کرپشن کی الکھ نگری

گزشتہ برس ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نےپاکستان حکومتی اداروں میں ایماندارنہ اور شفاف طریقہ کار کے لحاظ سے مرتب کی گئی ایک سو اسی ممالک کی فہرست میں میں نائیجر اور مالدووا کے ساتھ 19ویں نمبر پر رکھا ہے اور اس کا سکور 32 اور رینکنگ 120 ہے۔عالمی ادارے کی 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کا سکور 33 اور رینکنگ 117 رکھی گئی تھی اور یہ سکور اس سے پہلے کے دو برسوں سے ایک درجہ بہتر تھا۔ 2019 میں پاکستان ایک مرتبہ پھر سرکاری محکمہ جات میں بدعنوانی کے معاملے میں 2017 اور 2016 کے برابر آ گیا ہے۔ 2020 میں‌جو حالات ہیں یقینًا اگلی رپورٹ میں‌پاکستان انیسیوں سے پندرہویں نمبر پر آہی جائے گا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ 2010سے 2018ء تک پاکستان میں کرپشن میں سال بہ سال کمی ہوتی رہی یعنی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے دوران کرپشن کے خلاف اقدامات کی وجہ سے پاکستان کا کرپشن انڈیکس بہتر ہوتا رہا۔ تحریک انصاف کا بیانیہ ہی یہ تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ملک کو لوٹا ہے جب کہ تحریک انصاف کی حکومت کا صرف یہی ایجنڈا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے اس بیانیہ کے برعکس اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے تو ساری تدبیریں اُلٹی کر دی ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان تحریک انصاف کا بیانیہ غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ یہ صرف کرپشن انڈیکس میں ایک پوائنٹ اضافے سے ہوا ہے۔ اس سے پاکستان پر جو سیاسی اثرات مرتب ہوں گے، وہ بھی اعداد و شمار وضع کرنے والوں کے ذہن میں ہوں گے۔ 2019ء میں کرپشن میں اضافے کی بات کو عوام اور خواص بھی شاید نہیں جھٹلائیں گے کیونکہ جو کام پہلے آسانی یا کم رشوت سے ہو جاتے تھے وہ اب مشکل اور زیادہ رشوت سے ہونے لگے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کا سب سے بڑا ایجنڈا کرپشن کے خاتمے کا تھا لیکن اس حوالے سے کوئی تیاری نظر نہیں آئی۔ ’ملک کی معیشت بہتر نہیں ہوئی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور بار بار تلخ انداز میں کہنا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ خوف کی وجہ سے رشوت کے ریٹ میں اضافہ ہوا کیونکہ لوگ اب کہتے ہیں کہ پکڑا جاؤں گا بڑا رسک لینے کے لیے بڑی رقم چاہیے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی 24 سالہ سیاسی جدوجہد کو کرپشن کے خلاف جنگ قرار دیتے ہیں لیکن حکومت میں آنے کے ڈیڑھ سال بعد ہی عالمی ادارے نے ملک میں کرپشن میں اضافے کے اشاریے دیے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب کی باتوں سے نوجوان طبقہ جو بے روزگاری کے ہاتھوں بری طرح پس رہا تھا بہت زیادہ متاثر ہوا۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو جس قدرعوامی حمایت حاصل ہوئی وہ کسی اور جماعت کو کبھی نہیں ہوئی۔ تاہم ان اڑھائی برسوں میں پاکستان میں کرپشن کی ایسی ایسی کتھائیں سنائی دیں کہ سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گئے۔ سابقہ دور حکومت میں‌بھرتیوں کے معاملے میں کچھ نہ کچھ شفافیت موجود تھی جو اس دور حکومت میں سرے سے ہی ختم ہوگئی۔

حال ہی میں پنجاب کی 12 بڑی جامعات میں ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی بھرتیوں اور اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔پنجاب کی 12 بڑی جامعات میں 4554 غیرقانونی بھرتیاں کی گئیں اور وائس چانسلرز کی جانب سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔اس کے علاوہ اینٹی کرپشن پنجاب کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری جامعات میں 6 ارب 61 کروڑ روپےکرپشن کا انکشاف بھی کیا گیا۔اینٹی کرپشن پنجاب کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی 12 بڑی جامعات میں بغیر اشتہارات کے بھرتیاں کی گئیں، یونیورسٹی ایکٹ، سروس لا اور ریکروٹمنٹ پالیسی کو نظرانداز کیا گیا۔ گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک 3138 غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں جبکہ گریڈ 17 یا اس سے اوپر کی نشستوں پر1416 غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔

جس ملک میں جامعات میں کرپشن کا یہ عالم ہو تو وہاں قوم کے معماروں‌کی کیا صورتحال ہوگی؟ بدعنوانی کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے اساتذہ آنے والی نسلوں کو کیا روشنی دیں گے اور کیا تعلیم؟ خیر جس ملک میں بچوں‌کا دودھ اور دوائیں تک ملاوٹ زدہ ہوں‌وہاں اس جیسے واقعات پر حیرت کی کوئی بات نہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر تعلیمی ادارے ہی کرپشن سے پاک نہیں ہیں تو اور کسی ادارے پر کیسے یقین کیا جاسکتاہے؟ عمران خان صاحب کا بیانیہ تو کرپشن سے پاک پاکستان تھا مگریہ کیا یہاں تو علم و ادب کے ادارے بھی کرپشن میں‌پور پور لتھڑے ہوئے ہیں۔

جامعات اور تعلیمی اداروں‌میں کرپشن کا سانحہ کچھ کم نہ تھا کہ پنجاب کے بھرتی کے شفاف تصور کیے جانے والے ادارے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں‌کرپشن کی جو کتھا سامنے آئی اس نے ہر اس امیدوار کی آنکھوں‌کا خواب چھین لیا ہے جو محنت سے تعلیم حاصل کر کے مقابلے کا امتحان پاس کر کے ملک کی خدمت کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھا تھا۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے ایک بڑے پیمانےپر لیکچررز کی بھرتیوں‌کا عمل شروع کیا تو بعض سنٹرز پر طلبا کے مل کر پرچے حل کرنے اور ٹیلی فونز پر پرچے بیچنے اور خریدنے کی ویڈیو سامنے آئی تاہم اس کو معمولی بات سمجھ کر کسی نے اس پر ایکشن لینا ضروری نہ سمجھا مگر جب بات تحصلیدار کے امتحان کی آئی تو معلوم ہوا کہ ایک پرچہ آٹھ لاکھ روپے تک بک رہا ہے۔ اینٹی کرپشن نے بڑی تگ و دو سے چار رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا۔

اس گروہ نے انکشاف کیا کہ یہ متعدد پرچے لیک آؤٹ‌کر چکا ہے ۔ تاہم اس گروہ میں‌جو افراد گرفتار ہوئے ہیں وہ چھوٹی سطح کے ملازمین ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی چھوٹی سطح کا ملازم اعلی افسران کی ملی بھگت کے بغیر لاکھوں‌روپے کے پرچے فروخت کر سکتا ہے؟ کیا بڑی مچھلیوں‌کو ہمیشہ کی طرح بچا لیا گیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ اگر پنجاب پبلک سروس کمیشن میں‌بھرتیوں کا یہ عالم ہے تو باقی ریکروٹمنٹ اداروں‌کا حال کیا ہوگا؟ کیا یہی تحریک انصاف کا نعرہ تھا؟ مگر ان سب سے بڑھ کر بھیانک سوال یہ ہے کہ اس نوجوان نسل کا کیا قصور اور ان والدین کا کیا قصور جو اپنا پیٹ کاٹ‌کر اپنے غریب بچوں کو اس امید پر تعلیم دلواتے ہیں کہ کل وہ نوکری کے قابل ہوجائیں گے مگر انہیں کیا معلوم کہ ریاست مدینہ میں‌نوکریاں میرٹ پر ملنے کی بجائے بکتی ہیں۔

ریاست مدینہ کے سربراہ شاید یہ بات نہیں جانتے کہ ایک بے روزگار غریب طالبعلم کس مشکل سے کمیشن کے امتحان کی فیس بھرتا ہے اور کس طرح‌سیکنڑوں میل کا سفر طے کر کہ امتنحانی مرکز پہنچتا ہے۔ اگر یہ سب ہی کرنا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ بھرتیوں کا اشتہار دینے کی بجائے نوکریاں برائے فروخت کا اشتہاد دے دے تاکہ مفلوک الحال طلبا کی ٹیسٹ فیس اور سفری اخراجات تو بچ سکیں اور وہ اس ذہنی کوفت سے ایک مرتبہ نجات پاجائیں۔

پیر، 4 جنوری 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com 

 

Share This Article

تازه ترین