چائے بہت عمدہ ہے” یہ وہ جملہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کیا بلکہ دنیا بھر میں جب بھی یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو چائے پلائیں گے تو فورا ہی ذہن ابھینندن کی پاکستان سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں بھارتی پائلٹ کی درگت کی طرف چلا جاتاہے بلکہ یہ کہنا بے نہیں ہے چائے پلانا درحقیقت مخالفین کو چیلنج دینے کا استعارہ بن گیا ہے۔ پی ڈی ایم کو جبانٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کے دوران راولپنڈی آنے پر چائے پانی کی پیش کش کی تو بہت ساروں کا ماتھا ٹھنکا۔ مولانا بھی خیر اس کوچے کے پرانے رمز شناس رہے ہیں اس لیے جھٹ سے کہہ دیا کہ ’میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ خود تو پاپا جونز کے پیزے کھائیں اور ہمیں چائے پانی پر ٹرخائیں، یہ تو پھر زیادتی ہے، یہ مہمانداری نہیں ہے۔‘
مولانا نے محض پاپا جونز کے پیزے کی بات نہیں کی بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے کہا گیا کہ نیب کے سامنے مولانا فضل الرحمان کو سرنڈر کرنا ہو گا، میں نے کہا سرنڈر ہونا مولانا فضل الرحمان کا کام نہیں وہ جنرل نیازی کا کام ہے۔‘ دونوں طرف کے اشارے کنایوں سے لگتا ہے کہ مولانا اور فوج کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں اور یقینا مولانا فوج کے ساتھ اس وقت تک مفاہمت نہیں کرنا چاہتے جب تک عمران خان کی رخصتی نہیں ہو جاتی۔ مولانا نے واضح طور پر کہا فوج کو وضاحت دینی ہو گی کہ وہ غیر جانبدار ہیں کہ عمران خان کے ساتھ فریق ہیں۔ اگر وہ فریق ہیں تو پھر ہماری مجبوری ہو گی کہ جی ایچ کیو کے دروازے پر احتجاج کریں۔
فوج کے ترجمان نے اس بات پر حیرت کا اظہار ضرور کیا ہے کہ پی ڈی ایم آخر کیوں لانگ مارچ لے کرراولپنڈی آنا چاہتی ہے لیکن یہ کہہ کر اس کا ’خیر مقدم‘ بھی کیا ہے کہ اگر وہ آئے تو ان کا خیال رکھا جائے گااور چائے پانی پوچھا جائے گا۔ یہ وہ وعدہ ہے جو درحقیقت عمران نے اقتدار سنبھالتے ہوئے اپوزیشن سے کیا تھا کہ آپ احتجاج کریں ہم آپ کے لئے کنٹینر اور لنگر کا انتظام کریں گے۔ حکومت اپنے اس وعدے کو بھول کر قانون و آئین کی بات کرنے لگی ہے لیکن فوجی نمائیندے نے اس وعدے کا بھرم رکھا ہے اور یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم چائے پانی پوچھیں گے۔ اس کا یہ مطلب بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ’مولانا، ہماری آپ کی کوئی لڑائی نہیں ہے‘۔
تاہم یہ محض خوش فہمی ہی ہوسکتی ہے کہ فوج نے پی ڈی ایم کے معاملے میں اپنا رویہ نرم رکھا ہو۔ دوسری جانب مولانا کے جواب سے بھی ملک میں سخت گیر سیاسی فضا کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ فوج نے اگرچہ کہاہے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی تاہم عمران خان نے اپنی زبان سے خود اس بات کو قبول کیا ہے کہ فوج ان کے ساتھ ہے۔ اس لیے فوج کے پاس اب واضح طور پر دو آپشن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے عمل سے وہ سیاست میں اپنی غیرجانبداری ثابت کرے۔ اور ملک کی سیاسی قوتوں کو آپس میں معاملات طے کرنے کی سپیس دے دی جائے۔ پاکستان جمہوری تحریک کے لیڈر یہ مطالبہ دو ٹوک الفاظ میں کر بھی چکے ہیں کہ فوج بیچ میں سے نکل جائے اور اپوزیشن کو تحریک انصاف اور اس کی حکومت کے ساتھ معاملہ کرنے دے۔فوج کے پاس دوسرا آپشن یہی ہے وہ براہ راست ملک کی سیاسی قوتوں کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کرے۔ حالات بگڑنے پر براہ راست حکومت سنبھالے اور پوری قوت سے ہر اختلافی آواز کو دبا دیا جائے۔ البتہ ایسے کسی اقدام کے عواقب کو پہلے خوب اچھی طرح جانچ لینا ضروری ہوگا۔ مواصلت اور بیداری کے موجودہ عہد میں طاقت کے زور پر سیاسی خود مختاری اور جمہوری مطالبے کو دبانا ہرگز سہل اقدام نہیں ہے۔
تیسری صورت بھی اور وہ یہ ہے کہ اس موجودہ صورتحال کو برقرار رکھا جائے۔ عمران خان صاحب حکومت کیے جائیں اور اپوزیشن واویلا کرتی رہے تاہم اس امر سے پاکستان کی معیشت جس قدر نقصان اٹھا چکی ہے اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے اور اس سے عام آدمی کی زندگی پر جس قدر فرق پڑا ہے وہ بھی بتانے کے لائق نہیں ہے۔ مہنگائی میں بے بہا اضافہ، بے روزگاری، افراط زر اور ضروریات زندگی کا لوگوں کی پہنچ سے باہر ہونا محض دو سالہ حکومت کا نتیجہ ہے اور پھر کرونا کی وجہ سے معیشت منفی کے اعداد کو چھو رہی ہے جس سے پاکستان کے معاشی مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اگر فوج، عمران خان اور اپوزیشن کی لڑائی اسی طرح جاری رہی اور اس کا کوئی حل نہ نکالا گیا تو پھر بھوک، افلاس اور ننگ سےمرتی یہ قوم ہی کہیں نہ نکل پڑے اور اگر ایساہوا توپھر نہ تو کوئی خان نظر آئے گا، نہ کوئی مولانا اور نہ ہی کوئی جرنیل۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز اشاروں کنایوں میں ایک دوسرے کو خبردار کرنے کے سنجیدگی سے بیٹھ کر اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ دیں ورنہ حالات شاید کسی کے قابو میں نہ رہیں۔
بدھ، 13 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com