صدر ٹرمپ نے جمہوری اداروں پر حملہ کیا، جوبائیڈن

امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمہوری اداروں پر حملہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے امریکی ووٹرز کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔

نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے خطاب میں کہا کہ گزشتہ روز کانگریس کی عمارت پر حملہ ملکی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔

جوبائیڈن نے پولیس کے رویے پر بھی تنقید کہا کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ٹرمپ کے حامیوں سے نرم برتاؤ رکھتی ہے لیکن نسل پرستی کے خلاف مظاہرین سے سختی برتی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلیک امریکن مظاہرین سے کسی اور طرح سے نمٹا جائے گا، ملکی عزت، سالمیت اور آزادی کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

نومنتخب امریکی صدر  کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ہل حملے میں ملوث افراد مقامی دہشت گرد ہیں۔

ٹرمپ نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کیلئے چاڈ وولف کی نامزدگی واپس لے لی

ٹرمپ نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کیلیے چاڈ وولف کی نامزدگی واپس لے لی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے چاڈ وولف کی نامزدگی واپس لے لی ہے۔ ٹرمپ نے چاڈ وولف کا نام ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مستقل سیکرٹری کے لیے پیش کیا تھا۔

چاڈ وولف نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کانگریس کی عمارت پر حملے کی مذمت کریں۔ قائم مقام سیکرٹری چاڈوولف نے مزید کہا کہ کیپٹل ہل پر حملہ افسوس ناک ہے۔

 وائٹ ہاوس نےچاڈوولف کی نامزدگی واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

واضح رہے کہ امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں جیت کی توثیق کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی بے قابو ہوگئے اور امریکی پارلیمنٹ کی عمارت کیپیٹل پردھاوا بول دیا تھا۔

ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی میں خاتون سمیت 4 افراد کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی میئر موریل باؤزر نے شہر میں پبلک ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

ٹرمپ کے حامی مظاہرین لاٹھی، ڈنڈے اور جھنڈے لیے عمارت میں گھس گئے تھے،انہوں نے توڑ پھوڑ کی اور پولیس سے جھڑپوں میں کئی اہلکار زخمی ہوئے جس کے بعد پولیس کو شیلنگ کرنا پڑی، ارکان کانگریس عمارت میں محصور ہوکر رہ گئے تھے۔

ٹرمپ کی مدت صدارت خطرے میں پڑ گئی

ٹرمپ کی مدت صدارت خطرے میں پڑ گئی - Newsone Urdu

کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت خطرے میں پڑ گئی۔ ٹرمپ کی برطرفی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔

امریکا کے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی اور سینیٹ ڈیمو کریٹ لیڈر سمیت 100 سے زائد ارکان کانگریس نے ٹرمپ کو فوری عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔

اسپیکر نینسی پلوسی نے 25 ویں آئینی ترمیم یا مواخذے کے ذریعے ٹرمپ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، 25 ویں آئینی ترمیم اس وقت استعمال کی جا سکتی ہے جب صدر نااہل اور عہدہ چھوڑنے پر راضی نہ ہو۔ یہ ترمیم کسی بھی امریکی صدر کو زبردستی عہدے سے برطرف کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق صدر کی کابینہ کی اکثریت 25 ویں ترمیم کے حق میں فیصلہ دیتی ہے۔ کابینہ کے فیصلے کی توثیق نائب صدر کردے تو موجودہ صدر برطرف اور نائب صدر بطور صدر ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔

منبع: جنگ نیوز

Share This Article

تازه ترین