اقوام متحدہ کی ایجنسی یونیسیف نےاپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگ زدہ یمن میں پانچ سال سے کم عمر کے چار لاکھ بچے خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں اور موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔  گزشتہ جمعہ کے روز شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان چار لاکھ بچوں میں نصف یعنی 3۔2 ملین بچے ایسے ہیں  جو خوراک کی اس کمی کا اولین شکار ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ انہیں ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے چیف ڈیوڈ بیسلے نے کہا ہے کہ یہ تعداد دنیا کی آنکھیں اور ضمیر کھولنے کی ایک اور چھوٹی سے کوشش ہے جہاں خوراک کی کمی کا شکار بچے کا مطلب صرف ایک بچہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس بچے کا پورا خاندان خوراک کے حصول کے لیے جدو جہد کر رہا ہے ۔ 2020 کے بعد خوراک کی کمی کے شکار بچوں کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ چکی ہے یعنی صرف ایک سال میں اس میں 22 فیصد اضافہ ہواہے جس سے یمن میں قحط کی صورتحال کا درست انداز میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے بچگان یونیسیف کی سربراہ ہینریٹا فور کا کہنا ہے کہ اگر دنیا اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کرتی تو مرنے والے بچوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس لیے انسانی حقوق کی تنظیموں کو فوری طور پر مدد کے ذرائع اور بغیر رکاوٹ کے یمن میں روابط کی ضرورت ہے تاکہ لاتعداد زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔ اس وقت یمن کو بلا رکاوٹ امداد کی اشد ضرورت ہے اور اس حوالے سے دنیا کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی سیاسی، مالی اور اخلاقی مدد کی ضرورت ہے۔ یونیسف کے ایک کھلے سے اندازے کے مطابق اس وقت یمن کے 12 ملین بچوں کو کسی نہ کسی شکل میں امداد کی ضرورت ہے۔ اس امداد میں خوراک، صحت کی سہولیات، صافس پانی، سکولوں میں داخلہ، اور انتہائی غریب خاندانوں کی نقد امداد شامل ہے۔

یمن بحران 

اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ 2۔1 ملین حاملہ اور دودھ پلانے والے خواتین 2021 تک خوراک کی قلت کا شکار ہوسکتی ہیں جس کے تمام تر اثرات نومولود بچوں پر ہوں گے اور وہ پیدائشی طور پر مختلف بیماریوں کا شکارو ہوں گے۔ بیسلے کا کہنا تھا کہ یمن کا بحران مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے جن میں جنگ، معاشی بحران، خوراک کی کمی اور فنڈز کی کمی شامل ہیں۔ تاہم خورا کی قلت اور بھوک کا حال ہے اور یہ حال خوراک اورتشدد کا خاتمہ ہے۔

قحط کے دہانے پر

آج لاکھوں یمنی قحط کے دہانے پر ہیں ۔ یمن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے ، سکول اور ہسپتال کام کرنا بند کر چکے ہیں اور لاکھوں افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک تین ملین سے زائد لوگ بے گھرہوچکے ہیں اور 29 ملین آبادی کے 80 فیصد حسے کو بقا کے لیے کسی نہ کسی شکل میں امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس انہیں یمن کے لیے 2۔3 بلین امداد کی ضرورت تھی تاہم انہیں صرف 43۔1 بلین امداد کی مد میں مل سکے جس سے یمن کی ضروریات آدھی بھی پوری نہیں ہوپائیں۔

یمن چھ سالوں سے قتل عام، تباہی، اورانسانی آفات میں ڈوبا ہوا ہے. 2014 میں حوثی انصاراللہ نے قبضہ کر لیاتھاجس کے بعد سعودی عرب اور یمن نے ملک میں اپنی افواج اتار دی تھیں اور ملک میں جنگھ چھڑ گئی تھی۔ سعودی عرب منصورہادی کی حمایت یافتہ افواج کی مدد کے لیے جنگ میں کودا اور اس کی وحشیانہ بمباری سے نہ تو ہسپتال محفوظ رہے اورنہ ہی سکول۔ سعودی عروعرب نے نہ صرف ملک پرو وحشیانہ بمباری کی بلکہ اس نے یمن کا محاصرہ بھی کیے رکھا جس سے ملک میں نہ تو ادویات پہنچ سکیں اور نہ ہی خوراک جس سے لاکھوں یمنی بچے اورافراد دم توڑ گئے۔  گزشتہ ہفتے نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ وہ یمن جنگ میں سعودی حمایت سے ہاتھ واپس کھینچ لیں گے جس سے امید پیداہوئی ہے کہ یمن کے معاملت میں بہتری آئے گی۔

مزید برآں نئے امریکی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حوثی انصار اللہ کو ہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کو بھی واپس کر دیا ہے ۔ یمن میں کام کرنے والی امدادی تنظیموں نے جو بائیڈن کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ کیونکہ حوتی کو دہشت گرد قرار دینے سے یمن کو خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کی ترسیل میں مشکلات پیش آ سکتی تھیں۔واضح رہے کہ خوراک کی قلت کا شکار بچے بیماریوں کا آسان شکار ثابت ہوتے ہیں تاہم ایک آسان بین الاقوامی مداخلت سے ان بچوں کی زندگی کو بچایا جاسکتا ہے۔

اتوار، 14 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے