کا بلاوا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت بات چیت میں ہرگز سنجیدہ نہیں ہے بلکہ وہ جمہوری تحریک کی دھمکیوں کو محض گیدڑ بھبکیاں سمجھتی ہے۔ 

اس وقت سیاسی منظر نامے پر سب سے زیادہ چرچا خواجہ آصف کی گرفتاری کا ہے۔ خواجہ صاحب کی گرفتاری کی وجہ آمدن سے زیادہ اثاثہ جات کی وجہ سے کی گئی ہے۔ نیب کے مطابق سنہ 1991 میں سرکاری عہدہ حاصل کرنے کے بعد سے خواجہ آصف کے اثاثہ جات پانچ ملین روپے سے بڑھ کر سنہ 2018 تک 221 ملین روپے ہو چکے تھے۔ نیب کا کہنا ہے کہ ‘خواجہ آصف یہ بتانے میں ناکام رہے کہ ان کی اثاثہ جات ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں۔’نیب کے بیان کے مطابق خواجہ آصف کی طرف سے دی جانی والی یہ وضاحت مبینہ طور پر غلط تھی اور قابلِ قبول نہیں تھی کہ اس میں 130 ملین روپے انھیں اس نوکری سے تنخواہ کی مد میں ملے جو وہ متحدہ عرب امارات میں ایک کمپنی کے ساتھ کرتے رہے تھے۔تاہم خواجہ آصف وہ پہلے سیاستدان یا سرکاری عہدیدار نہیں ہیں جو نیب کے قانون ’آمدن سے زائد اثاثہ جات‘ کی بنا پر کرپشن کے الزامات میں گرفتار ہوئے ہوں۔ حال ہی میں ان ہی کی جماعت کے کئی دیگر رہنما ان ہی الزامات میں گرفتار ہوئے۔ ان میں سے کچھ کے خلاف احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کیے گئے تاہم بہت سے مقدمات تاحال ریفرنس تک بھی نہیں پہنچ پائے۔

دلچسپب بات یہ ہے کہ حکومت نے انہیں جن کیس میں گرفتار کیا ہے اس سے سیاسی انتقام کا واضح اشارہ مل رہا ہے۔ خواجہ آصف کی گرفتاری اگر کرنی تھی تو اس وقت کیوں نہیں کی گئی جس وقت ان پر اقامہ کا مقدمہ تھا اور وہ پاکستان کے وزیر دفاع ہوتے ہوئے ایک اماراتی فر م کے مشیر بھی تھے جہاں سے انہیں 18 سے 20 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ اس وقت ان پر غداری کا مقدمہ درج ہو سکتا تھا کیونکہ وزیر دفاع ہوتے ہوئے کسی غیر ملکی فرم کا مشیر ہونا یہ تاثر دیتا ہے ہک شاید انہوں نے کوئی قیمتی معلومات لیک آؤٹ کی ہوں اس طرح ان پر یہ مقدمہ درج ہو سکتا تھا تاہم ایسا نہیں ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ خواجہ آصف کو اس وقت بعض قوتوں نے بچا لیا تھا تاہم اب ایسا کیا ہوا کہ خواجہ آصف کو گرفتار کر لیا گیا ہے؟
یہ بات واضح رہے کہ خواجہ آصف عمران خان کی لسٹ میں ٹاپ آف دا لسٹ تھے اور خان صاحب ان کی گرفتاری کی شدید خواہش رکھتے تھے ۔ عمران خان کی شدید خواہش تھی کہ انہیں انتخابات میں شکست ہو مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے بعد سے عمران خان نے کئی دفعہ کوشش کی مگر خواجہ صاحب کے مقتدر حلقوں میں اچھے تعلقات کی وجہ سے اس کو پایہ انجام تک نہ پہنچایا جا سکا۔ اب بہت سارے تجزیہ نگاروں اور ن لیگ کے عہدیداران کے مطابق خواجہ صاحب کو اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ ن لیگ سے غداری پر تیار نہ تھے۔ ہ خواجہ آصف نے ایک ماہ قبل پارٹی لیڈر شپ کو آگاہ کر دیا تھا کہ انہیں مسلم لیگ ن چھوڑنے کی وارننگ دی گئی ہے۔ ایازصادق کے مطابق  خواجہ آصف نے وارننگ دینے والوں کو بتایا کہ  3 دہائیاں گزر چکیں میں جماعت نہیں چھوڑ سکتا۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسے وقت میں خواجہ آصف کو گرفتار کیوں گیا ہے جب کہ ایک طرف مقتدرہ اپوزیشن سے پس پردہ ڈائیلاگ کے لیے رابطے کر رہی ہے؟ تو یہ بات واضح ہے کہ خان صاحب کو مقتدرہ اور خواجہ آصف کے تعلقات ہر گز ہرگز پسند نہیں تھے  اور خواجہ آصف ہر گز گرفتار نہ ہوتے اگر انہوں نے ٹی وی پر آ کر یہ نہ کہا ہوتا کہ چیف آف آرمی سٹاف سے سیاسیوں کی ملاقات میں یہ بھی چیف صاحب نے کہا کہ عمران خان صاحب کے کلپ سرکولیٹ کر رہے ہیں اگر وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے تو اتنے بلندو بانگ دعوے کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں انتخابات میں ہار رہا تھا مگر پھر چیف آف آرمی سٹاف کو فون کیا اور انتخابات میں جیت گیا۔ خان صاحب کے لیے یہ انکشافات بھی تھے اور دکھ دہ باتیں بھی۔ اس لیے وہ اسٹیبلشمنٹ سے خوش نہیں تھے اور پھر انہیں یہ بات اب سمجھ میں آئی کہ کس طرح اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ صاحب کو نا اہل قرار دیا اور کس طرح پھر مقتدر قوتوں نے سپریم کورٹ سے انہیں بحال کروایا۔ اور ممکن ہے عثمان ڈار صاحب نے خان صاحب سے شکایت کی ہو کہ وہ تو جیت رہے تھے مگر انہیں جان بوجھ کر ہرایا گیا ہے۔
خواجہ صاحب سے شدید مخاصمت کی وجہ سے خان صاحب کے لیے یہ باتیں ناقابل برداشت تھیں۔ انہوں نے یقینا مقتدرہ سے اس بات کا گلہ کیا ہوگا کہ اور یہی وجہ ہے کہ خواجہ آصف جو غداری جیسے مقدمے سے بچ گئے تاہم ایک ایسے کیس میں انہیں گرفتار کر لیاگیا ہے جو سچائی سے زیادہ سیاسی نوعیت کا لگتا ہے۔ خواجہ آصف کی گرفتاری سے مقتدرہ اور حکومت دونوں نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کیونکہ خواجہ آصف ن لیگ کے قد آور رہنما ہیں اور وہ اہم عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ اگر معاملہ صرف عمران خان کو خوش کرنے کا ہے تو انہیں کسی اور طرح سے بھی خوش کیا جا سکتا تھا تاہم اس گرفتاری سے اپوزیشن کو عوام کی مزید ہمدردیاں حاصل ہوئی ہیں اور حکومت کا احتساب کا نعرہ مزید کمزور ہوا ہے۔
جمعتہ المبارک، یکم جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
Share This Article

تازه ترین