بھارت میں اسرائیلی سفارت کار  ران ملکا نے گزشتہ جمعے والے دن بھارت میں اپنے سفارت خانے پر ہونے والے حملے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی سفارت خانے کے قریب ہونے والے اس کم طاقت کے دھماکے کے بعد پولیس نے فوری طور پر فارن ریجنل رجسٹریشن آفس سےان ایرانیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کو کہا جو گزشتہ ماہ کے دورا  بھارت آئے تھے۔ بعد میں بتایا گیا کہ جیش الہند نامی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے  اور جائے حملہ پر ایک نوٹ بھی ملا ہے جس پر درج تھا کہ جو کچھ پونے والا ہے یہ صرف اس کا ٹریلر ہے۔ اس  نوٹ میں ایران کے شہید میجر جنرل قاسم سلمانی اور ایٹمی سائنسدا۔ن محسن فخری زادہ کی تعریف میں کلمات بھی درج تھے۔ جس کے نتیجے میں موساد نے خود اس حملے کی تحقیقات سنبھال لی ہیں حالانکہ ایران نے اس حملے میں ملوث ہو نے کی سختی سے تردید کی ہے۔

اس حملے کا ایک فوری تجزیہ شاید اس امر کی طرف اشارہ کرے کہ اس حملے میں ایران ملوث تھا تاہم اس کے گہرے تجزیے سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ نہیں حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایران کے دوست اور دشمن اس کی غیر روایتی جنگی صلاحیتوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس لئے اس حملے کی یہ بات کہ اس میں ہلاکتیں نہیں ہوئیں  بلکہ محض چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے بہت غیر فطری ہے۔ دوسرا یہ ایران کا طریقہ کار ہر گز نہیں ہے کہ پہلے وہ ٹریلر دکھاتا پھرے کہ وہ آگے کیا کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس بات کے امکانات بہت ہی کم پیں کہ اس حملے میں ایرانی ہاتھ تھا۔اور اس بات کے امکانات بھی کم ہی ہیں کہ ایران کامیابی سے بھارت میں اسرائیلی سفارت کاروں کو نشانہ بنا سکتا ہے یا نشانہ بنانا چاہتا ہے کیونکہ کے ایران اس بات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اورآخرمیں جس نےبھی یہ سب کیا ہے اس نےاس میں ایران کو  اس نوٹ کے ذریعے ملوث کرنے کی کوشش کی ہے جو جائےوقوعہ سےملا ہے۔

ان تمام باتوں سےیہ بات تو واضح ہے کہ بلاشبہ حملے کی کوشش کی گئی ہے، اس کےنتائج خوفناک نہیں نکلےتاہم ایسے ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی گئی جن کے ذریعے ایران کو ملوث کیاجاسکے تاہم ایران نے اس حملےمیں اپنے کسی بھی قسم کےکردار کی نفی کی ہے۔ اس تمام کےباوجود بھارت نےسب  سےپہلےحال ہی میں نئی دہلی آنےوالےایرانی  افراد کے بارے میں  تفتیش کی ہے اوراس کی سیکورٹی فورسز اسرائیلی انٹلی جنس کےساتھ ملکر  کام رہی ہیں۔پس اس سےیہ ثابت ہوتا ہےکہ اپنی ایماپریااپنےنئےحلیفوں اسرائیل اورامریکہ کےدباؤ کی وجہ سےسیاسی فائدےکےلیےمناسب سمجھاکہ اس حملے میں کسی نہ کسی حد ایران کو ملوث کر لینا ہی اس کے حق میں بہتر ہو گا۔

مزید بر آں اس حملے کا وقت بھی حیران کن ہے کیونکہ یہ ایک ناممکنہ سی بات ہے کہ ایران کو اسرائیل بھارت تعلقات کی سالگرہ کی زیادہ پرواہ ہےاور اس نے اپنے شہیدوں کا بدلہ لینے کے لیےیہ نئی دہلی میں بھارتی سفارتخانے پرایک بے ضرر حملہ کیا ہو۔ بلکہ اگر وقت کی بات کی جائے تو یہ وقت بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار میں آنے سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔  کیونکہ اس سال کے آغاز سے ہی ایران اور امریکہ خفیہ طور پر بات چیت کا آغاز کر چکے ہیں اور اس بات چیت کا محور ایران ایٹمی معاہدے کی تجدید تھا۔ اور اس حوالے سے اگر بات آگے بڑھتی ہے تو ایران پر ٹرمپ دور حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اور ایسے ممالک کو دھمکیاں ملن بھی بند ہو جائیں  گی جو ایران کے قدرتی وسائل کی خرید میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بھارت اپنی توانائی کی بڑی ضروریات ایران کے زمینی ذخائر سے پوری کرتا تھا تاہم بعد میں امریکی دباو پر بھارت نے یہ ضروریات امریکہ اور عرب ممالک سے پورا کرنا شروع کر دیں۔ اگر امریکہ ایران تعلقات بہتر ہو جاتے ہیں تق بھارت واپس اپنا رخ ایران کی طرف موڑ لے گا تاہم گزشتہ ہفتے کی طرح کے حملوں سے یہ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ شبہ قوی ہے کہ ایران کو معاملے میں بلا وجہ ملوث کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔  تاہم اس طرح کے منصوبہ کی کامیابی قریبا ناممکن ہی ہوتی ہے۔ بھارت کو اگر ایران پر کوئی شک بھی تھا تو اس طرح عوام کے سامنے ایران پر الزام لگانے کی ضرورت نہیں تھی اور اس طرح کا شبہ یقینا مضبوط بنیادوں کی بجائے اپنے ایران مخالف حلیفوں امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے ہی ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بھارت پاکستان اور ترکی کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ ایران کے ساتھ ان دونوں ممالک کے بہتر ہوتے تعلقات پر بھی اسے تشویش ہے اور اسی وجہ سے بھارت نے ایران کو شبے کی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا ہو۔

اور پھر ایران کو اس میں ملوث کرنے کے لیے تمام تر حقائق پہلے سے ہی قائم کر لیے گئے ہوں گے۔ اسی وجہ سے نئی دہلی نے فورا ہی ان ایرانیوں سے تفتیش کرنے کا منصوبہ بنایا جو حال ہی میں ایران سے بھارت آئے تھے اس طرح بھارت نے امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے کے علاوہ ایران کو بھی ایک طرح سے اپنی ناراضی کا پیغام بھیجا ہے۔ اس دھماکے کی تفتیش میں موساد کی موجودگی سے یہ بات تو واضح ہے اس تحقیقات کے نتائج کیا ہوں گے اور کس طرح ایران کو اس میں ملوث کرنا ہے ۔ جھوٹے حقائق تیار کیے جا چکے ہوں گے اور عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی ہوچکی ہوگی اور اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اس میں اسرائیل کا ساتھ کس قدر دیتا ہے۔ امید ہے کہ بائیڈن انتظامیہ تھوڑے عقل کے ناخن لے گی اور اس طرح کے جھوٹے اور تیار شدہ منصوبہ پر زیادہ توجہ نہیں دے گی۔

بدھ، 3 جنوری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے