عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ فائزر اور بائیونٹیک کی مشترکا ویکسین کی دونوں خوراک 21 سے 28 دنوں کے وقفے میں لازمی استعمال کی جانی چاہیے۔
ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایک آن لائن نیوز بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ ویکسین کی دوسری خوراک کے تین سے چار ہفتے بعد استعمال کے نتائج سے متعلق ڈیٹا موجود نہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں اس بات کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے کہ پہلی خوراک کے بعد دوسری خوراک دینے میں بارہ ہفتوں کی تاخیر کی جائے۔
دوسری جانب سربراہ عالمی ادارہ صحت نے چین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے اب تک کورونا کے پھیلاؤ کی ابتدا جاننے کے لیے عالمی مشن کے تمام ارکان کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی ہے۔
ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ وہ ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وائرس کی ابتدا سے متعلق جاننا ڈبلیو ایچ او کی ترجیحات میں شامل ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو چین میں داخلے سے روک دیا گیا

کورونا وائرس کی ابتدا سے متعلق تحقیق کے لیے چینی شہر ووہان جانے والی عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو چین میں داخلے کی اجازت نہیں مل سکی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق چین جانے والے تفتیشی ٹیم کے دو ارکان میں سے ایک کو واپس کردیا گیا ہے، دوسرے کو ایک اور ملک میں روک دیا گیا ہے۔
دونوں افراد کو ویزا کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے روکا گیا۔
کورونا وائرس کی ابتدا جاننے کے لیے چین نے ووہان میں عالمی تحقیقات کی اجازت دسمبر میں دی تھی، کورونا وائرس کا پھیلاؤ 2019 کے آخر میں ووہان شہر کی مارکیٹ سے ہوا تھا۔
منبع: جنگ نیوز