تقریبا دو ہفتے قبل چین سے پاکستان کے لیے کرونا کی پہلی کھیپ پہنچ گئی ہے۔ چین کی طرف سے پاکستان کے لیے  ’سائنوفام ویکسین کا پہلا بیچ تھا۔چین کی سرکاری دوا ساز کپمنی کی تیارکردہ ویکسین سائنو فارم کی پانچ لاکھ خوراکیں چین کی جانب سے پاکستان کو عطیہ کی گئی ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملک میں ویکسین کے انتظام اور ترسیل کے لیے جامع حکمت عملی اور اقدامات کو پہلے ہی حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ اس ویکسین کی تقسیم جو طریقہ کار طے کیا گیا تھا اس کے مطابقپہلے مرحلے میں صحت کے عملے کو ویکسین لگائی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں ساٹھ سال یا اس سے بڑی عمر کے افراد کو یہ ویکسین لگائی جائے گی۔ ویکسین کی فراہمی کے قومی ادارے (ای پی آئی) کے حکام کا کہنا ہے کہ 60 سال اور اسے بڑی عمر کے افراد کا ڈیٹا شہریوں کی رجسٹریشن کے قومی ادارے نادرا سے حاصل کر لیا گیا ہے۔تیسرے مرحلے میں اٹھارہ سال اور اس سے بڑی عمر کے افراد کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر افراد کو ویکسین نہیں لگائی جائے گی۔

چین کی جانب سے فراہم کردہ ویکسین کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کے ادارے کوویکس کے تحت برطانیہ بھی پاکستان کو آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹرازینیکا کی تیار کردہ کورونا ویکسین کی ایک کروڑ 70 لاکھ خوراکیں فراہم کرے گا جس کی پہلی کھیپ 7 اپریل کو ملنے کی توقع ہے۔  برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے کورونا کو جلد سے جلد ختم کرنے کے لئے اقوام  متحدہ کو 1.3 بلین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے جب کہ پاکستان کو وبائی امراض سے لڑنے میں مدد کے لیے 20 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔ ان دو اداروں کی جانب سے ویکسین کی فراہمی کے علاوہ پاکستان نے نجی شعبے  (پرائیویٹ کمپنیوں) کو کرونا وائرس کی ویکسین کی خریداری اور ملک میں درآمد کی اجازت دے دی ہے۔  تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی قیمت متعین نہیں کی ہے بلکہ نجی دوا ساز کمپنیاں اس حوالے سے اپنی من مانی قیمت وصول کر سکیں گی اور اس فیصلے سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ  جو لوگ اخراجات برداشت کر سکتے ہیں وہ سرکاری سطح پر ویکسین متعارف کروائے جانے سے قبل ویکسین خرید سکیں گے۔

اس ویکسین کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی یہ خدشات سر اٹھا رہے تھے کہ اس طبقے کا سب سے پہلے فائدہ طبقہ اشرافیہ اٹھائے گا جو پاکستان پر پوری طرح قابض ہے اور پاکستان کے وی آئی پی کلچر کی تاریخ کو دیکھ کر یہ بات یقینی تھی کہ ایسا ہی ہوگا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ چند روز قبل وزرات صحت سندھ نے کراچی کے ضلع شرقی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کی ایک اہلکار کو کوورونا ویکسین سے متعلق ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں معطل کردیا ہے۔ ان کی معطلی کا فیصلہ سوشل میڈیا پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی بیٹی اور داماد کو کووڈ-19 ویکسین لگائے جانے کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد کیا گیا۔ اگر یہ خبر باہر نہ آتی تو یقینا اس بات کا ادراک ہونا مشکل ہوجاتا کہ اس ویکسین کی تقسیم کے حوالے سے اس ملک کے غریب عوام کے ذہنوں میں جو کچھ ہے وہ ویسا ہی ہے جیسا وہ سوچ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی بیٹی اور داماد نے تو طبی اہلکار تھے اور نہ ہی عمر رسیدہ افراد تو انہیں یہ ویکسین کیسے لگائی گئی۔

یہ بات بھی زیادہ پرانی نہیں ہے کہ یاد کریں کووڈ کے آعاز پر آنے والی پی پی ایز (حفاظتی کٹس) بھی طبح اہلکاروں کے بجائے انہی خاندانوں اور ان کے بچوں میں تقسیم کی گئیں۔ اس کے بعد ٹیسٹوں کی تمام کٹس بھی اسی اشرافیہ میں استمعال کی گئیں۔‘واضح رہے کہ  اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وباء کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہزار سے زائد ہے، جو یقینا سراسر جھوٹ ہے۔ اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ویکسین کی عدم موجودگی میں مزیدہزاروں جانوں کے ضیاع کا خطرہ موجود ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ ایک شخص کو کم از کم دو بار ویکسین لگوانی پڑے گی وہ بھی 21 دنوں کے وقفے کے بعد (فائزر اور بائیو این ٹیک کا تجویز کردہ)۔ اس بات کا خطرہ بھی موجود ہے کہ اگر پہلی بار ویکسین لگوانے کے بعد 21 دنوں سے زیادہ عرصے کے بعد دوسری ویکسین لگوائی گئی یا پھر دوسری ویکسین لگوائی ہی نہ گئی تو اس عرصے میں وائرس اپنی شکل بھی تبدیل کر سکتا، جو بہت ہی خطرناک ہوگا۔ یاد رہے کہ کم از کم 75 سے 80 فیصد آبادی میں قوتِ مدافعت پیدا کرنے کی صورت میں ہی وائرس کا خاتمہ ممکن ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اگر کسی شخص نے پہلی ویکسین کسی ایک کمپنی کی لگوائی ہے تو دوسری ویکسین بھی اسی کمپنی کی لگوانی ہوگی، اگر وہ دوسری ویکسین کسی اور فارمولے (کمپنی) والی لگواتا ہے تو اس صورت میں بھی وائرس کے شکل تبدیل کرنے کا خطرہ موجود ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں اگر ڈاکٹر فیصل یا حکومتی بیانات اور پالیسیوں کو دیکھا جائے تو پاکستان کی اکثریتی آبادی، جو محنت کش طبقے پر مشتمل ہے، کا مستقبل کافی خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ کیا حکومت ”فوری طور پر“ ملنے والی 11 لاکھ ویکسینوں کو 21 دن کے وقفے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہزاروں افراد کو لگا پائے گی؟ اور اگر ساڑھے 4 کروڑ ویکسینیں COVAX کے تحت مزید مل جاتی ہیں،جس کے امکانات بھی اتنے واضح نہیں ہیں کیوں کہ امریکہ اور چین کے اس پروگرام میں کم فنڈنگ کرنے وجہ سے یہ پروگرام بذات خود کافی مشکلات کا شکار ہے، تو کیا پاکستانی ریاست یہ اہلیت رکھتی ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کر پائے؟۔ پاکستان کی آبادی 22 کروڑ سے زیادہ ہے اور ابھی تک ہمارے پاس کوئی 5 کروڑ کے قریب ویکسینیں آئی ہوں گی، یعنی ابھی بھی بہت بڑی تعداد میں مزید ویکسینیں درکار ہوں گی۔ یہ ویکسینیں ہمیں ملٹی نیشنل کمپنیوں سے خریدنا پڑیں گی۔ ان کے پیسے درکار ہوں گے، جو بقول حکومت کے ہمارے پاس ہیں نہیں۔ تو پھر کیا ہوگا؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ طاقتور طبقہ اس ویکسین کو باآسانی خرید لے گا اور غریب طبقہ پھر ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوگا اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔
منگل، 16 فروری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے