گیارہ ستمبر 2001 میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کی خطی پالیسیوں میں ترجیح نہیں رکھتا۔ واشنگٹن میں موجود تھنک ٹینکس کی جانب سے بائیڈن انتظامیہ کو طالبان سے معاہدہ ختم کر نے کی وارننگ کے باوجود نئی امریکی انتظامیہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں۔اگرچہ بین االافغان بات چیت مزید آگے نہیں بڑھتی تب بھی امریکہ کو اس خطے سے اپنی افواج کو واپس نکالنا ہی ہے۔

جہاں تک واشنگٹن کا تعلق ہے تو یہ بات صاف نظر آ رہی ہے کہ افغانستان میں پاکستان کا کردار نہایت مختصر ہو چکا ہے۔واشنگٹن پاکستان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ طالبان کو افغان حکومت کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کو روکنے اور القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے پر مجبور کرے تاکہ امن کے عمل اور متفقہ طور پر طے اقتدار ا نتقال کے منصوبے کو احسن طریقے سے پروان چڑھایا جا سکے۔ بائیڈن کابینہ ممبران کی جانب سے پاکستان سے متعلق چند بیانات کے بعد افغانستان اور انسداد دہشت گردی کا موضوع ایک مرتبہ پھر شدو مد سے زیر بحث آیا ہے۔ اگرچہ ان ممبران نےبعض فوجی پروگرامز کی بحالی کا اشارہ دیا تھا تاہم بائیڈن انتظامیہ نے معیشت اور تجارت کی بنیاد پر تعلقات کے قیام کے لیے پاکستانی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ پاکستان اس وقت مشکل صورتحال میں گرفتار ہے۔

طالبان جب سے سفارتی سطح پر ابھر کر سامنے آئے ہیں تب سے وہ پاکستان اور امریکی دباؤ  سے کافی حد تک نکل آئے ہیں پاس اگر یہ امن مذاکرات کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو پاکستان کو اس بہت کم کریڈٹ ملے گا اور اگر یہ ناکام ہوتے ہیں تو پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر اس کا تمام تر الزام اس پر عائد کر دیا جائے گا۔ اسی طرح سابقہ صدر اوبامہ کی تجربہ کار ٹیم جو کہ بائیڈن انتظامیہ کا حصہ ہے وہ پاکستان پر بھارت کے حوالے سے دباو ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک کے خلاف بر سر پیکار انتہا پسند عناصر کو قابو میں رکھے جبکہ پاکستان میں بھارت کی دہشت گردی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اس بات کا حالیہ ثبوت مبینہ طور پر امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں ملوث عمر سعید شیخ کی عدالتی رہائی پر سخت امریکی بیانات ہیں اور یہ بیانات امریکہ کے کم و بیش سبھی انتظامی محکموں کی طرف سے دیئے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ مسائل جزو وقتی ہیں تاہم پاکستان اور امریکہ کے مابین کشیدگی کی حالیہ وجہ ہیں۔

اسلام آباد کے موجودہ خدشات

پاکستان کا اولین خدشہ اس کے قریبی حلیف چین اور امریکہ کے مابین مقابلے کی فضا ہے۔ ایشیائی طاقتوں کے ساتھ اپنی پہلی بات چیت میں بائیڈن انتظامیہ نے جاپان، بھارت اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر انڈو پئسیفک خطے میں نیٹو طرز کا اتحاد قائم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اب پاکستان کو اپنی معیشت کو زندہ رکھنے  اوربھارتی افواج کے ساتھ ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلہ کرنے کے لیے چین کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر گزشتہ برس اس وقت سکھ کا سانس لیا جب چین نے اپنی افواج لداخ میں داخل کر دیں جس سے مودی کا آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پر ایک نئے محاذ کھولنے کے منصوبے پر پانی پھر گیا۔ یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب پاکستان چین کی مدد سے اس حصے پر تین بڑے ہائیڈرو پاور پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا جس پر بھارت اپنا دعوی کرتا ہے۔ چین اور پاکستان معاشی راہداری کو بطور سٹریٹیجک پراجیکٹ کے طور پر دیکھتے ہیں نہ کہ محض ایک ترقیاتی پروگرام۔ جس سے بھارت میں موجود ہندتوا ذہنیت کو ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے اور اسی بنا پرہندوتو انتظامیہ  نے منتقمانہ طور پر 2019 میں غیر قانونی طور پر بھارتی مقبوضہ کشمیر کے سٹیٹس کو تبدیل کرتے ہوئے ریاست کا درجہ ختم کر کے اس کو اپنے اندر ضم کرنے کی کوشش کی۔  بھارت کی اس کوشش نے اس کو دوطرفہ خطرات سے لاحق کر دیا ایک پاکستان اور دوسرا چین اس لیے اس وقت بھارت کو مغربی طاقتوں اور کواڈ میں شامل ممالک کی مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ چین کے ساتھ طاقت کا توازن برقراررکھ سکے۔

حیران کن طور پر پاکستان اس حوالے سے مکمل خاموش دکھائی دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ امریکہ اس کو چین کا اتحادی سمجھ کر اپنے قومی مفادات کے لیے خطرہ قرار دے دے۔ اس کے علاوہ خلیج مشرقی ممالک کا اسرائیل کے ساتھ ابراہام معاہدہ بھی پاکستان اور امریکہ تعلقات پر اثرانداز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اسرائیل اور عرب امارات اور اس کے عرب اتحادیوں  کے مابین نام نہاد تعلقات کی بحالی کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو یورپین کمانڈ سے نکال کر مرکزی کمانڈ کے سپرد کر دیاہے  جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اس طرح پاکستان اس وقت سخت مشکل کا شکار ہے کیونکہ اس کو بیک وقت دو دشمن ممالک یعنی اسرائیل بھارت کا مشترکہ طور پر سامنا ہے اس لیے پاکستان اس وقت کواڈ اور ابراہام معاہدے کے مابین سینڈوچ بن کر رہ گیا ہے۔ اس لیے یہ بات تو طے ہے کہ مستقبل میں پاکستان کی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اوبامہ انتظامیہ کی رخصتی کے بعد بائیڈن انتظامہ کے اقتدار میں آنے سے قبل بائیڈن کو ان خدشات سے آگاہ کیا گیا کہ پاکستان اسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ  پاکستان نے حال ہی میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے بیلسٹک میزائل شاہین 3 کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس کی رینج اسرائیل تک ہے۔  تاہم پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ وہ لداخ اور کشمیر پر بھارت سے بات چیت کرنے پر تیار ہیں ۔ موجودہ صورتحال میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حالیہ تناظر میں پاکستان کا یہ فیصلہ مستحسن اور دانشمندانہ تھا۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے بین الاقوامی، معاشی اور پالیسی مقاصد نہ تو یبجنگ کے ساتھ منطبق ہیں اور نہ ہی بیجنگ اس حوالے سے پاکستان کی رہنمائی کر رہا ہے۔

اب یہ بائیڈن انتظامیہ پر ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس انداز میں آگے بڑھاتی ہے ۔ کیا نئی امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ سیاسی طور پر معاملات حل کرنے پر تیار ہے یا نہیں؟ اس کا جواب تو مستقبل میں امریکی پالیسیاں ہی دے سکتی ہیں۔ پاکستان کے پاس نہ تو بائیڈن انتظامیہ میں کوئی دوست ہے اور نہ ہی کپیٹل ہل میں کوئی سیاسی سرمایہ کاری۔ تاہم پاکستان بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات کے مطابق ہی اپنے مستقبل کے فیصلے لے گا۔ اس وقت پاکستان وقت حاصل کرنے کے صرف بیانات پر گزارا کر رہاے ہے تاہم پاکستان کو موجودہ صورتحال میں بہت مختلف فیصلے لینے ہوں گے۔

منگل ، 16 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے