امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی سینیٹ میں درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ختم کردی گئی اور انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اپنے حامیوں کو اکسانے اور کانگریس کی عمارت پر حملے سے متعلق مواخذے کی کارروائی پر ووٹنگ ہوئی جس میں 7 ریپبلکن سینیٹرز سمیت 57 ارکان نے ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔ سابق صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کی مخالفت میں 43 ووٹ پڑے، گو عددی اکثریت نے مواخذے کی حمایت کی تاہم آئینی طور پر مواخذے کی کارروائی کے لیے دو تہائی اکثریت ہونا لازمی ہوتی ہے جو حاصل نہ ہو پائی۔ امریکی دارالحکومت میں 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے دھاوا بولا۔ اس حملے سے کچھ دیر پہلے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک پارک میں ٹرمپ نے ان انتہا پسندوں سے خطاب کیا تھا جس کے بعد کیپٹل ہل کی جانب مارچ شروع ہوا۔ اس خطاب میں ٹرمپ نے انتخابی نتائج رکوانے کے لیے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کی تقریر کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے ذرا پہلے شروع ہوئی اور اس کا مقصد کانگریس پر دباؤ ڈال کر اسے الیکٹورل کالج ووٹوں کی گنتی سے باز رکھنا یا ووٹ مسترد کرانا تھا۔

ٹرمپ تقریر کرکے خود تو روانہ ہوگئے اور پراؤڈ بوائز سمیت سفید فام بالادستی کے حامی جتھوں نے کیپٹل ہل کا رخ کیا جہاں کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹورل کالج ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوچکا تھا اور ٹرمپ کے کٹر حامی ارکان نے ریاست ایریزونا کے الیکٹورل کالج ووٹوں پر اعتراض داخل کرکے بحث شروع کردی تھی۔ انتہا پسند جتھوں کا مارچ روکنے کے لیے واشنگٹن پولیس کی طرف سے زیادہ مزاحمت نظر نہ آئی اور انتہاپسند جتھوں کے لیڈروں نے ایوانوں کے دروازے توڑ ڈالے، جبکہ پولیس اہلکاروں کو الگ الگ کرکے گھیرا اور انہیں بھگاتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں اور دفاتر کے اندر کا رخ کیا، جہاں کیپٹل ہل کی سیڑھیوں، دیواروں اور راہداریوں کے مناظر دہشت زدہ کردینے والے تھے، جنہیں دیکھ کر دنیا کی قدیم ترین جمہوریت زمین بوس ہوتی نظر آتی تھی۔

سینیٹ میں ایک بار پھر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کرنے سے انکار کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر بن گئے ہیں جنہیں دو بار مواخذہ کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں بار ہی ایوان نمائیندگان میں مواخذہ کے بعد سینیٹ میں ری پبلیکن پارٹی کی اکثریت کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔ تاہم فروری 2020 میں سینیٹ کی اکثریت یعنی 52 سینیٹرز نے مواخذہ کی مخالفت کی تھی۔ ایک کے سوا سب ری پبلیکن سینیٹرز نے ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ اس طرح ایک تو سینیٹ بڑی حد تک پارٹی لائن پر تقسیم دکھائی دی تھی، دوسرے کم از کم سینیٹرز کی اکثریت نے مواخذہ نہ کرنےکی حمایت کی تھی۔ اس بار یہ صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ گو کہ ری پبلیکن پارٹی میں بڑی تقسیم دیکھنے میں نہیں آئی لیکن ایوان نمائیندگان میں دس اور سینیٹ میں سات ری پبلیکنز کا اپنی ہی پارٹی کے سابق صدر کے خلاف ووٹ دینا امریکی سیاست میں ایک عجوبہ سمجھا جارہا ہے۔ اس سے پہلے کبھی کسی مواخذہ کی کارروائی میں اتنی بڑی تعداد میں پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دینے مثال موجود نہیں ہے۔

سابق صدر کو بری کرنے والے سینیٹرز اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ ٹرمپ 6 جنوری کی اشتعال انگیز کارروائی کا باعث بنے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سینیٹ کو آئینی طور سےکسی سابق صدر کا مواخذہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ سینیٹ میں اقلیتی لیڈر مچ میکانل نے ووٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسی دلیل میں پناہ لینے کی کوشش کی اور تسلیم کیا کہ ڈونلڈٹرمپ چھ جنوری کے حملہ کامحرک تھے اور استغاثہ نے کسی شک و شبہ سے بالا اپنا مقدمہ ثابت کیا ہے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ امریکہ کا آئین ہمیں سابق صدر کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب ایک عام شہری ہیں۔ اس لئے ان کے خلاف ان جرائم پر عام قانون کے تحت مقدمہ چلنا چاہئے۔امریکہ میں یہ بحث عروج پر ہے کہ جو بائیڈن کی حکومت کانگرس پر حملہ کروانے کے جرم میں سابق صدر پر مقدمہ قائم کرنے میں کتنی مستعدی سے کام کرتی ہے۔ تاہم صدر جو بائیڈن سابق صدر کو قصور وار سمجھتے ہوئے بھی اس معاملہ میں فریق بننے پر آمادہ نہیں ہیں۔

اقتدار پر قبضے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد اب امریکا کی دونوں بڑی جماعتوں کے لیڈر کھل کر ٹرمپ کی مذمت کر رہے ہیں لیکن ٹرمپ کے 4 سال کے دوران نفرت اور تقسیم کی سیاست کی مذمت کیوں نہ کی گئی؟ ٹرمپ نے جب قانون کی بالادستی کو پامال کیا اور شہری آزادیوں کو یرغمال بنائے رکھا تب ری پبلکن پارٹی کی سینئر قیادت کیوں خاموش رہی؟ اب جبکہ ٹرمپ کی صدارت کے چند روز رہ گئے ہیں تو مسلح افواج کے کمانڈر کو فون کرکے کیوں کہا جا رہا ہے کہ کسی جوہری حملے یا نئی جنگ چھیڑنے کے حکم کو تسلیم نہ کیا جائے اور جوہری کوڈز تک صدر کی رسائی روک دی جائے؟ جب ٹرمپ تشدد، نسل پرستی اور سفید فام بالادستی کو ہوا دے رہے تھے تو اس کے خلاف پورا امریکا ہم آواز کیوں نہ ہوا؟ اور اب جب ٹرمپ کے اس جرم کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی گئی تو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے ٹرمپ کی حمایت کی ہے؟

ٹرمپ کو اس بات کا ہرگز خدشہ نہیں تھا کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ امریکی جمہوریت اپنے گھٹنوں پر آگئی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ٹرمپ میں یہ جراءت ہی نہ ہوتی کہ وہ کیپٹل ہل پر حملہ کرواتے۔ ٹرمپ کو مواخذے میں جس قدر ووٹ ملے ہیں اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بوسیدہ امریکی جمہوریت زمین بوس ہونے کو ہے۔ٹرمپ کا مواخذہ ری پبلکن پارٹی کی ہرگز جیت نہیں ہے کہ بلکہ یہ ری پبلکن پارٹی کی بدترین شکست ہے۔ ری پبلکن پارٹی ٹرمپ کو 25ویں ترمیم کے تحت عہدے سے نااہل قرار دے کر ہٹا سکتی تھی مگر اس نے ایسا نہیں کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں جمہوری اقدار اپنے اختتام کی طرف جارہی ہیں۔ اب جب کہ ٹرمپ کے خلاف مواخذہ بھی ناکام ہوچکا ہے اور پارٹی نے 25ویں ترمیم بھی عمل میں ہیں لائی تو بس اب ایک ہی آپشن ہے کہ کانگریس ٹرمپ کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کرے مگریہ محض ایک قرارداد ہی ہوگی بلکل ایسے ہی جیسے دل میں کسی برائی کو برا جاننا۔

پیر، 15 فروری 2021

شفقا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے