ضمنی انتخابات کا عمل جاری ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی نے جو بویا ہے وہ کاٹنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ اڑھائی سال میں تحریک انصاف کی حکومت نے کون سا ستم عوام پر روا نہیں رکھا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔   سال کے آغاز میں ہی یکے بعد دیگرے کئی مرتبہ پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر حکومتی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا۔ مہنگائی کا عفریت جو پہلے ہی بے قابو ہوا جاتا تھا، اب بالکل ہی ہاتھ سے نکل گیا۔ لوگوں کی زندگیاں محال کرنے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف لیکن ضمنی انتخابات میں گئی تو عوام نے بھی پورا پورا حساب برابر کیا۔ پہلے تو بلوچستان اور سندھ میں تین نشستوں پر انتخابات ہوئے تو سندھ کی دونوں نشستوں سے ملا کر PTI بمشکل 10 ہزار ووٹ ہی لے پائی۔ جس حلقے سے 16 ہزار ووٹوں سے ہاری تھی وہاں سے 40 ہزار ووٹوں سے ہاری اور جہاں چھ ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی تھی وہاں چھ ہزار ووٹ بھی نہ لے پائی۔

یہی حالت اس کو اپنے شہر نوشہرہ میں دیکھنا پڑی جہاں پی کے 63 کے حلقہ سے 2013  اور 2018 کے عام انتخابات  میں  تحریک انصاف واضح مارجن سے جیت گئی تھی تاہم حالیہ ضمنی انتخابات میں اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ یہ حلقہ انہی پرویز خٹک صاحب کا ہے جن کا کہنا تھا کہ وہ چاہیں تو ایک دن میں حکومت گرا سکتے ہیں مگر حالت یہ ہے کہ اپنے حلقے سے ایک سیٹ تک نہ جیت سکے۔ دوسری طرف وزیر آباد PP-51 پر مسلم لیگ نواز کی امیدوار بیگم سلطان محمود نے PTI کے امیدوار کو شکست دی۔ یہاں بھی کئی لیگی کارکنان کی رات گئے گرفتاریاں کی گئیں۔ اس حلقے سے الیکشن کمیشن کا ایک اہلکار ووٹوں سے بھرا ایک تھیلا بھی چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ ایک پولنگ سٹیشن پر تو 600 ووٹ ڈالے گئے اور نکلے 852۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب پہلی بار ہوا ہے۔ ماضی میں ن لیگ خود بھی اس قسم کی کارروائیوں کے لئے مشہور رہی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ ن لیگ یہ سب حربے استعمال کرنے کے بعد جیت ضرور جاتی تھی۔ PTI گندی بھی ہوئی اور الیکشن بھی ہار گئی۔

یہ تو چلیں وہ حلقے تھے جہاں انتخابات کے نتائج سامنے آگئے تاہم سب سے بڑا مسئلہ ڈسکہ میں دیکھنے کو آیا جہاں تاحال نتائج سامنے ہی نہیں آسکے اور  مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار نے ایک بیان میں کہا کہ ڈسکہ میں ن لیگ نے کھلے عام دھاندلی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس پولنگ سٹیششن کا نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا کیونکہ ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزامات اور ’23 لاپتہ پریزائیڈنگ افسران’ کے کئی گھنٹوں تک ’غائب‘ رہنے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہفتے کو جاری کیے گئے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ 20 پولنگ سٹیشنز کے نتائج پر شبہ ہے لہذا مکمل انکوائری کے بغیر غیر حتمی نیتجہ جاری کرنا ممکن نہیں ہے اور یہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتی ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بتایا ہے کہ ڈی آر او اور آر او نے اطلاع دی ہے کہ این اے 75 کے 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں رد و بدل کا شبہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مکمل انکوائری کیئے بغیر این اے 75 کا نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں، ڈی آر او تفصیلی رپورٹ الیکشن کمیشن کو ارسال کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ این اے 75 کا نتیجہ روک دیا ہے، ڈی آر او اور آر او کو مکمل تحقیقات اور ذمے داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کر دی ہے

شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ لوگ بتاتے ہیں کہ ڈسکہ میں سفید لباس میں ملبوس افراد آئے اور ووٹوں کے تھیلے اور پریزائڈنگ افسران کو ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایسے الیکشن چوری ہوں تو ملک نہیں چلتے۔ وہ این اے 75 ڈسکہ کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پولنگ کے لیے اضافی وقت مانگا تھا لیکن کوئی اضافی وقت نہیں دیا گیا، ریٹرننگ آفیسر کوئی بات سننے کو تیار نہ تھے اور شدید دباؤ کا شکار تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حلقے کے 361 پولنگ اسٹیشنز میں سے 341 کا نتیجہ آ گیا ہے، 20 حلقوں کے نتائج نہیں آئے، 20 پولنگ اسٹیشن ریٹرننگ آفیسر کے دفتر سے 15 سے 20 کلو میٹر دور تھے جبکہ 20 پولنگ اسٹیشن کے پریزائیڈنگ آفیسر بھی لاپتہ ہو گئے، لوگ بتاتے ہیں کہ سویلین کپڑوں اور گاڑیوں میں لوگ آئے اور پریزائیڈنگ افسران اور تھیلے لے گئے، ان 20 پولنگ اسٹیشنز پر 88 فیصد پولنگ ہوئی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کو چوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انتخابات میں فتح اور شکست کوئی بڑا معاملہ نہیں ہے اصل معاملہ یہ ہے کہ آپ کس طرح جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا۔ ایک طویل عرصے سے پاکستان کے جمہوری نظام پر وہی لوگ اور ان کے خاندان نسلوں سے قابض ہیں جو اس جمہوریت کے لیے زہر قاتل ثابت ہورہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف تبدیلی کے نعرے سے اقتدار میں آئی تھی تاہم ان کی تمام پر پارٹی میں وہی چہرے ہیں جنہوں نے ہمیشہ سے جمہوریت کا مذاق اڑایا ہے ۔ حالیہ ضمنی انتخابات اس کی واضح مثال ہیں کہ اس ملک میں آگے کیا ہونے والا ہے۔ اگر ضمنی انتخابات اس قدر پرتشدد اور دھانددلی سے بھرپورت تھے تو جنرل انتخابات کا کیا حال ہوگا؟

ہفتہ، 20 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے