سینیٹ اجلاس میں تعلیمی اداروں میں عربی زبان کی لازمی تعلیم کا بل منظور کر لیا گیا۔ یہ بل مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ پہلی سے پانچویں جماعت تک عربی پڑھائی جائے، اور چھٹی سےگیارہویں جماعت تک عربی گرامر پڑھائی جائے۔ مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف نے مشترکہ طور پر اس بل کی حمایت کی جبکہ اس بل کی مخالفت میں صرف رضا ربانی سامنے آئے جن کا کہنا تھا کہ ا ہم سب مسلمان ہیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، ریاست پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ متنوع ثقافتوں کو ختم کیا جائے، لیکن تاریخ اور کلچر مصنوعی طریقے سے ختم نہیں کی جا سکتیں، یہ بل علاقائی زبانوں کو متاثر کرتا ہے۔اس بل کے علاوہ گزشتہ برس گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بھی پنجاب بھر کی جامعات میں طلبہ کے لیے ترجمے اور معنی کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دی تھی۔ گورنر ہاؤس پنجاب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اچھا ڈاکٹر، انجینئر، سائنسان یا اچھا عالم بننے کے لیے اچھا انسان بننا ضروری ہےاور اچھا انسان اس وقت بن سکتا ہے جب اچھی چیزیں سیکھی جائیں۔

یہ تمام باتیں بالکل درست ہیں کہ بحیثیت مسلمان ہمیں اس زبان پر ضرور عبور ہونا چاہیے جس میں الہامی پیغام ہم تک پہنچا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اراکین اسمبلی کا مقصد صرف اس قوم کو اچھا مسلمان بنانا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اراکین اسمبلی خود بھی ان باتوں پر عمل کرتے ہیں؟ یقینا ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے اراکین اسمبلی اور گورنر صاحب دوسروں کو تو اچھا مسلمان بنانے پر زور دیتے ہیں مگر خود اچھا مسلمان بننے کی کوشش نہیں کرتے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے 75 فیصد اراکین پارلیمنٹ بد عنوان، جھوٹے اور  غریب عوام کا استحصال کرنے والے ہیں۔ اگر پاکستانیوں کو اچھا مسلمان بنانا مطلوب ہے تواس کے لیے اولین قدم یہی ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے صاحبان اپنی اداؤں پر غور کر لیں۔ مگر وہ ہرگز ایسا نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان میں ہر کسی کی یہی کوشش ہے کہ دوسرا اچھا مسلمان بن جائے مگر وہ خود نہ بنے۔

یہاں ایک المیہ یہ بھی ہوگا کہ اس بل کو سرکاری سکولوں میں نافذ کیا جائے گا کیونکہ پارلیمنٹ میں بیٹھے برہمنوں کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ شودروں کے بچوں کو اچھا پاکستانی اور اچھا مسلمان بنائیں اور ان کے بچے جن اعلی تعلیم یافتہ اداروں میں پڑھتے ہیں وہاں اس طرح کی چیزوں کی ہرگز ضرورت نہیں کیونکہ ان برہمنوں کے بچوں کو اچھا پاکستان اور اچھا مسلمان بننے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ نہ تو انہیں اسلام سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی اس وطن سے ۔ ہاں یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ آخر اس قوم کے بچے کتنی زبانیں پڑھیں گے؟ کیا وہبیک وقت چار چار زبانیں پڑھیں گے؟ ان میں تین زبانوں کے پرچے کیسے دیں گے؟ تعلیمی نظام اور معیار کو پرکھا جائے تو چیخوں کی گونج روح تک سنائی دے گی۔ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ مذہب کی تعلیم کی آسان سمجھ بوجھ تو اردو یا کسی دوسری زباں میں بھی ممکن ہو سکتی ہے اور جو کہ ہوتی بھی ہے، اس کے باوجود بھی مذہب کی سمجھ کا جو حال ہے وہ واضح طور پر دکھتا ہے۔ بدقسمتی سے مذہب کو اس کے علمبرداروں نے گھر کی کھیتی اور کرکٹ کی بال ہی سمجھ رکھا ہے، اپنی سکت کے مطابق من چاہے موسم میں اپنے پسند کی فصل بو دیں یا فری ہٹ پر جتنے مرضی چھکے چوکے لگائیں کوئی امپائر نہیں جو سوال کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہو۔

اس وقت پاکستانی تعلیم کی جو حالت ہے وہ کسی کو بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ بیرون ممالک سے فنڈ لے کر اس قوم پر انگریزی کو مسلط کیا اور اس وقت تک یہ قوم صرف اسی میں الجھی ہوئی کہ تعلیم کا ذریعہ انگریزی ہو کہ اردو اور معاملہ کوے اور ہنس کی چال والا ہوچکا ہے اور ایسے میں ایک اور زبان کا اضافہ اس ملک کی تعلیمی زبوں حالی کو اس جگہ پہنچا دے گا جہاں ہمارے پاس چوں چوں کے مربے ہی نکلیں گے جو نہ تین میں ہوں اور نہ تیرہ میں۔ تعلیمی نظام میں ایک عدد نئی زباں کا مسلط کیے جانا علمی قابلیت کا عقیدت کے نام پر اندھا قتل ہے۔ ہم سالوں لگا کر انگریزی سیکھتے ہیں مگر سی ایس ایس کے انگریزی مضمون میں دو نمبروں سے پھر بھی رہ جاتے ہیں۔ انگریزی پھر دنیا میں بولے اور سمجھے جانی والی زباں ہے جو کچھ فائدہ دیتی ہے، عربوں نے ایسے قابلیت کے مینار بلند نہیں کیے جو ہم پر لازم ہو چکا سیکھنا۔ جس نے عقیدت میں ایماں افروزی کی منازل طے کرنی ہوں وہ پنجابی اور سندھی میں اشعار کہہ کر لاکھوں بت پرستوں کو وحدانیت سکھا سکتا ہے اور جس کے سینے پر مہر ہو وہ روانی سے عربی بولتے ہوئے بھی بھوکے یمنی اطفال پر بمباری کرواتا ہے۔

اس ملک کا شروع سے ہی یہ المیہ رہا ہے کہ اس کے حکمرانوں نے اپنی لوٹ مار، کرپشن ، بدعنوانیوں اور مظالم کو کبھی مذہب کے لبادے میں چھپایا ہے اور کبھی وطنیت کے پیرہن میں۔ اور اگر دیکھا جائے تو اس استحصال شدہ قوم کو مذہب کے نام پر اس قدر دبا دیا گیا ہے کہ یہ حکمران طبقہ کی جانب سے ہر ظلم کو حکم ربی سمجھ کر قناعت کرتی ہے بلکہ اس کو اس سب کو حکم ربی سمجھ کر سہنے کا درس بار بار اس کے کانوں میں انڈیلا جاتا ہے۔ اس وقت بھی ملک کی یہی صورتحال ہے لوگ غربت اور بھوک کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں، اپنے بچوں کو نہروں میں پھینک رہے ہیں اور اپنے معصوم بچوں کے گلے صرف اس وجہ سے کاٹ رہے ہیں ان کے پیٹ میں ڈالنے کے لیے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ جاوید عباسی صاحب اگر اس قوم پر احسان کر کے یہ بل لے آتے کہ آج سے اراکین اسمبلی اپنے اپنے بنگلے ، محل اور بڑی بڑی گاڑیاں بیچ کر یہ پیسے اس ملک کے مقہورو لاچار اور غربت سے پسے عوام کی بہتری پر خرچ کریں گے تو اللہ سے سامنے سرخرو ہوجاتے۔

بدھ، 3 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے