پاکستان میں شودروں کی بھی کیا زندگی ہے۔ کبھی کوئی جتوئی گولیاںمار کر ہلاک کردے، کبھی کوئی گیلانی اپنے سکواڈ کے ساتھ جاتے ہوئے کچل دے، کبھی کاؤنٹر ٹیرارزم کسی شودر کو گھر والوں سمیت گولیوں سے اڑا دے یا پھر کوئی منسٹر اسے اپنی گاڑی تلے روند دے؟ آخر شودروں کی اوقات ہی کیا ہے؟ جناب عزت ماب چیف جسٹس صاحب نے بچوں کے اغوا کے ایک کیس میںفرمایا ہے کہ یہ اگر کسی طاقتور کے بچے ہوتے تو اب تک بازیاب ہو چکے ہوتے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ قاضی القضا صاحب کو اس بات کا اندازہ ہے کہ یہاں قانون و انصاف صرف برہمنوں کے لیے لیے وگرنہ شودر تو اس ملک میں خوامخواہ ہی ہیں بلکہ شودروںکو برہمنوں کے اس دیس میںرہنے کا حق ہی کیوںحاصل ہو بھلا۔
اللہ بھلا کرے ریاست مدینہ کے والی کو جب وہ قطر کے دورے پر تھے تو ساہیوال میں ایک شودر کے خاندان کو بچوں سمیت بھون ڈالا گیا اور والی ریاست مدینہ اس سانحے پر ایسے لال پیلے ہوئے کہ اسی وقت فرمان شاہی جاری کر دیا کہ قطر سے واپسی پر وہ پہلا کام ہی پولیس کا لگام ڈالنے والا کریں گے مگر بدقسمتی سے واپس آتے ہی آگے پیچھے گاڑیوں کے پروٹوکول اور سیکورٹی کی گاڑیوں کی ایک طویل لائن میںانہیںیاد ہی کہاںرہا کہ انہیںپولیس کو لگام ڈالنی ہے ۔ خیر ریاست مدینہ کے والی سے گلہ ہی کیا وہ تو اپوزیشن کی دھجیاںاڑانے میںلگے ہوئے ہیںاور ایسے میںاگر کوئی شودر مارا بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔
یقینا اگر ساہیوال والا کام اپوزیشن نے کیا ہوتا تو ریاست مدینہ کے نیک نام والی ان کے بخیے ادھیڑ دیتے جیسا کہ وہ اکثر ماڈل ٹاؤن والے واقعے پر چیخ چیخ کر کہتے تھے کہ یہ ملک پولیس سٹیٹ بن چکا ہے اور پولیس بے گناہ لوگوںکو ہلاک کر رہی ہے مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہیںرینگتی۔ تاہم جیسے ہی وہ اقتدار میںآئے انہیں بھی سمجھ آگئی کہ اگر پولیس کے ہاتھوں چند شودر اور دلت مارے بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ پاکستان کی دھرتی پر یہ بوجھ بنے شودر ملک کی معیشت پر بوجھ تو کم کریں گے ہی ۔ خیر بات پولیس گردی کی ہورہی تھی تو ریاست مدینہ کے والی شہباز شریف کے پولیس والے نظام سے اس قدر متاثر ہوئے بلکہ ان سے اس قدر سبقت لینے میںآگے بڑھ گئے کہ وہ تو تھانوںمیںاپنی مرضی کے ایس ایچ و تعینات کرواتے تھے انہوں نے سیدھا سیدھا سی سی پی او ہی اپنی مرضی کا لگوا لیا۔
یقینًا اس ساری صورتحال کو صلاح الدین جیسے شخص نے بہت تلخی سے محسوس کیا ہوگا اور پھر اس نظام پر زبان نکال کر چڑانے کی جسارت کر بیٹھا جسے شاہ ریاست مدینہ کے محافظوں نے یقینًا پسند نہیںکیا اور اس کی مزاج پرسی کر کے اس کا قصہ ہی پار کر دیا کہ آخر ایک شودر کی یہ جسارت کیسے ہوئی کہ وہ اس نظام پر زبان نکال کر اس کا مذاق اڑائے۔ ریاست مدینہ کے والی کے محافظوں نے ملک کی سلامتی کے نام پر ایسے کئی شودروںسے اس زمین کا پاک کیا مگر قاضی القضا سمیت والی ریاست مدینہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ پتا نہیں وہ فرات کا کتا کتنا خوش قسمت ہوگا جس کے بارے میں مدینہ کی ریاست کے بے تاج بادشاہ کہتے پھرتے ہیں کہ اگر وہ کتا بھی مارا گیا تو اس کا حساب بھی ہوگا۔ یقینًا یقینًا ایسا ہوگا کیوںکہ خان صاحب کے ٹائیگر اور شیرو کے مقابلے میں ایک شودر کی کیا وقعت؟
پاکستان میںشودروںاور برہمنوںکا ذکر ہی کیا ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی ایک برہمن خاور برنی نے کراچی میں دو افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا چونکہ ملزم برنی آٹوز کا مالک تھا یعنی اصل برہمن تھا اسی وجہ سے تھانے میںاسے وی وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔ ظاہر ہی شودر کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ اگر شودر روٹی کا ٹکڑا چراتا پکڑا جائے تو پھر اس کی خلاصی جان دے کر ہی ہوتی ہے۔ خیر بات شیرو اور ٹائیگر کی ہورہی تھی تو یہ بات تو واضح ہے کہ ریاست مدینہ کے والی شیرو اور ٹائیگر کو اچھا خاصا وقت دیتے ہیں اور بنتا بھی ہے آخر وہ یہ وقت ملک کے شودروںکو کیوںدیں؟ شیرو اور ٹائیگر کے سامنے ان شودروںکی اوقات ہی کیا ہے۔
گزشتہ روز جب ریاست مدینہ کےوالی فرات والے دو کتوں یعنی شیرو اور ٹائیگر کے ساتھ وقت بتانے میں مصروف تھے تو اسلام آباد کے محافظوں نے ایک ایک شودر کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ پتا نہیں بھون ڈالنا شاید مجازی معنوںمیںاستعمال ہوتا ہو گا مگر ان محافظوں نے حقیقی معنوںمیںاسامہ نامی اس شودر کو گولیوں سے بھون ڈالا ۔ بات شاید 22 گولیوںسے 122 تک جاتی مگر جب محافظوںنے دیکھا کہ سرزمین پاک سے ایک اور شودرکا بوجھ کم ہوگیا تو بس کردی۔ ریاست مدینہ کے والی کے مشیر خاص واضح رہے کہ یہ مشیر خاص اقبال بلند ہو والے مشیر خاص ہیں نے ایک روز قبل فرمایا تھا کہ اگر کوئی بھی ملک کے برہمنوں کے خلاف بات کرے گا تو اس کے خلاف 72 گھنٹوں میںپرچہ درج ہوگا۔ مگر افسوس یہ مشیر خاص ایک شودر کی موت پر منہ میں گھگنیاںڈالے چپ ہوگئے۔
ریاست مدینہ کے والی کے مشیر خاص آپ اپنی سہولت کے لیے انہیں جناب بیربل بھی کہہ سکتے ہیں نے فرمایا ہے کہ وہ وفاقی دارلحکومت کے لیے ایک نئی فورس تشکیل دیں گے؟ یعنی اب شودروں کو شکار کو مزید وسعت دی جائے گی۔ کیونکہ اب تمام شودراس بات نہ سمجھ سکیں تو الگ بات کہ پولیس ہو، رینجرز ہو، سی ٹی ڈی ہو، ایف آئی اے ہو، ایلیٹ فورس ہو، ڈولفن ہو یا مشیر خاص کی نئی فورس ان سب کا مقصد شودروں کو دبانا، ان کے حقوق کو غصب کرنا اور برہمنوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ ان کا مقصد اس پاک سرزمین پر سے شودروںکے بوجھ کو کم کرنا ہے۔ خیر جب تک شودر اس بات کو سمجھنے کے قابل ہوںگے ان میں سے کئی ایک ریاست مدینہ کے محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہوں گے یا روٹی کا ٹکڑا جرانے کے جرم میں سلاخوں کے پیچھے اپنے بال سفید کر چکے ہوں گے۔
اتوار، 3 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com