برطانیہ آج یورپی یونین سے باضابطہ الگ ہوگیا

برطانیہ آج یورپی یونین سے باضابطہ الگ ہوگیا، برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان نئے تجارتی تعلقات استوار ہوگئے۔

برطانوی شہریوں کے لیے روزگار کے موقع محدود اور طلبہ کے لیے بیرون ممالک میں تعلیم بھی متاثر ہوگی۔

قبل ازیں یورپین یونین کے لیڈرز نے 24 دسمبر کو برطانیہ کے ساتھ طے پانے والے بریگزیٹ کے بعد کے تجارت اور باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

یورپین یونین کی جانب سے یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندر لین اور یورپین کونسل کے صدر چارلس مشل جبکہ برطانیہ کی جانب سے وزیر اعظم بورس جانسن نے ان دستاویزات پر دستخط کیے تھے۔

بورس جانسن کے والد کا فرانسیسی شہریت لینے کا اعلان

بورس جانسن کے والد کا فرانسیسی شہریت لینے کا اعلان | Hamara Point بورس  جانسن کے والد کا فرانسیسی شہریت لینے کا اعلان

برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے والد اسٹینلی جانسن برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد فرانس کی شہریت لے لیں گے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بورس جانسن کے والد اسٹینلی جانسن کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کے بعد بھی یورپی یونین سے تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے فرانسیسی پاسپورٹ کے حصول کے لیے درخواست دوں گا۔

خیال رہے کہ 80 سالہ اسٹینلی جانسن پورپی پارلیمنٹ کے ممبر رہ چکے ہیں۔ برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں اسٹینلی جانسن نے بریگزٹ کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

یورپی یونین سےعلیحدگی؛ برطانوی وزیراعظم کے والد کا فرانسیسی شہریت لینے کا  اعلان - ایکسپریس اردو

گزشتہ روز اسٹینلی جانسن نے کہا کہ وہ فرانس کے شہری بننا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے فرانس سے بہت گہرے خاندانی تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا  کہ ’یہ بات تو یقینی ہے کہ میں ہمیشہ یورپی شہری رہوں گا۔ کوئی برطانوی شہریوں کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ یورپی نہیں ہیں۔‘

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برطانیہ کے لیے یورپی یونین سے تعلقات بہت ضروری ہیں۔

اسٹینلی جانسن نے فرانسیسی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹینلی جانسن کی والدہ اور نانا دونوں فرانسیسی شہری تھے۔

منبع: جنگ نیوز

Share This Article

تازه ترین