گوئٹے مالا کی خانہ جنگی کا اختتام 1996 میں ہوا تاہم ملک کی مقامی آبادی پر اس کے اثرات ابھی تک جاری ہیں ۔ یہ مقامی آبادی کسی بھی دوسرے  سیاسی یا نسلی گروہ کی نسبت سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔2019 کے اواخر میں یروشلم میں مقیم انسانی حقوق کے ایک کارکن آئتے میک نے اسرائیل کے چیف پراسئکیوٹر سے اس خانہ جنگی میں اسرائیل کے کردار کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کئی دہائیوں سے جاری اس خانہ جنگی میں دو لاکھ سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے۔

تاہم اسرائیلی پرواسیکیوٹر کی تحقیقات کا عمل اس وقت رک گیا جب ملک کی وزارت دفاع نے اس ضمن میں دستاویزات کی فراہمی سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان دستاویزات میں حساس معلومات ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے اسرائیل کے گوئٹےمالا کے دائیں بازو کے جرنیلوں کے ساتھ غیر قانونی تعلقات استوار ہیں۔ ڈیوڈ روزن جو کہ ریاست کے پراسیکیوٹر  آفس میں محتسب کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ، کا کہنا تھا کہ جب کوئی شہری کسی عوامی عہدیدار سے درخواست کرتا ہے تو اسے اس درخواست  کے حوالے سےجواب کے لیے مہینوں انتظار نہیں کرنا پڑتا۔اور یہ تاخیر اسی صورت میں ہوتی ہے جب وہ عوامی عہدیدار اس مسئلے کی اہمیت سے پوری  طرح آگاہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ وزارت  دفاع اس معاملے میں تاخیری حربوں سے کام لے رپی ہے۔

ماپرین کے مطابق گوئٹے مالا کے انتہا پسند جرنیل فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات سے اس قدر متاثر تھے کہ انہوں نے ملک کی مقامی باغی مایا آبادی کے خلاف وہی بربریت زدہ حربے آزمائے جو اسرائیل نے فلسطینیوں پر آزمائے تھے اور قومیت کے نام پر مایا آبادی پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے۔

نسل کشی اور آمریت

گوئٹے مالا میں 1980 کے اوائل میں جنرل جوزے عفرین ریوس مونٹ فوج کے جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے  1982 میں مارشل لاء کے ذریعے وہ اقتدار میں آگئے ان کی پشت پر اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن تھے۔ جنرل جوزےنے ایک گاؤں دوس ایرس میں قتل عام کروایا جس میں صرف چار لوگ زندہ بچے۔ 1990 میں اقوام متحدہ کے قائم کردہ ٹروتھ اینڈ انوسٹی گیٹو کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گاوں کے مناظر سے اکٹھے ہونے والےشواہدمیں شامل گولیوں کے خول گلیل رایفل کے ہیں  جو کہ اسرائیل میں تیار کیے گئے تھے۔

مونٹ اپنی فوج کی ٹریننگ کے لیے بھی اسرائیل کے شکرگزار تھے کیونکہ اس تربیت کی وجہ سے وہ اقتدار پرایک کامیاب شب خون مارنے میں کامیاب ہوئے تھے اور مایا قوم کی نسل کشی میں بھی اس تربیت کا سب سےاہم کردار تھا۔ماہرین نے بتایا کہ جس وقت فوج نے اقتدار پر شب خون مارا اس وقت 300 اسرائیلی ایڈوائزر گوئٹے مالا میں موجود تھے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ گوئٹے مالا میں اسرائیلی انٹلی جنس ٹیم، سیکورٹی اور کمیونیکیشن ماہرین اور فوجی تربیت کے لیے عہدیداران ایک طویل عرصہ موجود رہے۔

ملک کی مایا آبادی کے خلاف مونٹ کی ظالمانہ مہم بالکل اسی طرز کی تھی جس طرز کی فلسطین کے خلاف اسرائیلی پالیسیاں تھیں۔ مونٹ کی گن اینڈ بینز مہم کا لب لباب یہ تھا کہ ” اگر تم ہمارے ساتھ ہوتو ہم تمہیں کھلائیں گے اور اگر ساتھ نہیں ہوتو تمہیں قتل کر دیں گے” اور یہ پالیسی نتین یاہو کے ڈیل آف دی سنچری منصوبے کی طرز کی ہے جو انہوں نے فلسطینیوں کے لیے معاشی امن منصوبے کے نام سے بنایا تھا۔  اس منصوبے کے تحت ان فلسطینیوں کو معاشی فوائد کی پیش کش کی جائے گی جو مقبوضہ سرزمینوں پر بین الاقوامی قوانین کے تحت زمین کے دعوے سے دستبردار ہوجائیں گے۔

بالاخر 2012 میں مونٹ کو انسانیت کے خلاف انسانیت سوز جرائم اور مایا قوم کی نسل کشی پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تاہم پارلیمانی استثنا حاصل ہونے کی وجہ سے وہ پھانسی کی سزا سے بچ گئے اور بڑھاپےکی وجہ سے ان کو جیل بھی بھیجا گیا۔ بین الاقوامی عدالت برائے جنگی جرائم آئی سی سی اب فلسطینیوں کے خلاف کے جنگی جرائم پر نتین یاہو پر مقدمہ چلانے کا سوچ رہی ہے ۔ گوئٹے مالا اور اسرائیل کے تعلقات سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہے بلکہ اس نے گوئٹے مالا میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوجی جنریلوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین گہرے تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2018 میں امریکہ کے بعد گوئٹے مالا وہ واحد ملک تھ جس نے اپنا سفارت خانہ تیل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا تھا۔

گوئٹے مالا کے دائیں بازو کے صدر صدر جمی موریلس نے کہا تھا کہ  گوئٹے مالا اسرائیل کا دیرینہ دوست ہے۔ گوئٹے مالا کے نئے صدر صدر آلجاندرو جیاماتی نے ۔ گذشتہ ماہ دسمبر کے اوائل میں اسرائیل کا دورہ کرنے کے موقع پر کہا تھا کہ "صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ سب سے پہلے گوئٹے مالا کی سیکورٹی کونسل کے ذریعے لبنانی حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیں گے”اس طرح گوئٹے مالا اُن متعدد ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو اس ایرانی نواز لبنانی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دے چکے ہیں۔ گوئٹے مالا تاریخی طور پر اسرائیل کا حلیف ہے  اور اس بات کا برملا اعتراف گوئٹے مالا کے تمام صدور کر چکے ہیں۔

جمعتہ المبارک، 19 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے