ایک روز قبل ہونے والے ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو پشین، سانگھڑ اور ملیر کے تینوں حلقوں میں انتخابات میں بری طرح شکست ہوئی ہے۔ حلقہ پی ایس 88 میں پی ٹی آئی تحریک لبیک سے بھی نیچے رہ گئی اور اس کو چوتھی پوزیشن نصیب ہوئی۔ پی ٹی آئی کو اتنے اہم حلقے میں سے صرف چار ہزار ووٹ پڑے جبکہ جیتنے والا امیدوار 24000 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہا جس سے فرق صاف نظر آتا ہے۔سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 43 سانگھڑ سے بھی پی ٹی آئی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے شکستِ فاش سے دوچار کردیا۔ پی پی پی امیدوار جام شیر علی نے میدان مار لیا۔ حلقے کے تمام تر 132 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی پی کے امیدوار جام شیر علی نے 48 ہزار 28 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ پی ٹی آئی کے مشتاق جونیجو 6 ہزار 925 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اور ایک مرتبہ پھر فرق واضح ہے کہ پی ٹی آئی کو کس مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہی صورتحال پشین کے حلقےمیں بھی دیکھنے کو ملی۔

ان انتخابات میں تحریک انصاف کی شکست نوشتہ تقدیر تھی بلکہ عین ممکن ہے کہ عمران خان صاحب خود بھی کہیں سے الیکشن لڑ رہے ہوتے تو انہیں شکست کا سامنا ہی کرنا پڑتا کیونکہ لوگوں کو ریاست مدینہ کی بہت اچھی طرح سمجھ آگئی ہے۔ وہ اچھی طرح جان گئے ہیں کہ عمران خان کی ریاست مدینہ اگر چند ساال اور چلتی رہی تو جو لوگ بھوک سے بچ گئے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کو نہروں میں پھینکنے اور اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس ریاست مدینہ میں ان کا جینا ہر آنے والے دن مشکل ہوتا جائے گا۔ سب سے بڑا مسئلہ جس کا عام آدمی کو سامنا ہے وہ مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں جن پر پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت تاحال قابو نہیں پاسکی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ایک مزدور سے لے کر مختلف کمپنیز کے سربراہان تک ہر شخص مہنگائی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت ملک بھر میں حکمران ہے لیکن تمام سرویز کے مطابق اس کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔ 2008 کے انتخابات کے بعد کچھ ایسی ہی صورتحال پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی دیکھی تھی جب پنجاب میں آخری دو سالوں میں اس کی مقبولیت زمین سے جا لگی تھی اور نتیجتاً 2013 کے انتخابات میں اس کا صوبے سے تقریباً صفایا ہو گیا تھا۔ تحریکِ انصاف ابھی اس نہج تک تو نہیں پہنچی لیکن حالیہ ٹرینڈز سے یہی ثابت ہو رہا ہے کہ عوام میں اس کا بیانیہ بکنا اب بند ہو چکا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخاب میں ابھی چند دن باقی ہیں لیکن اس دوران سندھ اور بلوچستان کے ضمنی انتخابات ہوئے ہیں اور یہاں سے آنے والے نتائج حکمران جماعت کی نیندیں حرام کرنے کے لئے کافی ہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ ضمنی انتخاب ایک دو حلقوں کا مقابلہ ہوتا ہے اور اس کی بنیاد پر ملک بھر کی صورتحال کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ لیکن یہ نتائج یقیناً ایک عام آدمی کی سوچ کا پتہ دینے کے لئے کافی ہیں جب جیتنے والے امیدوار کو عام انتخابات کی نسبت زیادہ ووٹ مل رہے ہیں۔حکمران اتحاد میں شامل PTI اور BAP کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ اگر اسی قسم کی صورتحال پنجاب میں بھی دیکھنے میں آئی جہاں مسلم لیگ نواز کی دو سابقہ جیتی ہوئی نشستوں پر اس کا مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس بار مل کر انتخابات لڑ رہی ہیں اور حال ہی میں مریم نواز ڈسکہ گئیں تو یہاں سٹیج پر ان کے ساتھ مسلم لیگ نواز کی قیادت ہی نہیں عوامی نیشنل پارٹی کے افتخار حسین اور پیپلز پارٹی کے قمر الزماں کائرہ بھی موجود تھے۔ یہ انتخابات مستقبل کی انتخابی مہم کا ایک نقشہ بھی پیش کر رہے ہیں جہاں اسٹبلشمنٹ کی B ٹیم سمجھی جانے والی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف PDM کی جماعتیں مل کر الیکشن لڑیں گی۔

19 فروری کو قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 75 سیالکوٹ اور این اے 45 کرم اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 51 گوجرانوالہ اور کے پی کے کے حلقہ پی کے 63 نوشہرہ میں پولنگ 19 فروری ہوگی۔ ان حلقوں میں انتخابات تحریک انصاف کے مستقبل کا پتا دیں گے۔ یہ انتخاب پاکستان جمہوری تحریک میں شامل جماعتیں مل کر لڑیں گی اور خان صاحب کی بھی بھرپور کوشش ہوگی کہ ان سیٹوں پر کامیابی حاصل کریں مگر شاید ہی وہ ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرپائیں ۔ اگر انتخابات شفاف ہوئے تو پاکستان تحریک انصاف یقینی طور پر خاک چاٹے کی کیونکہ اس وقت عام آدمی پاکستان تحریک انصاف کا نام بھی نہیں سننا چاہتا۔ عمران خان کے تمام تر جھوٹے وعدوں کی قلعی کھل چکی ہے اور لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس گئے ہیں۔ اگر ان دو حلقوں میں بھی تحریک انصاف کو شکست ہوتی ہے تو پھر عمران خان صاحب کو عزت سے وزارت عظمی کے منصب کو خیرباد کہہ دیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا۔

جمعرات، 18 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے