چوہدری نثار علی خان کو اگر سیاسی کنگ کانگ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ وہ ایک طویل عرصہ سے پاکستانی سیاست کے نباض ہیں اور اپنی سابقہ جماعت سمیت اپوزیشن میںبھی ایک قابل قدر سیاستدان جانے جاتے ہیں۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ میںایسے ہی یکساں قابل تعظیم سمجھے جاتے ہیں اب اس کی وجہ چاہے ان کے بھائی ہیں جو کہ فوج میں ایک اعلی عہدے پر فائز رہے ہیں یا ان کا سیاسی قد کاٹھ ہے تاہم بہت سارے موقعوں پر انہوں نے سیاست دانوںاور فوج کے مابین پل کا کردار ادا کیا ہے اور بہت سارے مواقع پر سیاسی پارٹیوں کے مابین مفاہمت کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2013 میںجب ن لیگ برسر اقتدار آئی تو فوج نے ان کو وزیر خارجہ لگوانے کے لیے بھرپور کوشش کی تاہم میاںنواز شریف ان کے بھارت مخالف جذبات سے بخوبی واقف تھے اس لیے انہوں نے ان کو وزیر داخلہ لگایا مگر وزیر خارجہ لگانے سے معذرت کر لی۔ جس کی وجہ سے فوج اور نواز لیگ کے مابین کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔ تاہم بطور وزیر داخلہ بھی اگر ان کے عرصہ کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے فوج کی پالیسیز کو بہت آگے بڑھایا۔
اپنی ہی جماعت کے ساتھ بعض اختلافات کی وجہ سے چوہدری نثار علی خان نے پارٹی کو خیر باد کہہ دیا تھا اور پھر الیکشن میں ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کی تاہم انہوں نے ابھی تک کابینہ کا حلف نہیںاٹھایا۔ جب سےپاکستان تحریک انصاف اقتدار میںآئی ہے تب سے وہ سیاست سے الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں تاہم اسٹیبلشمنٹ کے خاص الخاص آدمی محمد علی درانی کے ساتھ ان کی ملاقات نے ایک مرتبہ پھر ان کی واپسی کی چہ مگوئیوںکو شہہ دی ہے تاہم ان کی واپسی انہی قوتوں کے اشارے پر ہے جنہوں نے پہلے محمد علی درانی کو نامہ بر بنا کر بھیجا تھا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ محمد علی درانی کی ناکامی کے بعد قومی مذاکرات کا مشن انہیں سونپا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے یہ تاثر زور پکڑ گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے قومی ڈائیلاگ کا مربوط منصوبہ بنا لیا ہے۔ اور اس کے لیے اب مرکزی کردار چوہدری نثار علی خان اداکریں گے۔
چوہدری نثار علی خان کی واپسی سے یہ بات طے ہوگئی ہے کہ قومی ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شہبازشریف نے قومی ڈائیلاگ کی بات کی کہ میثاق معیشت کیا جائے لیکن وزیراعظم عمران خان نہیں مانے. تاہم دوسری جانب اپوزیشن بھی عمران خان کے ساتھ مذاکرات پر تیار نہیں اور ان کا پہلا مطالبہ مائنس عمران ہے۔ جب کہ عمران خان کا مطالبہ بھی مائنس مریم نواز اور فضل الرحمان ہیں۔ دوسری جانب ریاستی اداروں نے قومی ڈائیلاگ کیلئے نوازشریف، مریم نواز اور اسحاق ڈار مائنس تھری کردیا، ان کے ساتھ ریاستی ادارے کوئی بات نہیں کریں گے، کیونکہ یہ سزایافتہ ہیں، شہبازشریف، حمزہ شہباز اور مولانا فضل الرحمان سے بات ہوسکتی ہے۔ مگر ابھی تک یہ بات طے نہیں ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھی مریم نواز اور نواز شریف کی غیر موجودگی میں مذاکرات پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں اور دوسری جانب اگر مریم نواز یا نواز شریف کو مذاکرات میں شامل کر لیا گیا تو کیا عمران خان صاحب اس ڈائیلاگ کا حصہ بنیں گے؟
اب اس مقصد کے لیے ایک طرف تو چوہدری نثار علی خان اپنا کردار ادا کریں گے۔ وہ شہباز شریف کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں اور ممکن ہے کہ انہیں یہ ٹاسک دیا گیا ہو کہ وہ مائنس مریم اور نواز شریف ، ن لیگ کی قیادت کریں اور قومی ڈائیلاگ کا حصہ بنیں۔ اس سے قبل محمد علی درانی نے بھی میاں شہباز شریف کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ ناکام رہے۔ یہاں یہ بات بھی ممکن ہے کہ چوہدری نثار علی خان شہباز شریف کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں کہ وہ نئی مسلم لیگ کی بنیاد رکھیں جس میں وہ ان کے ساتھ ہوں گےاور اس کے بدلے میں انہیں پنجاب حکومت کا وزیر اعلی بنادیا جائے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ چوہدری نثار علی خان اس مقصد میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان اگر سابق وزیر اعلی پنجاب کو ان آپشنز پر قائل نہ کرسکے تووہ یقینا ان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ اپنے بھائی کو نیشنل ڈائیلاگ کے کے تیار کریں جیسا کہ محمد علی درانی نے کیا۔
یہاں پر ایک بنیاد نکتہ یہ بھی ہے کہ ممکنہ طور پر عمران خان صاحب قومی ڈائیلاگ کے لیےراضی نہ ہوں یا کسی صورت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنےکے لیے تیار نہ ہوں تو اس کے لیے پھر عمران خان پر فارن فنڈنگ کیس کی تلوار لٹکائی جا سکتی ہے جس کا حال ہی میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے بھی مطالبہ کیا ہے۔ فارن فنڈنگ کیس عمران خان پر ایک ایسی لٹکتی تلوار ہے جو کسی بھی وقت ان کا سر قلم کر سکتی ہے۔ گو کہ ابھی تک الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپوزیشن کے شدید واویلے اور مطالبات کے باوجود اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا تاہم اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں یہ ایسا ترپ کا پتا ہے جسے وہ کسی بھی وقت استعمال کر کے عمران خان سے چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ چکری کی سرکار اپنے مشن میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں کیونکہ موجودہ صورتحال نہ تو اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابل قبول ہے اور نہ ہی اپوزیشن کے لیے۔
بدھ، 6 جنوری 2020
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com