جب کوئی ملک اپنی جغرافیائی سالمیت کے لیے جنگ لڑتا ہے تو وہ ہر طرح کی امداد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے چاہے یہ حمایت فوجی ہو یا سفارتی۔جنوبی قفقاز میں گزشتہ برس آرمینیا اور آزربائیجان کے مابین تنازع سے باکو کے پاکستان اور ترکی کے مابین تعلقات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ ترکی کے تیار کردہ ڈرونزکی مدد سے آذربائیجان آرمینیائی افواج کو نگورونو کاراباخ سے سے نکالنے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح پاکستان نے بھی کھلم کھلا آذربائیجان کے موقف کی حمایت کی کہ اس کو اپنی سرزمین کے دفاع کا پورا پورا حق حاصل ہے اور نگورونو کاراباخ بین الاقوامی طور پر آذربئیجان کا تسلیم شدہ حصہ ہے۔

عام حالات میں کسی بھی خطی کشیدگی کے لیے حمایت ایک الگ بات ہے تاہم حقیقی جنگ کے دوران اگر کوئی آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو اس کی اہمیت ہی الگ ہے چاہے یہ صرف سفارتی حمایت ہی کیوں نہ ہو۔ اسلام آباد پالیسی سٹڈیز کے سربراہ خالد رحمان کا کہنا تھا کہ ترکی، پاکستان اور آذربائیجان نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ ایک دوسرےکی حمایت کی ہے  اس کی واضح مثالیں کشمیر، نگورونو کاراباخ ا ور قبرص تنازعہ ہیں۔

اسلام آباد میں رواں ہفتے ان تین ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے بھی یہ بات عیاں ہے۔ ایک مشترکہ اعلامیے میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی مذمت کی گئی اور قبرص کے مسئلے کو حل کرنے پر زور دیا گیا۔ 1970 سے قبرص دو حصوں میں  منقسم ہے ایک کو یونانی قبرص کہتے ہیں اور دوسرے کو ترکش ریپبلک آف ناردرن سائرپس کہتے ہیں ۔پاکستان نے سالہا سال سے قبرص پر ترکی کے موقف کی حمایت کی ہے۔

سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد آذربائیجان ایک آزاد ملک  کی حیثیت سے دنیا کےنققشے پر ابھرا۔  آذربائیجان  ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اور آغاز سے ہی اس کے پاکستان اور ترکی سے بہترین تعلقات ہیں۔ ترکی کے بعد پاکستان دوسرا ملک تھا جس نے 90 کی دہائی میں آذربائیجان  کو تسلیم  کیا  جبکہ پاکستام وہ واحد ملک ہے جس نے آرمینیا کو تسلیم نہیں کیا اور یہ قدم درحقیقت آذربائیجان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔آرمینیا نے بھی اپنے طور پر ہمیشہ پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے۔ 2016 میں آرمینیا نے روس کی سربراہی میں سیکورٹی میں ایک معاہدے میں پاکستان کی بطور آبزور بننے کی کوشش کو ناکام بنا دیاتھا۔

ایک چیز جس نے آذربائیجان، ترکی اور پاکستان کو باندھ رکھا ہے وہ ان ممالک کی مسلم اکثریت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تینوں ممالک بین الاقوامی محاذوں پر ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کی ہے اور ایک دوسرے کو ہمیشہ حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انقرہ نے باکو کی ہمیشہ سے فوجی امداد کی ہے اور اب اسلام آباد بھی باکو کے ساتھ فوجی تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔اسی مہینے کے آغاز میں پاکستان اور آذربائیجان کے ائیر چیف نے ملاقات کی اور پائلٹس کی مشترکہ تربیت اور فوجی مشقوں پر بات چیت کی۔پاکستان اور ترکی کے مابین پہلے سے ہی مضبوط دفاعی تعاون موجود ہے ترکی پاکستان کے لیے مائلجم جنگی کشتیاں تیار کر رہا ہے جبکہ اس نے پاکستان سے 52 مشاق ٹریننگ طیارے بھی خریدے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے لیے باکو کی جانب سے کشمیر پر اس کے موقف حمایت ان کے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔گزشتہ سال مئی میں آذربائیجان کے صدر الہام علی ایف نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اگرچہ بھارت نے بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ سے کشمیر کو مسئلہ قرار دینے سے انکار کیا ہے تاہم آذربائیجان نے ہمیشہ بھارت کے اس موقف کو رد کر کے پاکستان کی حمایت کی ہے۔ 2019میں نئی دہلی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ اگرچہ بین الاقوامی سیاست میں آذربائیجان کی کوئی خاص حیثیت نہیں تاہم کشمیر پر اس کا موقف  بھارت کے لیے ہمیشہ سے پریشان کن رہا ہے۔

جمعتہ المبارک، 15 جنوری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے