سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش نے کیپیٹل ہل پر حملے کو بنانا ری پبلک سےتشبیہ دے دی ہے۔
جارج ڈبلیو بُش کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ کچھ سیاست دانوں نے الیکشن کے بعد اداروں کومتنازع بنانے کےلیے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ متنازع انتخابات بنانا ری پبلک میں ہوتے ہیں نہ کہ امریکا جیسے جمہوری ملک میں۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر اوباما نے کہاکہ امریکی ایوان پرحملہ حیران کن نہیں بلکہ باعث شرم ہے۔
کیپیٹل ہل عمارت میں مظاہرین کا داخل ہونا ناقابل قبول ہے، مائیک پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ کیپیٹل ہل عمارت میں مظاہرین کا داخل ہونا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، مقاصد کے حصول کے لیے پرامن احتجاج کے ہر شہری کے بنیادی حق پر یقین رکھتا ہوں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی کیپیٹل ہل (پارلیمنٹ بلڈنگ) کی عمارت میں داخل ہو گئے، ٹرمپ کے حامیوں اور پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ چھڑپوں کے بعد کیپیٹل بلڈنگ کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
امریکی پارلیمنٹ عمارت پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
افسوس ہے کہ ٹرمپ نے شکست تسلیم نہیں کی، انگیلا مرکل

جرمن چانسلر انگیلا مرکل کا کہنا ہے کہ کیپٹل ہل کے مناظر نے مجھے بیک وقت برہم اور افسردہ کردیا، افسوس ہے کہ ٹرمپ نے شکست تسلیم نہیں کی۔
امریکا میں ٹرمپ کےحامیوں کی ہنگامہ آرائی پر جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کیپٹل ہل کے مناظرنے مجھے بیک وقت برہم اور افسردہ کردیا ہے۔
یقین ہےکہ امریکی جمہوریت پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والوں سے زیادہ طاقتور ہے، جوبائیڈن اور کاملہ ہیرس امریکی جمہوریت کے نئے باب کی شروعات کریں گے۔
انتخابی نتائج پر مسلسل شبہات گذشتہ رات کی ہنگامہ آرائی کا سبب بنے۔
منبع: جنگ نیوز