اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جہاں ایک طرف دنیا کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے اور ایک اندازے کے مطابق قریبا بیس لاکھ افراد اس وبا  میں لقمہ اجل بن گئے ہیں وہیں دوسری طرف بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش اس عظیم تباہی کو اپنے سٹریٹیجک مفارات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے دفتر کے سربراہ ولادی میر ورونکو نے دنیا کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس قسم کی دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لیے ہشیار رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر چہ داعش نے ابھی اس وبا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بامقصد پالیسی نہیں اپنائی تاہم اس نے اپنے جنگجوؤں کو متحد کرنے کی کوششوں میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔

اس ضمن میں بالخصوص عراق اور شام میں داعش نے دہشت گرد سرگرمیوں کو بحال کرنے اور ان کا نئے سرے سے آغاز کرنے کے حوالسے سے داعش نے دوبارہ اہلیت حاصل کر لی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ وبا کی وجہ سے لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اس کے سیاس اثرات بھی کچھ کم نہیں ہیں اور ان حالات نے لوگوں کو ذہنی طور پر انتہا پسند بنادیا ہے جس سے داعش فائدہ اٹھا کر ہزاروں افراد کو ریکروٹ کر سکتی ہے ۔ انسداد دہشت گردی کے سربراہ ورونکو نے مزید کہا کہ عراق میں ایک اندازے کے مطابق دس ہزار داعشی جنگجو عراق پر دہشت گر حملوں کے لیے تیار ہیں اور دنیا ایک مرتبہ پھر ایک بڑے خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش نے خود کو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے جن میں سے بعض صحراوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض دیہی علاقوں میں اور وہاں سے یہ شام اور عراق کے بارڈرز کے کراس کر کے ان دونوں ممالک کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ داعش کو زمینی شکست کے دوسال بعد بھی 27،500 غیر ملکی بچے شام اور 8000 بچے عراقی کمپوں میں شدید خطرے کا شکار ہیں۔  داعش اور اس سے جڑے ہوئے گروہوں نے گزشتہ سال مغربی افریقی پر ددہشت گرد حملے کیے تھے اور یہ دہشت گرد گروپ وسطی افریقہ میں دوبارہ طاقت پکڑنا شروع ہوگیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں 2000 کے قریب داعش کے رکن موجود ہیں۔

ورونکو نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت نوجوان جس قدر انتہا پسندی کے خطرے کا شکار تھے اس سے قبل کبھی نہیں تھے ۔ وبا کی وجہ سے گھر اور انٹرنیٹ پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے وہ انتہا پسندی کے لیے ترنوالہ بن گئے ہیں اور ان پر اثر انداز ہونا آسان ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آنے والے سالوں میں داعش اس قابل ہوسکتی ہے کہ وہ دوبارہ حملوں کے قابل ہوجائے۔ اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل کونزی کا کہنا ہے کرونا کی وجہ سے ممالک نے اپنے ذرائع کا رخ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جگہ توانائی کی طرف موڑ دیا ہے۔

2020 میں ترکی نے داعش کو کیسےقابو کیا

ترکی نے 2020 میں داعش کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ۔ ترکی کی سیکورٹی فورسز نے اپنے ملک اور اپنے ملک سے ملحقہ سرحدوں پر داعش کے خلاف طاقتور اور کامیاب آپریشن کر کے اس کو سخت نقصان پہنچایا۔ ان میں سب سے زیادہ آپریشنزدارالحکومت انقرہ اور استنبول میں کیے گئے جب کہ دیگر بڑے شہروں میں بھی داعش کے خلاف کامیاب آپریشن کیے گئے۔ ترکی کی سیکورٹی فورسز نے 2،343 مشکوک افراد کو حراست میں لے رکھا ہے جں میں داعش کے کئی سینیر رہنما بھی شامل ہیں جن کے قبضے سے اہم دستاویزات اور بھاری اسلحہ برآمد ہوا ہے۔  ان افراد میں سے 333 کو حراست میں رکھا گیا ہے کہ جب کہ دیگر کو ملک بدر کر دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ افراد کے خلاف مقدموں کی سماعت جاری ہے۔ ترکی کی عدالتوں نے بہت سارے افراد کو سزائیں بھی سنائی ہیں۔

جمعتہ المبارک، 12 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے