اس وقت پورا پاکستان اپنے قومی ہیرو اور مشہور کوہ پیما علی سد پارہ کی زندگی کے لیے دعا گو ہے۔دنیا کے اس دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں فتح کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کا رابطہ جمعہ کے روز سے بیس کیمپ، ٹیم اور اہل خانہ سے منقطع ہوا اور سنیچر کی شب دو روز کے تلاش اور بچاؤ کے آپریشن میں کامیابی نہ ملنے کے بعد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کہا ہے کہ اب اس کارروائی کو ان کے والد کی لاش کی تلاش کے آپریشن میں تبدیل کر کے جاری رکھنا چاہیے۔

شیر خان جو ایک سابق کوہ پیما ہیں اور اٹلی کے کوہ پیما رینہولڈ میسنر کے ساتھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ لاپتہ ہوگئے ہیں تو سمجھ لو وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔دیکھنا ہے کہ آخر دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی میں ایسا کیا ہے کہ ہرچار میں سے ایک کوہ پیما زندہ واپس نہیں آتا۔

اس کو کے ٹوکیوں کہتے ہیں؟

1856 میں برطانوی سروے برائے انڈیا کے پہلے سروے میں اسے کے ٹو کا نام دیا گیا کیونکہ یہ قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع تھی جو کہ پاک چین سرحد کے ساتھ ہمالیہ رینج کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس سروے کے دوران ہر پہاڑ کو "کےنمبر” دیا گیا۔ پہاڑوں کی بلندی کی پیمائش کے بعد ان کو کے ون ، کے ٹو، کے تھری اور اسی طرح سیریز میں نمبر دیئے گئے۔۔بعد میں اسی سروے ٹیم نے مقامی افراد سے پوچھا کہ یہاں پر موجود پہاڑوں کو کس نام سے بلایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ان پہاڑوں کے لیے گشربرم یا کنجوت سر کا نام استعمال کرتے ہیں ۔ تاہم اس وقت تک کےٹو کا پہاڑ دریافت نہیں ہوا تھا اس لیے اس کا کوئی مقامی نام نہ تھا۔ پس اس کا نام کے ٹو ہی پڑ گیا۔

یہ قاتل پہاڑ کیوں مشہور ہے؟

امریکی کوہ پیما جارج بیل کے ٹو کو وحشی پہاڑ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ یہ پہاڑ آپ کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ 1953 میں اس پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں جارج بیل اپنے پاوں برف میں جلنے کی وجہ سے کھو بیٹھے تھے۔ کے ٹو کی ڈھلوانیں اس قدر خطرناک ہیں اور اس کی چٹانیں اس قدر سیدھی ہیں کہ دنیا کے تجربہ کار کوہ پیما بھی ایک لمحے کے لیے پریشان ہوجاتے ہیں۔ اس پہاڑ کو سرکرنے کی خواہش میں اب تک 70 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ان میں سے اکثریت باٹل نیک کے مقام پر جا کر جان کی بازی ہار گئے ۔ باٹل نیک وہ مقام ہے جہاں ایک غلط قدم کا مطلب پہاڑ کے جنوبی حصے میں جا پہنچنا ہے جہاں سے ان کی واپسی پھر کبھی نہیں ہوسکتی۔

کےٹو مختلف عناصر کی وجہ سے مہلک ہے ۔ یہ پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ سے 800 میٹر کم بلند ہے تاہم اس کی چوٹیاں ایورسٹ کی نسبت زیادہ خطرناک ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرتے ہوئے آپ دیکھتے ہیں کہ اس کی چٹانیں ہموار ہیں  جبکہ کے ٹو کی شاید ہی کوئی چٹان ہموار اور چپٹی ہو۔ کے ٹو کو شولڈر جو کہ 24000 فیٹ بلندی پر ہے وہ واحد مقام ہے جو ہموار ہےمگر اس مقام پر بھی ہر وقت چٹانوں کے ٹکڑے اور برفادی تودے گرنے کا خدشہ موجود رہتا ہے ۔25000 فٹ سے اوپر کا تمام حصہ موت کا زون کہلاتا ہے جہاں آکسیجن کا دباؤ اس قدر کم ہوجاتا ہے کہ زندہ رہنا مشکل ہوجاتا ہےجبکہ کے ٹو کا موسم انتہائی خطرناک اور غیر متوقع ہے۔

موسم سرما میں کے ٹو کو سر کرنا کیوں مشکل ہے؟

کے ٹو کو سر کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے اور خاص کر موسم سرما میں یہ انتہائی مشکل ہے۔ موسم سرم میں کے ٹو کو سر کرنے کی کوششیں اس سال سے قبل پانچ مرتبہ پہلے ہوچکی ہیں۔ موسم سرما میں کوہ پیماؤں کے لیے سب سے بڑا چیلنج شدید ٹھنڈ ہے کیوں کہ پہاڑ کا درجہ حرارت منفی 65 ڈگری تک گر جاتا ہے۔ اس شدید ٹھنڈ میں معمولی غلطی کا بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کا دستانہ گر جائے تو سجمھیں کہ آپ فراست بائٹ کا شکار ہوگئے یا اگر غلطی سے برف کے ساتھ آپ کی جلد مس ہوجائے تو وہ سمجھو کہ جلد کی وہ تہہ ختم ہوگئی۔ یہ ان بہت سارے مسائل میں سے چند ایک ہیں جن کی وجہ سے کوہ پیما موسم سرما میں کے ٹو کو سر کرنے سے خوف کھاتے ہیں۔ تاہم ان سب خطرناکیوں میں سب سے خطرناک چیز تیزہوا ہے اور موسم سرما اور گرما میں یہی بنیادی فرق ہے۔ موسم سرما میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں ہمالیہ کی نسبت تیز ہوائیں چلتی ہیں ۔ یہ ہوائیں طوفانوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور کوہ پیماؤں کو پلک جھپکتے اڑا کر گہری کھائیوں میں پھینک سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کو کے ٹو کی نسبت موسم سرما بیس سال قبل ہی  سر کیا جاچکا تھا۔

ایک اور پہلو جو کے ٹو موسم سرما میں مشکل بناتا ہے وہ پہاڑ پر برف کی غیر موجودگی ہے ۔ تیز ہوائیں برف کو پہاڑ پر سے اکھاڑ پھینکتی ہیں جس کے نتیجے میں ننگی چٹانیں اور کھردری برف پیچھے رہ جاتی ہے جس سے کوہ پیماؤں کو اوپر چڑھنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موسم سرما میں ہوا کا دباؤ بھی بہت کم ہوجاتا ہے جس سے آکسیجن کی شدید کمی واقع ہوجاتی ہے جبکہ موسم گرما میں اس طرح کی صورتحال درپیش نہیں ہوتی۔

کے ٹو کی مہلک باٹل نیک کیا ہے؟

سطح سمندر سے 8611 میٹر کی بلندی پر واقع کے ٹو کا ’بوٹل نیک‘ کے نام سے مشہور مقام تقریباً 8000 میٹر سے شروع ہوتا ہے اور کوہ پیماؤں کی اصطلاح میں اسے ’ڈیتھ زون‘ یا موت کی گھاٹی کہا جاتا ہے جہاں بقا کے چیلنجوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ڈیتھ زون میں جہاں ایک غلط قدم کا مطلب سیدھا ہزاروں فٹ گہری کھائی یا گلیشیر میں گر کر موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے وہیں اس اونچائی پر آکسیجن کی مزید کمی سے سنگین اثرات رونما ہوتے ہیں اور انسانی دماغ کا جسم پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے اور جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کے ٹو پر ہونے والی 14 میں سے 13 اموات باٹل نیک کے علاقے میں ہی ہوتی ہیں۔

بدھ، 10 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqnacom

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے